myanmar_miltry

میانمار میں فوجی حکومت کیخلاف کیا ہو رہا ہے؟

EjazNews

غیر ملکی میڈیا کے مطابق مقامی لوگوں نے فوجی بغاوت کے خلاف تیزی سے ہتھیار اٹھانے شروع کردئیے ہیں۔ایک مقامی مانیٹرنگ گروپ کے مطابق میانمار میں فروری میں ہونے والی بغاوت کے بعد سے فسادات کا ماحول گرم ہے۔

بعض علاقوں میں شہریوں نے ریاستی انتظامیہ کونسل کا مقابلہ کرنے کے لیے عسکریت پسندوں پر مشتمل دفاعی محاذ تشکیل دی ہیں اور ان کے پاس چھوٹے شکار کی رائفل یا عارضی ہتھیاروں ہیں۔

وسطی ساگنگ کے علاقے میں شہریوں پر مشتمل دفاعی دستوں (عسکریت پسندوں) اور فوج کے مابین متعدد جھڑپوں کا مرکز رہا۔

علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ فوجی ٹرک ان کے علاقے میں داخل ہوئے اور جنگل کے نواحی گاوں پر فائرنگ کی تاکہ عسکریت پسندوں باہر نکلا جاسکے۔

غیر ملکی میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایک دیہاتی نے بتایا کہ ہم نے 26 بار توپ کی آوازیں سنی ہیں اور عسکریت پسندوں نے جوابی کارروائی کی کوشش کی لیکن وہ ان حملوں کو نہیں روک سکے
انہوں نے کہا کہ ان کا صرف ایک ہدف نہیں تھا، سڑک اور گاوں میں جس کو دیکھا سب کو گولی مار دی۔

یہ بھی پڑھیں:  امریکی افغانستان سے جاتے ہوئے اپنے زیر استعمال سب کچھ ناکارہ بنا گئے

انہوں نے مزید بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں عام شہری بھی شامل ہیں۔

لاشوں کو جمع کرنے میں مدد فراہم کرنے والے دفاعی فورس کے ایک رکن نے غیر ملکی میڈیا کو بتایا مقامی لوگوں نے ہفتہ تک انتظار کیا کہ وہ اپنے گھروں سے نکل کر ہلاکتوں کا اندازہ کرسکیں۔
انہوں نے کہا ہم نے پہلے 9 لاشیں برآمد کیں اور انہیں دفن کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایک اور ٹیم نے 8 مزید افراد کو اسی دن دفن کیا جبکہ اتوار کے روز مزید 8 لاشیں برآمد ہوئیں۔

اس ضمن میں ایک اور شخص نے تصدیق کی کہ میں نے دیکھا کہ زیادہ تر کے سروں میں گولی لگی ہے

فوج مخالف عوامی دستے کے ایک رکن نے بتایا کہ ڈیپین کے آس پاس سکیورٹی کی موجودگی میں اضافہ ہورہا ہے اور ہزاروں باشندے مزید فوجی کارروائی کے خوف سے محفوظ مقام پر نقل مکانی پر مجبور ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں