biden

امریکہ میں ایک بار پھر سزائے موت عارضی پابندی لگ گئی

EjazNews

امریکی اٹارنی جنرل نے وفاقی سطح پر سزائے موت پر عارضی طور پر پابندی لگا دی ہے، جبکہ اس معاملے کے طریقہ کار اور پالیسی کا جائزہ لیا جانا باقی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں دی گئی ریکارڈ موت کی سزاوں کے برعکس ہے۔

تاہم موجودہ صدر جو بائیڈن سزائے موت کے خلاف ہیں اور ان کے اقتدار سنبھالنے سے لے کر اب تک کسی کو موت کی سزا نہیں دی گئی۔

اٹارنی جنرل میرک گارلینڈ نے پابندی کے لیے لگائے گئے دو صفحات پر مشتمل فیصلے میں لکھا کہ ملک میں مسلسل سزائے موت کے عمل سے تشویش پائی جاتی ہے۔اس وقت تک کسی کو سزائے موت نہیں دی جائے گی جب تک محکمہ انصاف کی پالیسیوں اور طریقہ کار کا جائزہ نہیں لے لیا جاتا۔

اٹارنی جنرل کے مطابق محکمہ انصاف کو یہ بات یقینی بنانی چاہیے کہ فیڈرل کریمینل جسٹس سسٹم میں ہر کسی کو نہ صرف آئین و قانون کے مطابق حقوق ملیں، بلکہ شہریوں کو انسانیت کی بنیاد پر انصاف ملے۔

یہ بھی پڑھیں:  دنیا بھر میں کورونا کی صورتحال

امریکہ میں زیادہ تر موت کی سزائیں وفاقی حکومت کے بجائے ریاستوں نے دی ہیں۔

وفاقی سطح پر زیادہ تر منشیات کی سمگلنگ، دہشت گردی یا جاسوسی کے جرم میں سزائے موت دی جاتی ہے۔

امریکی حکومت نے 17 برس میں کسی کو سزائے موت نہیں دی تھی، لیکن جولائی 2020 سے ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کے اقتدار کے آخری ایام تک 13 قیدیوں کو موت کی سزا دی گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں