parliment-house

ہم اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے: آف دی کیمرہ بریفنگ

EjazNews

پارلیمنٹ میں قومی سلامتی کمیٹی کااجلاس ہوا،جس میں سیاسی وعسکری قیادت کی شرکت کی، وزیراعظم عمران خان اجلاس سے غائب رہے،اجلاس میں داخلی سکیورٹی،مقبوضہ کشمیر،افغان صورتحا ل پران کیمرہ بریفنگ دی گئی جبکہ امریکی فضائی اڈوں کے مبینہ مطالبے کابھی جائزہ لیاگیا۔ سپیکر اسدقیصرکی زیرصدارت اجلاس میں وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی ،وزیردفاع پرویزخٹک،وزیرداخلہ شیخ رشید، اپوزیشن لیڈرشہبازشریف،چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹوزرداری ،وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ، وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال ،آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ ، ڈی جی ISI لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید ،ڈی جی ISPRلیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار شریک ہوئے، ڈی جی ایم او، سیکریٹری دفاع و خارجہ نے اجلاس میں بریفنگ دی۔اجلاس سے قبل پارلیمنٹ ہاؤس کے تمام دروازے بندکر دیئے گئے،سکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کئے گئےاورہال کمیٹی روم میں تبدیل کردیاگیا جبکہ صرف متعلقہ افراد کوداخلے کی اجازت ملی۔

ذرائع کے مطابق اجلا س کامقصد موجودہ صورت حال میں پارلیمان بالخصوص اپوزیشن کو اعتماد میں لیناتھا،دریں اثناء شہبازشریف نے کہا آرمی چیف نے بھی سوالوں کے جواب دیئے،بریفنگ جامع اوراطمینان بخش تھی۔

سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت ہونے والے ان کیمرہ اجلاس میں کمیٹی کے 29 ارکان کے علاوہ وفاقی وزرااور اپوزیشن کے اہم رہنماؤں کو خصوصی طور پر اجلاس میں مدعو کیا گیاتھا، اس کارروئی کی تمام ریکارڈنگ سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر نگرانی سیل کی گئی ۔اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان نے شرکت نہیں کی۔

یہ بھی پڑھیں:  راولپنڈی رنگ روڈ منصوبہ وزیر اعظم کے علم میں کیسے آیا؟اور آزادانہ تحقیقات کیسے شروع ہوئیں؟

اجلاس میں وزیر خارجہ، وزیر دفاع، وزیر داخلہ اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری بھی شریک ہوئے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیراعلیٰ سندھ بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔اجلاس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اور ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار بھی شریک ہوئے جبکہ ڈی جی ایم او، سیکریٹری دفاع اور سیکریٹری خارجہ نے مختلف امور پر اجلاس کو بریفنگ دی۔

اجلاس میں افغان مفاہمتی عمل میں پیش رفت، پاکستان کے کردار، امریکہ کی جانب سے فضائی اڈوں کے مطالبے، پاک امریکہ تعلقات، مقبوضہ کشمیر کی صورت حال سے متعلق معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔حکام کے مطابق اجلاس کا مقصد موجودہ صورت حال میں پارلیمان بالخصوص اپوزیشن کو اعتماد میں لینا تھا۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں تمام دفاتر کو بند کر دیاگیاجبکہ سکیورٹی کے بھی انتہائی غیر معمولی انتظامات کیے گئے تھے ۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں اعلیٰ سیاسی و عسکری حکام کےسوا کسی کو جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔اعلیٰ سطح کا ان کیمرہ اجلاس قومی اسمبلی ہال میں ہوا جس کی وجہ سےہال کو کمیٹی روم میں تبدیل کیاگیا ۔

قومی اسمبلی ہال میں بریفنگ کے لیے بڑی سکرین بھی نصب کی گئی ۔وفاقی وزیر فواد چوہدری نے صحافی کے سوال پر کہا کہ یہ طے ہوا تھا کہ دفاعی اورقومی سلامتی کمیٹی کے ارکان شرکت کریں گے، سیاسی جماعتوں کے لیڈرز کو کہا گیا تھا کہ اپنے ممبران کوخود منتخب کریں جب کہ دفاعی اور خارجہ کمیٹی کے ارکان شرکت کریں گے۔دریں اثناءقومی سلامتی کے ان کیمرہ اجلاس کے دوران اپنے چیمبر میں آمد کے موقع پر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے قائد حزب اختلاف شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اجلاس میں سوال وجواب کا سیشن ہوا اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی ہمارے سوالات کے جواب دیئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  بدقسمتی سے کسی نے تعلیم پر زور نہیں دیا کیونکہ تعلیم کسی کی ترجیح ہی نہیں تھی:وزیراعظم

اجلاس میں بریفنگ جامع اور اچھی تھی تاہم اجلاس کی تفصیل نہیں بتاسکتا۔ شہباز شریف نے کہا کہ بہت سے ایشوز پر بریفنگ دی گئی،

خارجہ پالیسی اور داخلی صورتحال پر بریفنگ دی گئی، کشمیر اور افغانستان کی صورتحال پر بھی بریفنگ ہوئی، موجودہ صورتحال پر بریفنگ اطمینان بخش ہے۔صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ امریکا کو اڈے نہ دینے کے حوالے سے بیان پر کیا کہیں گے جس پر شہباز شریف نے جواب دیا کہ وہ تو آپ کو پتہ ہے۔ وزیراعظم کے اجلاس میں نہ آنے سے متعلق سوال پر اپوزیشن لیڈر نے صحافیوں کو کوئی جواب نہیں دیا۔

پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد ایک ٹی وی انٹرویو میں شیخ رشید نے کہا کہ آج قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بہت زبردست تھا۔ انہوں نے کہا کہ تمام معاملات پر بات ہوئی۔ ڈی جی آئی ایس آئی نے افغانستان، کشمیر اورعالمی امور پر بریفنگ دی۔ انہوں نے کہا کہ سوالوں کے جوابات آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے دئیے۔

یہ بھی پڑھیں:  الیکشن کمیشن کی جانب مارچ کریں گے: مریم اورنگ زیب؍ ان کے راستے میں رکاؤٹ نہیں بنیں گے :شیخ رشید

شیخ رشید احمد نے کہا کہ کبھی کسی پاکستانی کو غیر ملک کے حوالے نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انتہا پسندی پر عمران خان کی حکومت نے کوئی سپورٹ نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان نے کہا ہے کہ ہم اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہو گی کہ افغانستان میں حالات بہتر ہوں۔ انہوں ںے کہا کہ ہم خود کو دنیا سے الگ تھلگ نہیں کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم طورخم اور چمن بارڈرکو الیکٹرانک کرنے جا رہے ہیں۔بلوچستان میں ایسے لوگ موجود ہیں جو ملک دشمنی کا کردار ادا کر سکتے ہیں لیکن آئی ایس آئی کی اتنی تربیت ہو چکی ہے کہ یہ عناصر اب پنپ نہیں پائیں گے۔

شیخ رشید احمد نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں حال ہی میں بلوچستان اور کے پی کے بارڈرز پر گیا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ حالات اچھے ہیں تو تب ہی گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ افغان بارڈر 90 فیصد اور ایران بارڈر 50 فیصد تک سیل کر دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں