لیویز

70لیویز اہلکاروں کو کیوں معطل کیا گیا

EjazNews

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے 9 جون کو سرکاری اور نجی شعبے کے تمام ملازمین کے لیے کورونا وائرس کی ویکسین لازمی کردی تھی۔

اس کے تحت سرکاری ملازمین کو 30 جون تک مکمل طور پر ویکسین لگوانے کی ہدایت کی گئی تھی۔

رواں ماہ کے آغاز میں وزارت صحت نے ان افواہوں کی تردید کی تھی کہ حکومت ‘جبری طور پر ویکسین لگائے گی اور ویکسین لگانے سے انکار کی حوصلہ شکنی کے لیے کوئی منصوبہ زیر غور ہے۔

دوسری جانب الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا جارہا تھا کہ حکومت، ویکسی نیشن کا عمل تیز کرنے کے طریقوں پر غور کر رہی ہے لیکن وزارت صحت نے وضاحت کردی کہ جبری ویکسی نیشن پر غور نہیں کیا جارہا۔

افواہیں تھیں کہ حکومت ان لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا سوچ رہی ہے جنہوں نے ویکسین نہیں لگوائی، ان کی سمز بلاک کردی جائیں گی اور انہیں ریسٹورنٹس اور سرکاری دفاتر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:  وزیراعظم عمران خان جمعہ کو کراچی میں بڑے منصوبوں کا اعلان کریں گے:وزیر اطلاعات

تاہم وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے کچھ اقدامات نے ان افواہوں کو مزید تقویت اس وقت دی جب حکومت سندھ نے اعلان کیا کہ جو ملازمین ویکسین نہیں لگوائیں گے انہیں جولائی کی تنخواہ نہیں دی جائے گی۔

اسی طرح پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے جاری کردہ ایک سرکلر میں کہا گیا کہ کووِڈ رسک الاؤنس ان ملازمین کو نہیں دیا جائے گا جن کے پاس ویکسی نیشن کارڈ نہیں ہوگا۔

ڈپٹی کمشنر دکی نے لیویز اہلکاروں کو وائرس سے بچاؤ کی ویکسی نیشن کو یقینی بنانے کی ہدایت کی تھی۔

اسسٹنٹ کمشنر دکی حبیب بنگلزئی کی طرف سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق بار بار ہدایات کے باوجود 70 لیویز اہلکار مہلک وائرس سے بچاؤ کی ویکسین نہیں لگوا رہے تھے۔

انتظامیہ نے معطل اہلکاروں کی تنخواہیں بھی روک دیں۔

معطل اہلکاروں میں 2 نائب تحصیلدار، 3 حوالدار، ایک ایک مہرر، وائرلیس آپریٹر اور دیگر شامل ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں