Qurbani_aur_qurona

فی الحال یہ وبا کے دن ہیں، احتیاط کو خود پر لازم کرلیں

EjazNews

کہتے ہیں، زندگی خوش گوار اور ناخوشگوار حالات و اقعات کا مجموعہ ہے۔اچھے دن ہمیشہ نہیں رہتے، تو بُرے دن بھی گزر ہی جاتے ہیں۔ دنیا میں شاید ہی کو ئی ایساشخص ہو، جس نے کبھی نامساعد حالات، کٹھنائیوں، پریشانیوں کا سامنا نہ کیا ہو۔ کامیاب ترین انسان دشواریوں کا دریا عبور کرکے ہی کسی قابل بن پاتے ہیں۔

جس طرح ایک انسان مشکل حالات سے نبرد آزما ہوکر منزل تک پہنچتا ہے، بالکل اسی طرح قوموں کی پہچان بھی اُن کےاجتماعی رویوں سے ہوتی ہے۔ ویسے تو خیر سے ہماری سڑکیں، نظامِ ٹریفک،گلی، محلّوں میں پھیلا کچرا،پبلک ٹوائلٹس کی ابترحالت ہی ہمارے عمومی رویوں اور سوچ کی درست عکاسی کے لیے کافی ہیں، لیکن اس میں بھی کوئی دور ائے نہیں کہ ہم نے مِن حیث ا لقوم کئی بار انتہائی مشکل حالات کا سامنا انتہائی دلیری، ہمت و حوصلےاوریکجہتی و اتحاد سے بھی کیا ہےاور آج بھی ہمیں ایک کٹھن وقت کا سامنا ہے اور ہمیں ہی کیا، اس بار تو پوری دنیا ہی سخت مشکل میں گھری ہے۔ چاہے سپرپاور ہونے کے دعوے دار ممالک ہوں یا ہماری طرح ترقّی پذیر ممالک ،سب ایک ہی کشتی کے سوار ہیں، سب کا سامنا ’’کورونا‘‘ نامی طوفان سے ہےاور سب ہی اس سے نمٹ کربخیرو عافیت ساحل تک پہنچنا چاہتے ہیں۔

بڑی عید پر بڑی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے

جب 26 فروری 2020ء کو پاکستان میں کورونا کا پہلا کیس رپورٹ ہوا تو لوگوں نے اسے کچھ زیادہ سنجیدہ نہیں لیا، احتیاطی تدابیر اپنانا تو کُجا، کچھ لوگوں نے تو اسے مَن گھڑت کہانی، سازش اور نہ جانے کیا کیا قرار دے دیا۔ نتیجتاً ہر گزرتے دن کے ساتھ کورونا متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلاگیا، پھرایک کے بعد ایک اموات کی خبریں آنے لگیں ، تب کہیں جا کر پاکستانیوں نے کورونا کے حوالے سےکچھ سنجیدگی اختیار کی۔

یہ بھی پڑھیں:  وہ کیا حالات تھے جو ملک میں مارشل لاء پر منتج ہوئے

صوبائی حکومتوں کے ساتھ وفاقی حکومت کی جانب سے بھی لاک ڈاؤن کیا گیا، دفاتر کے اوقاتِ کار میں کمی لائی گئی، عوام کوبلا ضرورت گھروں سے نہ نکلنے کی بار بار تلقین کی جاتی رہی اور اب بھی کی جا رہی ہے۔

عید الاضحی کی آمد آمد ہے۔ ہمارا ایک ایسا مذہبی تہوار کہ جس میں پروردگار کی دو مخلوقات قربان کرنے اور قربان ہونے کے باہمی جذبے سے شریک ہوتی ہیں، توکورونا کے دنوں میں یہ قربانی کیسے ہو گی، کیا طریقۂ کار، لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا؟ یہ سوال حکومت سے بھی ہے ، معاشرے سے بھی،خواص سےبھی ہےاور عوام سے بھی۔ اس بار ہر عاقل و بالغ پر قربانی کے ساتھ ایک اور ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ اپنی ، اہلِ خانہ اور ارد گرد کے لوگوں کی حفاظت بھی یقینی بنانی ہے۔

سنّت ابراہیمیؑ پر توضرور عمل کریں، لیکن احتیاطی تدابیر کا خاص خیال رکھیںکہ حکومت اکیلےکچھ نہیں کر سکتی۔ اسی طرح تنہا عوام بھی کچھ نہیں کر سکتے۔ حکومت، طبّی عملےاور علما وغیرہ کی جانب سے عوام سے پُر زور اپیل کی جا رہی ہے کہ عیدِ قرباںکے موقعہ پر بے احتیاطی ہر گز نہ کریں، ورنہ عید الفطر سے بھی بد تر نتائج بر آمد ہو سکتے ہیں کہ عیدِ قرباں کے موقعے پر تو ویسے ہی منڈیوں میں خوب رش دیکھنے میں آتا ہے، گلی محلّوں میں بھی جگہ جگہ شامیانے لگائے جاتے ہیں، جانوروں کو دیکھنے والوں کا ہجوم لگا ہوتا ہے، جن میں پیش پیش بچّے ہی ہوتے ہیںاور کورونا سے سب سے زیادہ خطرہ بچّوں اور بزرگوں ہی کو ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ہماری تعلیم پر مغربی فکروتہذیب کے اثرات

’’وبائی ایام میں عید الاضحی کس طرح منانی چاہیے ، کس طرح کی احتیاط برتنی چاہیےاور کیا گوشت کے ذریعے بھی کورونا پھیل سکتا ہے؟‘‘یہ جاننا بہت ضروری ہے۔

’’اللہ پاک کا بے حد شُکر ہے کہ پاکستان میں کورونا کیسز میں کچھ کمی آنی شروع ہوئی ہے، مگرہر صوبے میں متاثرین کی تعداد الگ ہے ۔ اس لیے ابھی وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ سندھ میں زیادہ کمی آئی ہے یا پنجاب میں یا کسی اور صوبے میں۔ عید الاضحی بہت قریب ہےاور عید الفطر کی نسبت اس عید پر میل جول، روابط اور آنا جانا زیادہ ہوتا ہے، ہجوم زیادہ لگتا ہے، تو مَیں عوام النّاس سے یہ کہنا چاہوں گا کہ عیدِ قرباں پر،میٹھی عید کی غلطیاں دُہرانے سے گریز کریں۔ اُس عید پر کی جانے والی بے احتیاطی، غلطیوں اور کوتاہیوں کا خمیازہ ہم اب تک بھگت رہے ہیں، جب کہ اس میں تو ملنا جلنا بھی زیادہ نہیں ہوتا، لیکن اگر عید الاضحی پر سماجی فاصلے کا خیال نہیں رکھا گیا، ایس او پیز کو ہنسی مذاق میں اُڑایا گیا، بے احتیاطی برتی گئی تو اس کے خطرناک نتائج بر آمد ہوسکتے ہیں۔لہٰذا چاہے منڈی جانا ہو، قربانی کرنی ہو یا عزیز و اقارب ، ضرورت مندوں میں گوشت تقسیم کرنا ہو، گلوز اورماسک کا استعمال ہر گز نہ بھولیں۔ یاد رکھیں! کورونا وائرس ہاتھ، منہ اور ناک کے ذریعے ہمارے جسم میں داخل ہوتاہے، یہ ہلاکت خیز وائرس ہر کسی کے لیےجان لیوا ثابت نہیںہوتا، لیکن ہم یہ بھی وثوق سے نہیں کہہ سکتے کہ اس سےمتاثرکون سا شخص صحت یاب ہوگااور کون سانہیں، کس کی قوتِ مدافعت زیادہ ہے اور کس کی کم۔ کیا ضروری ہے کہ قربانی کا جانور خریدنے گھر کےچار، پانچ افراد، کئی کئی دوست ہی جائیں؟ کوشش کریں کہ بس گھر کے ایک دو افراد ہی خریداری کرلیں۔اسی طرح گوشت بانٹنے کے لیے بھی بچّوں یا بزرگوں کوہر گز ساتھ نہ لے جائیں، بلکہ زیادہ سے زیادہ بس دو افراد ہی باہر نکلیں۔علاوہ ازیں،صرف اس برس ہی نہیں، ہر برس ہی عید الاضحی کے موقعےپر خاص احتیاط برتنی چاہیے کہ ہر سال اس موقعے پرکانگو وائرس پھیلنے کا بھی خدشہ ہوتا ہے۔ یہ وائرس جانوروں میں پایا جاتا ہے اور کورونا ہی کی طرح ہاتھ، ناک اور منہ سے انسانی جسم میں داخل ہوتا ہے۔ اس لیے جو بھی منڈی جائے، اسے چاہیے کہ گھر آتے ہی فوراً نہائے اورپہنے ہوئے کپڑے دھوڈالے۔ کانگو وائرس جانور کے کان کے پیچھے یا کھال میں ہوتا ہے، تو کوشش کرنی چاہیے کہ قربانی کے بعدکھال کوعلیحدہ رکھیں اور پھر جہاں دینی ہے،جلد از جلد دے دیں۔ دوسری جانب، اس بات کا بھی خاص خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ جب کسی کے گھر سے کوئی حصّہ آئے تو گوشت لینے کے فوراً بعد ہاتھوں کو صابن یا ہینڈ واش سےاچھی طرح دھوئیں اور گوشت کو بھی خُوب اچھی طرح پکائیں ۔ یاد رکھیں! ہم میں سے کئی ڈاکٹرز صرف آپ لوگوں کی خاطر اپنے گھر والوں سے دُور ہیں، اسپتالوں میں کئی کئی گھنٹے ڈیوٹیز دے رہے ہیں تاکہ ہمارے لوگ جلداز جلد صحت یاب ہوجائیں، تو آپ لوگوں پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اپنا خیال خودبھی رکھیں۔ زندگی رہی، صحت رہی تو ہم سب پھر سےخوشیوں بھری، بے فکر عیدیں منائیں گے۔ بس فی الحال یہ وبا کے دن ہیں، توان میں احتیاط کو خود پر لازم کرلیں۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان اور بھارت کے درمیان عداوت قائم رہی، توکیا دونوں ایک دوسرے کو تباہ کر دیں گے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں