bilawal_parliment

بلاول اور شاہ محمود قریشی نے ایک دوسرے کے متعلق کیا کہا؟

EjazNews

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر کو مخاطب کرکے کہا کہ اگر آپ دھاندلی نہیں کرتے تو وزیر اعظم عمران خان کے پاس فنانس ترمیمی بل کی تحریک کے حق میں 172 ووٹ نہیں تھے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر آپ وقت نہ دیتے تو حکومت کے پاس فنانس ترمیمی بل کی تحریک منظور کرنے کے لیے مطلوبہ تعداد نہ ہوتی لیکن ‘اسپیکر صاحب! آپ نے ہم سے ہمارا حق چھینا ہے۔

انہوں نے اعتراض اٹھایا کہ ‘اپوزیشن کی ترمیم کو سنے بغیر ہی مسترد کردیا جائے اور وہ بھی ایک غیر منتخب شخص مسترد کردے، حکومت کو ترمیم مسترد کرنے کا جواز پیش کرنا چاہیے تھا۔

بلاول بھٹو نے سپیکر قومی اسمبلی کو ایک مرتبہ پھر مخاطب کرکے کہا کہ ‘آپ نے نہ صرف اس مرتبہ بلکہ مختلف مراحل میں پارلیمنٹ کے قواعد کی خلاف ورزی کی ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ یہ بجٹ سیشن ہر پاکستانی کے لیے باعث شرمندگی ہے۔

انہوں نے کہا کہ رولز کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی اپوزیشن کے چیلنج پر دو مرتبہ وائس آف ووٹ لے سکتا ہے لیکن تیسری مرتبہ تو ووٹوں کی گنتی ہی نہیں کی گئی، یہ جو ووٹ لیے گئے ہیں معاشی تباہی کا باعث بنیں گے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر آپ گنتی کروا دیتے تو اپوزیشن کے ریکارڈ میں آجاتا اور آخری مرتبہ ووٹ کی گنتی کو چیلنج کرنے کے لیے مجھے اٹھنا تھا لیکن بدقسمتی سے آپ چلے گئے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا کام ہی بجٹ کی مذمت کرنا ہے لیکن آپ نے ہمارے حق کا معمولی سا بھی تحفظ نہیں کیا کیونکہ ہم زیادہ توقع رکھتے ہیں کہ آپ اپنے منصب کے تقدس کو غیر جانبدار رکھیں۔

بلاول بھٹو زرداری کی تقریر کے بعد، جس میں قواعد کی بات کی گئی تھی، کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ آج اپوزیشن اراکین نے یکے بعد دیگرے سپیکر کی ذات کو نشانہ بنایا، ان کے طریقہ کار سے اختلاف ہوسکتا ہے جس پر ان کے چیمبر میں ملاقات کی جاتی ہے اسے تضحیک کا نشانہ نہیں بنایا جاتا۔

شاہ محمود قریشی نے چیئرمین پی پی پی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کن پارلیمانی روایات کی بات کرتے ہیں، سندھ میں جہاں آپ کی حکومت ہے وہاں قائد حزب اختلاف کو تقریر کرنے کا موقع نہیں دیا، سندھ کا وزیر خزانہ اختتامی تقریر کیے بغیر رخصت ہوجاتا ہے، کیا سندھ میں اپوزیشن لیڈر کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین بنایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:  نیا پاکستان سرٹیفکیٹ سے رقوم پاکستان منتقل کرنے سے اوورسیز پاکستانیوں کو بھی فائدہ ہوگا اورملک کوبھی:وزیراعظم

انہوں نے کہا کہ یہاں ہم سے تقاضے کیے جاتے ہیں، جمہوریت کا راگ الاپا جاتا ہے جبکہ سندھ میں قائمہ کمیٹیوں میں اپوزیشن کی نمائندگی ہی نہیں دی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ بجٹ پیش کرنے کے بعد اپوزیشن کو ان کے لیے مختص وقت سے زیادہ بولنے کا موقع دیا گیا جبکہ سندھ میں اپوزیشن کو بولنے کا موقع ہی نہیں دیا جارہا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آپ جو یہاں مطالبے کرتے ہیں بہتر ہوتا کہ یہ بتاتے کہ سندھ میں یہ مثال قائم کی گئی، آئینہ دکھاتے ہیں، دیکھتے نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے کٹ موشنز پیش کیے جن پر انہیں بات کرنے کا مکمل موقع دیا گیا اور جواب دیا گیا، ووٹ ہوا اب اس میں شکست ہوگئی تو اسے تسلیم کرلیں یہ بھی پارلیمانی روایت ہے۔

وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ چیئرمین پی پی پی کن پارلیمانی روایات کی بات کرتے ہیں؟ روایت تو یہ ہے کہ جب انہیں بات کرنے کا موقع دیا گیا تو بات کا جواب بھی سنیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ غل غپاڑہ شور شرابا کر کے ہمیں دبا دیں گے تو یہ نہیں ہوگا، اس ایوان کے ماحول کو بگاڑنے کی ابتدا اپوزیشن نے کی اگر وہ عمران خان کو اپنی تقریر کرنے دیتے تو یہ نوبت نہیں آتی۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عمران خان کو بات نہ کرنے دی گئی تو نہ بلاول اور نہ ہی شہباز شریف بات کریں گے، میٹھا میٹھا ہپ ہپ کڑوا کڑوا تھو تھو نہیں چلے گا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر آپ روایات پر عمل اور قواعد کی پیروی کرنا چاہتے ہیں تو ہم تیار ہیں لیکن اگر آپ ہمیں دبانا چاہیں گے تو ہم نہیں دبیں گے۔
شاہ محمود قریشی کی تقریر کے بعد بلاول بھٹو نے سپیکر قومی اسمبلی سے درخواست کی کہ انہیں ذاتی وضاحت کا موقع دیا جائے اور سپیکر سے اجازت ملنے پر انہوں نے کہا کہ جہاں جہاں میرا نام لیا گیا ہے میں جواب دوں گا۔

انہوں نے کہا کہ جتنا ہم ملتان کے فاضل رکن کو جانتے ہیں اتنا تو آپ بھی نہیں جانتے، ابھی عمران خان کو معلوم ہوجائے گا کہ یہ کیا چیز ہیں۔

چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ انہوں نے بار بار میرا نام لیا لیکن میں انہیں اتنی اہمیت نہیں دیتا کہ ان کا نام لوں اور اگر وہ وزیراعظم کی تقریر کروانا چاہتے تھے تو انہیں چاہیے تھا کہ احترام کے ساتھ میری بات سنتے۔

یہ بھی پڑھیں:  احتیاطی تدابیر کو زیادہ سختی سے اپنائیں اپنے اور اپنوں کیلئے

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہمارے پاس لودھراں سے بہت سی خبریں آرہی ہیں، مجھے بات مکمل کرنےدیں آپ اپنا آرڈر لے کر آئیں ورنہ میں یہاں ہوں عمران خان یہاں آئیں اور تقریر کریں میں دیکھتا ہوں کہ کیسےتقریر کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اراکین کو قواعد کی پاسداری کرنی پڑے گی ورنہ یہ ایوان نہیں چلے گا، فاضل رکن ملتان نے اس پارٹی پر تنقید کی جس نے انہیں وزیر خزانہ، صدر پنجاب بنایا تھا، آپ خان صاحب کو بتائیں کہ اس شخص کو پہچانیں۔

چیئرمین پی پی پی کا کہنا تھا کہ میں انہیں بچپن سے دیکھتے ہوئے آرہا ہوں میں نے انہیں جیے بھٹو کا نعرہ لگاتے ہوئے دیکھا ہے، اپنی وزارت بچانے کے لیے میں نے اس رکن کو ‘اگلی باری پھر زرداری کا نعرہ لگاتے دیکھا ہے اور اب آپ دیکھیں گے کہ وہ آپ کے وزیراعظم کے ساتھ کیا کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ وہ وزیر خارجہ ہیں جو کشمیر کے سودے میں ملوث ہیں، ایسے وقت میں کہ جب افغانستان سے امریکی انخلا ہورہا ہےتو پاکستان کی اسٹریٹیجک لوکیشن کی وجہ سے اس کے مرتب ہونے والے اثرات اور ہمارا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے لہٰذا وزیر خارجہ کو یہاں تقریر کرنے کے بجائے وزیراعظم کے لیے امریکی صدر جو بائیڈن کی فون کال کا بندوبست کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ملک کے لیے بے عزتی اور ہمارے لیے شرمندگی کا باعث ہے کہ ہمارا وزیراعظم اتنی اہمیت ہی نہیں رکھتا کہ اسے ایک فون کال کی جائے، وزیر خارجہ کو اپنی آواز سننے کا اتنا شوق ہے کہ وہ اس جماعت اور حکومت کے لیے خطرہ بننے والے ہیں۔

چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ فاضل رکن نے جنوبی پنجاب کے اتحاد کے ساتھ پی ٹی آئی کی انتخابی مہم چلائی تھی جس میں صوبہ دینے کا وعدہ کیا تھا، وہ سیکرٹریٹ دے کر اعلان کرچکے ہیں وہ آئندہ مرتبہ انتخابات میں حصہ ہی نہیں لیں گے کیوں کہ نہ وہ صوبہ دے سکے اور نہ اپنے علاقے میں چہرہ دکھانے کے قابل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبہ سندھ سے متعلق جو بات ہے وہ سندھ اسمبلی میں ہوگی، جب یہاں کے بندروں نے حملہ کرنے کی کوشش کی تو وہاں کے سپیکر نے کچھ اراکین پر پابندی لگادی لیکن اس کا کوئی فائدہ نہیں کیوں کہ وہ دلچسپی ہی نہیں رکھتے۔

یہ بھی پڑھیں:  تعلیمی ادارے 31مئی تک بند رہیں گے

ان کا کہنا تھا کہ جو کارٹونز آپ لے کر آئیں ہیں انہوں نے تاریخ رقم کی ہے ایک کٹھ پتلی نے ایک کٹ موش پیش نہیں کیا گیا جو ان کی سنجیدگی ظاہر کرتا ہے۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وزیراعظم کو آئی ایس آئی سے کہنا چاہیے کہ شاہ محمود قریشی کا فون ٹیپ کریں کیونکہ یہ جب ہمارے وزیر خارجہ تھے تو دنیا میں مہم چلاتے تھے کہ یوسف رضا گیلانی کی جگہ انہیں وزیراعظم بنادیا جائے، اسی وجہ سے انہیں وزارت سے بھی فارغ کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ فاضل رکن نے کہا کہ بجٹ اکثریت سے پاس ہوا وہ جھوٹ بول رہے ہیں جس پر سپیکر قومی اسمبلی نے وضاحت دیتے ہوئے بتایا کہ بجٹ کو تمام قواعد پر عمل کرتے ہوئے منظور کیا گیا۔

بلاول بھٹو کی بات کے بعد وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک مرتبہ پھر ایوان میں بات کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی کے قائد نے کہا ہے کہ یہ مجھے اچھی طرح جانتے ہیں تو میں بھی انہیں اس وقت سے جانتا ہوں جب یہ چھوٹے سے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں انہیں اس وقت سے جانتا ہوں جب کونے میں کھڑے ہو کو جھڑکیاں کھاتے تھے میں ان کو بھی جانتا ہوں ان کے بابا کو بھی جانتا ہو، یہ مجھے کیا جانتے ہوں گے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ پیپلز پارٹی کی بات کررہے ہیں، آپ بچے کو لکھی ہوئی 2، 4 پرچیاں پکڑا دیتے ہیں اور بچہ آکر آٹو پر آن ہوجاتا ہے، سوئچ آن ہوجاتا ہے آف ہوجاتا ہے ابھی کچھ وقت لگے گا بچے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم تھا کہ میری ایک تقریر سے بلاول اتنا پریشان ہوجائیں گے، یہ تو ابھی طفل مکتب لگتے ہیں ابھی تو بہت سفر طے کرنا ہے، یہ یوسف رضا گیلانی کی بات کررہے ہیں کم از کم انہیں مک مکا سے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر تو نہ بنایا ہوتا۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یہ سرکاری ووٹرز ہیں، یوسف رضا گیلانی آج اپوزیشن لیڈر بنے ہوئے ہیں، بلاول اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں انہیں اپنی اصلیت نظر آجائے گی، انہیں اپنا پتا چل جائے کہ کتنے پانی میں ہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا بچہ آج بہت پریشان ہوگیا ہے، میں بچے کی پریشانیوں میں مزید اضافہ نہیں کرنا چاہتا اور کہتا ہوں کہ چلو جانے دیا، پھر کبھی سہی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں