انتونیو گوتریس

بھارتی ‘بچوں کے خلاف پیلٹ گن کے استعمال کو ختم کرے:انتونیو گوتریس

EjazNews

اقوام متحدہ کے سربراہ نے یہ ریمارکس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ‘بچوں اور مسلح تصادم سے متعلق اپنی تازہ رپورٹ پر کھلی بحث کے دوران دئیے۔

اس رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ بھارت کس طرح بچوں کو سکیورٹی فورسز کے ساتھ جوڑ رہا ہے۔

اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جنگ زدہ علاقوں جیسے افغانستان، شام اور کانگو میں گزشتہ سال تقریباً 19 ہزار 300 نوجوانوں کی سنگین خلاف ورزیوں کا ارتکاب کیا گیا۔

انتونیو گوتریس نے عملی طور پر منعقدہ ایک اعلیٰ سطح کے مباحثے کے دوران کہا کہ ‘جنگ کے دوران بچوں کے حقوق کو نظر انداز کرنا حیران کن اور دل دہلا دینے والا ہے، اسکولوں اور ہسپتالوں کو حملوں کے لیے، لوٹ مار کے لیے تباہ کیا جاتا ہے یا فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے’۔بھارت کے بارے میں اس رپورٹ کے ایک باب میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سال مقبوضہ علاقے میں کُل 39 بچے (33 لڑکے، 6 لڑکیاں) تشدد سے متاثر ہوئے، ان میں سے 9 ہلاک اور 30 معذور ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں:  امریکہ کے بعداب فرانس بھی اسپیس فورس بنائے گا

پیلٹ گنوں سے کم از کم 11 بچے زخمی ہوئے، اس رپورٹ میں سکیورٹی فورسز اور نامعلوم مجرمان کی جانب سے تشدد، دھماکا خیز مواد سے ہونے والے زخمیوں، نامعلوم گروہوں اور بھارتی سیکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ، نامعلوم گروپس کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ اور دستی بم حملے، کراس فائر اور سرحد پار گولہ باری کے واقعات شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ ‘میں جموں و کشمیر میں بچوں کے خلاف سنگین خلاف ورزیوں سے پریشان ہوں اور (بھارتی) حکومت سے بچوں کی حفاظت کے لیے اقدامات کرنے کا مطالبہ کرتا ہوں۔

انہوں نے بھارتی حکومت پر زور دیا کہ وہ ‘بچوں کے خلاف پیلٹ گن کے استعمال کو ختم کرے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ بچوں کو کسی بھی طرح سے سکیورٹی فورسز سے نہ جوڑا جائے۔

انہوں نے نئی دہلی سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ سیف اسکولوں کے اعلامیے اور وینکوور کے اصولوں کی توثیق کرے جو طلبہ، اساتذہ، اسکولوں اور یونیورسٹیز کو مسلح تصادم کے بدترین اثرات سے بچانے کے لیے بین السرکاری عزم ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  سری لنکا میں 24گھنٹے کا کرفیو جبکہ جرمنی نے سماجی فاصلے کے تحت سکولوں کو دوبارہ کھول دیا ہے

سیکریٹری جنرل نے کہا کہ ‘مجھے بچوں کی گرفتاری اور تشدد اور سکولوں کے فوجی استعمال پر تشویش ہے۔

انہوں نے بھارت کو ‘حراست میں ہر طرح کے ناروا سلوک کو روکنے اور بچوں کی دیکھ بھال اور تحفظ کے قانون 2015 پر عمل درآمد کو یقینی بنانے اور غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے بچوں کے استعمال سے نمٹنے کے لیے زور دیا۔

اس رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ نے گزشتہ سال 4 ماہ تک بھارتی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے 7 اسکولوں کے استعمال کی تصدیق کی تھی۔
اس رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے چار بچوں کو مسلح گروپس سے وابستگی کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں