student

بہترین اور بدترین

EjazNews

آج مدرسے میں خوب گہما گہمی تھی۔ تمام طالب علم صاف ستھرے کپڑے پہن کر اور سر کے بال سنوار کر آئے ہوئے تھے۔ ان کے چہرے خوشی سے چمک رہے تھے۔ اس رونق کی وجہ یہ تھی کہ آج مدرسے میں اسناد تقسیم ہو رہی تھیں۔ مدرسے کے امتحان میں کمیاب ہونے والے طالب علموں کواگلی نشست میں بٹھایا گیاتھا۔ مہمان خصوصی کی آمد کے بعد تقریب کا آغاز ہوگیا۔ تلاوت قرآن مجید کے بعد نعت اور حدیث کا ترجمہ پیش کیا گیا۔ اس سے پہلے اسناد کی تقسیم شروع کی جاتی کہ ہال کی پچھلی نشستوں پر ہنگامہ آرائی کا شور اٹھا۔ تمام لوگ سٹیج سے نظر ہٹا کر پیچھے مڑ کر دیکھنے لگے۔ ہال کے حفاظتی اہلکاروں نے ہنگامہ آرائی کرنے والے لڑکوں کو پکڑا اور مدرسے کے ناظم اعلیٰ کے پاس لے آئے۔ ناظم اعلیٰ ان لڑکوں سے جھگڑے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے ایک دوسرے پر الزام تراشی شروع کر دی کہ انہوں نے ان سے بدتمیزی کی ہے اور سخت الفاظ بولے ہیں ۔ دوسرے لڑکے بھی شور مچانے لگے کہ انہوں نے کچھ نہیں کہا بلکہ یہ لڑکے ان کو دیکھ کر منہ بگاڑ کر دیکھ رہے تھے اور منہ ہی منہ میں ان کو برا بھلا کہہ رہے تھے۔ ناظم اعلیٰ نے تقریب کے بعد ملنے کا کہا اور تقریب دوبارہ شروع ہو گئی اور اسناد تقسیم کر کے تقریب ختم کر دی گئی۔ معزز مہمانوں کو رخصت کر کے ناظم اعلیٰ نے شور کرنے والے تمام لڑکوں کو اپنے کمرے میں بلا لیا اور کہا کہ جس کسی نے بھی ایک دوسرے کو برا بھلا کہا اور سوچا ہے اس نے نہایت بری حرکت کی ہے۔ یہ غیر اخلاقی بات ہے پھر انہوں نے بتایا کہ لقمان حکیم بہت اعلیٰ انسان تھے جب وہ پڑھ کر فارغ ہوئے تو ان کے استاد نے انہیں کہا کہ آج وہ بکرا ذبح کریں اور اس میں سے جو سب سے اچھی چیز سمجھو وہ ان کے پکا کر لے آئو۔

یہ بھی پڑھیں:  شہزادے قمر الزمان کی تلاش

لقمان حکیم نے بکرا ذبح کیا اور اس کی زبان اور دل کو خوب مزے دار مسالوں کے ساتھ بھون کر لے آئے اور استاد صاحب کے سامنے لا کر رکھ دئیے۔ استاد صاحب نے کھانا کھایا اور کھانے کی لذت کی خوب تعریف کی اور کہا کہ آج آپ آدھے کامیاب ہو گئے ہو۔ اگلے دن استاد صاحب نے لقمان حکیم کو دوبارہ کہا ’’برخودار!آج پھر ایک بکرا ذبح کرو اور اس میں سے جو سب سے بری چیز سمجھو وہ ہمارے لیے پکا کر لے آئو۔ لقمان حکیم گھر گئے اور بکرا ذبح کر کے اس کی بھی زبان اور دل کو چنا اور زبان کو میٹھا اور دل کو کڑوا پکا کر استاد صاحب کے پاس لے گئے ۔ استاد صاحب نے کھانے کے لیے لقمہ لیا اور بد مزہ کھانا پا کر پوچھا ’’برخوردار ! آج تم کیا چیز پکار کر لائے ہو جو اتنی بد مزہ ہے ؟۔ لقمان حکیم نے با ادب کھڑے ہو کر عرض کی ’’محترم !آج بھی وہی دل اور زبان پکا کر لایا ہوں۔ جن کا مزاج آپس میں نہیں ملتا۔ سب سے اچھی اور بری چیز دل اور زبان ہی ہیں‘‘۔استاد صاحب نے لقمان حکیم کا جواب سن کر کہا ’’شاباش برخوردار! آج تم پورے کامیاب ہو گئے ہو تم نے واقعی دونوں چیزوں کا درست چنائوکیا ہے۔ کیونکہ سچ مچ ایک جیسے دل اور زبان سے بڑھ کر کوئی نعمت لذیذ اور بہتر نہیں ہوتی پھر ان میں سے دل اور زبان ہی سب سے بری اوربد مزہ چیز ہے۔ جس آدمی کا دل اور زبان ایک ہو تو سب لوگ اس کی عزت کرتے ہیں جب سب لوگ خوش ہوں گے تو اللہ کریم بھی یقینا ان سے خوش ہو جائے گا۔ جس کو دنیا اچھی نہیں سمجھتی اللہ کریم بھی اس کو اچھا نہیں سمجھتا۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:  کمرہ نمبر 9

تمام لڑکوں نے ناظم اعلیٰ صاحب کی بات سنی تو بولے ہمیں معاف کرد یں۔ ہم دونوں غلطی پر تھے ۔ ہم ایک دوسرے سے معافی مانگتے ہیں۔ ہماری زبانوں نے جو کچھ کہا اور دل نے سوچا وہ سب اللہ تعالیٰ معاف فرمائے۔ ہم آئندہ ایسی حرکت نہ کرنے کا وعدہ کرتے ہیں۔

ناظم اعلیٰ نے تمام لڑکوں کو شاباش دی اور انہیں آئس کریم کھلانے کے لیے ساتھ لے گئے۔

اچھے بچو! دل اور زبان سب سے بہترین اور سب سے بدترین چیزیں ہیں۔ان کو ہمیشہ ایک دوسرے کے لیے بہترن ر کھنا چاہیے۔

کیٹاگری میں : بچے

اپنا تبصرہ بھیجیں