ashraf_ghani_with_jo_biden

امریکہ میں جو بائیڈین اور افغان صدر کے درمیان کیا اہم گفتگو ہوئی ہے؟

EjazNews

امریکی میڈیا کے مطابق افغان صدر اشرف غنی نے امریکی صدر جوبائیڈن سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی جس میں چیئرمین مصالحتی کمیشن عبداللہ عبداللہ بھی ساتھ تھے۔

جوبائیڈن اور افغان رہنماؤں نے امریکی انخلا اور اس کے بعد کی صورتحال پربات چیت کی جب کہ اس موقع پر امریکی صدرنے کہا کہ افغانوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہےکہ وہ کیا چاہتے ہیں، افغانستان کا مستقبل افغانوں ہی کے ہاتھ میں ہے۔

امریکی صدر نے زور دیا کہ بے حسی پر مبنی تشدد کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔

جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ امریکہ اور افغانستان کے درمیان پارٹنرشپ ختم نہیں ہورہی، یہ قائم رہےگی، افغانستان سے فوجیوں کا انخلا ہورہا ہے مگر فوجی اور اقتصادی تعاون ختم نہیں ہورہا۔امریکی اور نیٹو افواج 11 ستمبر کو افغانستان سے چلی جائیں گی تاہم افغانستان کیلئے مسلسل تعاون کا وعدہ کرتے ہیں۔

جوبائیڈن سے ملاقات میں صدر اشرف غنی نے افغانستان کی موجودہ صورتحال کا 1861 میں امریکہ کو درپیش صورتحال سے موازنہ کیا جب ابراہام لنکن خانہ جنگی روکنے کے لیے واشنگٹن آئے تھے ۔

یہ بھی پڑھیں:  دنیا جس آزمائش سے گزر رہی ہے اس میں الزام تراشی کی بجائے اتحاد کی ضرورت ہے
ashraf ghani
میڈیا کے اس سوال پر کہ طالبان 6 ماہ میں کابل پر قبضہ کرسکتے ہیں، افغان صدر مسکرائے اور کہا کہ ایسی کئی پیش گوئیاں پہلے بھی غلط ثابت ہوچکی ہیں۔

اشرف غنی نے کہا کہ افغانستان کی بھی ایسی ہی اپروچ ہے، امریکہ کی جانب سے افغانستان کو اس کے حال پرچھوڑنے سے متعلق بیانیہ غلط ہے، باہمی مفادات کے لیے امریکہ کے ساتھ نئی جامع پارٹنر شپ کا آغاز ہورہا ہے، اتحاد، آہنگی اور قومی مفادمیں قربانیوں کےلیے تیارہیں۔ دونوں افغان لیڈروں نے امریکی وزیردفاع لائیڈ آسٹن سے بھی ملاقات کی۔

میڈیا کے اس سوال پر کہ طالبان 6 ماہ میں کابل پر قبضہ کرسکتے ہیں، افغان صدر مسکرائے اور کہا کہ ایسی کئی پیش گوئیاں پہلے بھی غلط ثابت ہوچکی ہیں۔

افغان صدر امریکی ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پلوسی سے بھی ملے جب کہ سینیٹ میں اقلیتی پارٹی کے لیڈر مچ میکونیل نے پالیسی میں تبدیلی کامطالبہ کیا اورکہا کہ انخلا کامطلب افغان شراکت داروں کو خطرات سے نمٹنے کے لیے تنہا چھوڑنے کے مترادف ہے۔

ادھرطالبان نے کہا ہے کہ اگر امریکی فوجی افغانستان سے واپس نہ گئے تو ردعمل دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  اقوام متحدہ کی قندھار مسجد پر حملے کی مذمت ۔یونیسیف نے بچوں کی حالت زار سے خبردار کیا

طالبان ترجمان طالبان سہیل شاہین نے کہا کہ اگر 11 ستمبر 2021 تک امریکی فوجی افغانستان سے واپس نہیں جاتے تو یہ دوحہ میں ہونے والے امن معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی جس پر طالبان جنگجو سخت ردعمل دینے کا حق رکھتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں