imran_khan

طالبان کا کابل پر قبضہ ہوا تو اپنی سرحدیں بند کر دینگے:وزیراعظم عمران خان

EjazNews

وزیراعظم عمران خان نے امریکی جریدے نیو یارک ٹائمز کو انٹرویو دیا۔ یہ انٹرویو بڑی اہمیت کا حامل اس لحاظ سے بھی ہے کہ جب امریکیوں نے اپنا کوئی مفاد حاصل کرنا ہوتا ہے یا ان کا کوئی مفاد ہوتا ہے تو ان کا سارا میڈیا اس کام کے پیچھے پیچھے ہوتا ہے۔ امریکہ افغانستان سے اپنی فوجیں نکال رہا ہے اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے سب کو تشویش میں مبتلا کر رکھا جبکہ امریکہ پاکستان سے یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ پاکستان کو اپنی سرزمین استعمال کرنے دے۔

پاکستان نے ایک مرتبہ فوجی حکمران کے دور میں اپنی سرزمین امریکہ کے استعمال میں دی تھی جس کے نتیجے میں ایک بڑی تعداد میں پاکستانیوں نے اپنی جانیں گنوائیں ۔ 70ہزار جانیں اس امریکی لڑائی کی وجہ سے پاکستانیوں کی گئیں جو مالی نقصان ہوا وہ الگ سے ہے۔

اب امریکہ ایک مرتبہ پھر ہر طرح سے پاکستان پر زور دے رہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین انہیں استعمال کرنے دیں لیکن پاکستان اس سے صاف انکاری ہے۔
نیو یارک ٹائمز کو انٹرویوں دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ طالبان کا کابل پر قبضہ ہوا تو اپنی سرحدیں بند کردینگے ۔

یہ بھی پڑھیں:  کراچی کو کچرا شہر بنانے میں پلاسٹک کااہم ترین کردار ہے، دنیا بھر میں ایک سال میں پلاسٹک کی 480ارب بوتلوں کی خریدو فروخت ہوتی ہے

انہوں نے کہا کہ امریکہ چاہتا تھا پاکستان امداد کے بدلے ہر وہ کام کرے جو اسے کہے،پاکستانیوں کو لگتا ہے وہ واشنگٹن سے تعلقات کی بھاری قیمت ادا کرچکے،افغان مسئلے کا سیاسی حل نہ نکالا تو سول وار ہوگی،افغانستان میں ووٹ سے آنیولی حکومت کو تسلیم کرینگے، ہم نہیں چاہتے پھر لاکھوں مہاجرین پاکستان آجائیں ۔

انہوں نے کہا ہم چاہتے ہیں امریکی انخلا سے پہلے افغانستان کا سیاسی حل نکلے۔ پاکستان کابل میں عوامی ووٹ سے آنے والی حکومت کو تسلیم کرے گا۔

افغان حکومت کے ساتھ مستقل رابطے میں ہیں۔ ہم نہیں چاہتے ایک بار پھر لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان آ جائیں۔ طالبان کو کہہ رہے ہیں کہ وہ طاقت کے زور پر کابل فتح نہ کریں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے طالبان کو امریکہ کے ساتھ مذاکرات پر مجبور کیا تھا لیکن امریکہ نے انخلا کی تاریخ دی تو طالبان پر ہمارا کنٹرول ختم ہو گیا۔ ہم چاہتے ہیں امریکی انخلا سے پہلے افغانستان کا سیاسی حل نکل آئے۔وزیر اعظم نے پاک بھارت تعلقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی کا ہندوتوا کا نظریہ ہمارے اور اس کی راہ میں رکاوٹ ہے، میں نے تو حلف اٹھاتے ہی بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی بات کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:  سری لنکا نے 20رنز سے انگلینڈ کو پچھاڑ دیا

انہوں نے کہا کہ امریکہ چاہتا تھا پاکستان امداد کے بدلے ہر وہ کام کرے جو امریکہ کہے۔ امریکہ کی جنگ میں پاکستان کو 70 ہزار جانوں اور 150 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔

عمران خان نے مزید کہا کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ مہذب تعلقات کا خواہاں ہے، ہم ایک دوسرے کیساتھ تجارتی تعلقات بڑھانا چاہتے ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان مستقبل میں اعتماد اور مشترکہ مفادات پر مبنی تعلقات ہونے چاہئیں۔

پاکستان مستقبل میں امریکہ کےساتھ معاشی تعلقات چاہے گا۔انہوں نے کہا کہ دنیا کی دو بڑی مارکیٹیں چین اور بھارت پاکستان کے ہمسایہ ہیں۔ ہم افغانستان کےراستے وسطی ایشیا تک رسائی چاہتے ہیں۔نائن الیون کے بعد پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ دیا۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان سےمزید کارروائی کا مطالبہ کرتا رہا جو پاکستان کے بس میں نہیں تھا،پاک امریکہ تعلقات امریکہ برطانیہ تعلقات کی طرح چاہتے ہیں، افغان جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے سے پاکستانیوں کا جانی نقصان ہوا، افغان جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے سے پاکستانیوں کا جانی ومالی نقصان ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:  پی ایس ایل لے کر آرہا ہے اپنے غیر ملکی مہمانوں کو

انہوں نے کہا کہ افغانستان کیلئے پاک امریکہ مقاصد ایک سے ہیں، پاکستان خطے میں اب بھی اسٹریٹیجک اہمیت رکھتا ہے، خطے میں ایک طرف بھارت اور دوسری طرف چین جیسی اقتصادی قوتیں موجود ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں