Indian_kashmiri

مودی من پسند کشمیری رہنمائوں کو بلا کر بھی اپنی مرضی کی بات نہیں کروا سکے

EjazNews

انڈیا کے وزیراعظم نریندرمودی نے مقبوضہ کشمیر پر بات چیت کے لیے کشمیری من پسند رہنمائوں کو آل پارٹی کے نام سے دہلی میں مدعو کیا جبکہ کشمیر یوں کے وہ رہنما جن کی ایک آواز پر لاکھوں کشمیری کھڑے ہو جاتے ہیں انہیں اس میٹنگ میں آنے کی دعوت ہی نہیں دی گئی۔ اگر ہم یہ کہیں کہ یہ میٹنگ دراصل ایک ایسی ٹیبل ٹاک ہے جس میں انڈین وزیراعظم نے اپنے من پسند لوگوں کو مدعو کیا ہے تو غلط نہ ہوگا۔

مودی نے کشمیر کے جن من پسند رہنمائوں کو بلایا تھا ان میں سے بھی چند نے یہ واضح کر دیا کہ کشمیری نریندر مودی کے اقدامات کی وجہ سے سخت ناراض ہیں اور شاید اس بات کا احساس انڈین گورنمنٹ کو بھی کسی حد تک ہو چکا ہے کہ اس کو اپنے اقدامات واپس لینے ہوں گے۔اس کی ایک جھلک محبوبہ مفتی کے بیان سے سامنے آتی ہے جن کا کہنا تھا 5اگست 2019ء سے جموں و کشمیر کے لوگ تکلیف میں ہیں۔محبوبہ مفتی کے اس بیان کے بعد متشدد ہندوئوں نے ان کیخلاف احتجاج بھی شروع کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  سسکتے نہتے 9بچوں سمیت 20فلسطینی شہید جبکہ زخمیوں کی تعداد ان گنت

محبوبہ مفتی نے انڈین میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انڈین حکومت کو معاملات کے حل کیلئے پاکستان سے بات چیت کرنی چاہئے۔

دوسری جانب تین گھنٹے جاری رہنے والی میٹنگ کے بعد رہنماؤں نے مودی کے 5اگست 2019ء کو کشمیر کی متنازعہ حیثیت ختم کر کے اپنا حصہ بنانے کی کوشش کی دبے لفظوں میں مذمت ہی کی ہے۔ مودی حکومت نے اپنے من پسند رہنمائوں کو تو بلا لیا لیکن وہ ان سے اپنا موقف بیان نہیں کروا سکے۔

ہندوستان ٹائمز کے مطابق کانگریس لیڈر غلام بنی آزاد نے کہا ہے کہ ہم نے میٹنگ میں پانچ مطالبات رکھے جن میں جلد ریاستی درجہ دینا، جمہوریت کی بحالی کے لیے اسمبلی کے انتخابات، جموں و کشمیر میں ہندو پنڈتوں کی دوبارہ آبادکاری، تمام سیاسی رہنماؤں کی جیل سے رہا کرنا اور ڈومیسائل رولز شامل ہیں۔

اجلاس کے بعد کشمیری رہنماؤں کے ساتھ میٹنگ کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے انڈین وزیراعظم مودی نے لکھا کہ جموں و کشمیر کے سیاسی رہنماؤں کے ساتھ میٹنگ ایک ترقی یافتہ اور ترقی پسند جموں و کشمیر کے لیے جاری کوششوں کے سلسلے کا اہم اقدام ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اوبر نے کریم 3.1 بلین میں خرید لی

سابق وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد نے کہا کہ پہلے ہم نے حصوں میں تقسیم کرنے پر غصے کا اظہار کیا، ہم نے کہا کہ پیش رفت ہونی چاہیے اور اس کے لیے ریاستی درجہ اور الیکشن ضروری ہیں۔ ہم نے کہا کہ ہمیں ضمانت چاہیے کہ زمین اور نوکریوں کا تحفظ کیا جائے گا۔

جموں کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ کا کہنا تھا کہ ریاستی حیثیت کی بحالی نئی دہلی کی جانب سے اعتماد کی بحالی کا پہلا قدم ہوگا۔

ہندوتوا پر یقین رکھنے والی انڈین حکومت کا اپنے حمایتیوں کے ساتھ بات چیت کرنا دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔

انڈین حکومت کشمیر میں اپنے ہی من پسند لوگوں سے بات کر رہی ہے ۔

پارلیمنٹری کمیٹی برائے کشمیر کے چیئرمین شہریار آفریدی نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کشمیر میں صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے اور مقبوضہ جموں و کشمیر سے زمینی حقائق حاصل کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  مسجد الحرام میں بال کاٹنے والوں کی پکڑ دھکڑ کیوں ہو رہی ہے؟

شہریار آفریدی کا کہنا تھا کہ یہ ایسی صورتحال ہے جس میں دہلی، دہلی سے بات کر رہی ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو کشمیر میں انڈیا کی گیم کھیل رہے ہیں، اور کشمیریوں کی اکثریت نے انہیں مسترد کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کی اصل نمائندہ جماعت حریت ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں