hasrat mohani1

مولانا حسرت موہانی

EjazNews

ترقّی پسند تحریک کے قافلہ سالار، سیّد سجّاد ظہیر نے ’’روشنائی‘‘ میں حسرتؔ کا ذکر یوں کیا ہے کہ’’ہمارے مُلک میں اگر کوئی ایسی ہستی تھی، جسے ہر قسم کے تکلّف، بناوٹ، مصنوعی اور رسمی آداب سے شدید نفرت تھی، اور جو اس بات کی پروا کیے بغیر کہ لوگ اس کی بات کا بُرا مانیں گے یا ناراض ہو جائیں گے، سچّی بات کہنے اور اس کے مطابق عمل کرنے سے کبھی نہیں جھجکتی تھی، تو وہ حسرتؔ موہانی کی ہستی تھی‘‘۔ یہ تو حسرتؔ کی راست گفتاری اور اعلیٰ کردار کی وہ غیر معمولی خوبی تھی کہ جس کی طرف سجّاد ظہیر نے اشارہ کیا ہے۔ اس سے ہٹ کر بھی حسرتؔ کی شخصیت میں بہت کچھ تھا۔ شاعر، ادیب، نقّاد، محقّق، تذکرہ نگار، صحافی، سیاست دان اور نہ جانے کیا کیا کچھ۔ مگر اب بھی حسرت ؔ کا تعارف پوری طرح نہیں ہو سکا ہے۔ وہ اسلام اور اشتراکیت پر بہ یک وقت عمل پیرا تھے۔ مثال کے طور پر اگر انہوں نے حج ادا کیے، تو اسی کے ساتھ کرشن جی کے جَشن کے سلسلے میں ہونے والی تقریبات میں بھی شرکت کی۔ حسرتؔ صحیح معنوں میں مجموعۂ اضداد اور قدیم و جدید کا امتزاج تھے۔

یوپی کے ضلع، اناؤ کی تحصیل، موہان کے بارے میں دو روایتیں ملتی ہیں۔ ایک یہ کہ اسے گزرے وقتوں میں موہن نام کے کسی جوگی نے بسایا تھا، تاہم اسے زیادہ مستند نہیں مانا جاتا۔ دوسری روایت، جو صحیح معلوم ہوتی ہے، یہ ہے کہ اسے امام موسیٰ کاظم کی اولاد میں سے ایک، حضرت سیّد محمد نیشا پوری نے آباد کیا تھا، جو نیشا پور، ایران میں واقع موہان نامی گائوں سے تعلق رکھتے تھے اور حسرتؔ اُن ہی بزرگ کی سولہویں پُشت سے بتائے جاتے ہیں۔ اس روایت کے دُرست ہونے میں شاید یوں بھی شک نہیں کیا جا سکتا کہ خود حسرتؔ نے ایک شعر میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ؎کیوں نہ ہوں اُردو میں حسرتؔ ہم نظیریؔ کی نظیر …ہے تعلق ہم کو آخر خاکِ نیشا پور سے۔ حسرتؔ کے والد، سیّد ازہر حَسن اور والدہ، شہر بانو تھیں۔ ان کے 4بیٹے اور 3بیٹیاں تھیں۔ ازہر حَسن اپنی وراثتی جائیداد کی دیکھ بھال کے سلسلے میں زیادہ تر موہان سے باہر رہا کرتے تھے۔ یہ وراثتی جائیداد دراصل تحصیل کھجوہ، ضلع فتح پور میں والدہ کی طرف سے ملنے والے تین گاؤں تھے۔ حسرتؔ کی پیدایش کے سال میں کچھ اختلاف پایا جاتا ہے، البتہ بیش تر روایات کے مطابق، اُن کی ولادت 1880ء میں موہان میں ہوئی اور اُن کا نام سیّد فضل الحسن رکھا گیا۔ حسرتؔ کا ننّھیال بارہ دری میں سکونت گزیں تھا۔ خوش حالی نے گھر کا راستہ دیکھ رکھا تھا، لہٰذا خواہشات کی تکمیل کسی خاص کارِ دُشوار کی حامل نہیں تھی۔ گھر کی فضا عمومی طور پر مذہبی تھی، جہاں صوم و صلوٰۃ کی پابندی عام سی بات تھی اور یوں حسرتؔ بھی ابتدا ہی سے احکامِ شریعہ پر کاربند ہو گئے۔ شاید یہ ہی سبب تھا کہ موہان میں حسرت کا گھرانہ ’’مولوی گھرانہ‘‘ کہلایا جانے لگا۔ نانا اتنے اچّھے پیراک کہ محلّے کے اکثر بچّے اُن سے پیراکی سیکھتے، چناں چہ حسرتؔ بھی کیوں کر پیچھے رہ سکتے تھے۔ پتنگ بازی شوق کی ایک اور دُنیا تھی اور انہوں نے اپنی دُنیا آپ اس طرح پیدا کی کہ محلّے کے تمام بچّوں نے حسرتؔ کو پتنگ بازی میں اُستاد مان لیا۔ ستار اور بِین بجانا بھی اُن ہی دِنوں کے شوق کا ایک اور میدان تھا۔ حسرتؔ کی والدہ اور نانی دونوں ہی اس حد تک زیورِ علم سے آراستہ تھیں کہ فارسی اور اُردو پر نہ صرف قدرت رکھتی تھیں، بلکہ شعری و ادبی ذوق بھی اعلیٰ پائے کا تھا۔ حکیم مومن خاں مومنؔ کے کلام کی دِل دادہ تھیں۔ چوں کہ ان ہی دو خواتین کی زیرِ تربیت و نگرانی حسرتؔ کا ابتدائی وقت گزرا، لہٰذا اُن میں بھی شعر و ادب سے دِل چسپی پیدا ہو گئی۔ اسی کے ساتھ ہی حسرتؔ کو جنگ و جدل سے پُر کہانیاں بھی بہت بھانے لگیں۔ یہ ساری وہ کہانیاں تھیں کہ جو حسرتؔ کو اُن کی نانی اور ماں سُنایا کرتیں۔ ان کہانیوں میں اس قسم کی باتیں بھی موجود ہوتیں کہ جن میں کہانیوں کے مرکزی کردار اپنی بات پر اَڑے رہتے اور اُسے منوا کر چھوڑتے۔ یوں حسرتؔ کے اند ر بھی یہ باتیں غیر محسوس طور پر مستحکم ہوتی چلی گئیں۔ اسی کے ساتھ طبیعت میں ذہانت اور شوخی بھی بدرجۂ اتم موجود تھی۔

اُس زمانے کے چلن اور رواج کے عین مطابق حسرتؔ کی تعلیم و تربیت کا سلسلہ بھی گھر سے شروع ہوا۔ نصاب کے مطابق عربی، فارسی درسیات اور اُردو اسباق کے لیے مختلف اساتذہ گھر آ کر تعلیم دیا کرتے۔ جو اساتذہ تعلیم دینے کے لیے آتے، وہ سب اپنے اخلاق و کردار اور اصولوں کی پاس داری کرنے والے بزرگ تھے اور ہمیشہ اپنے شاگردوں کو اچّھی باتوں کی تلقین کرتے۔ یوں تو کئی اساتذہ تھے، تاہم میاں جی بُلاقی اور مولوی اصغر علی کا درسِ تدریس و تلقین حسرتؔ کے دِل و دماغ پر نقش ہو گیا۔ بُلاقی بعض عادات میں بہت پُختہ تھے۔ اُن کی ایک خاص بات یہ تھی کہ وہ نہ صرف بدیسی یا غیر مُلکی کپڑے کا استعمال جانتے تھے، بلکہ ہمیشہ گھر کے بنے کپڑے زیبِ تن کرتے۔ حسرتؔ نے شرافت و متانت کازیادہ تر درس اپنے ان ہی استاد سے حاصل کیا۔ مولوی اصغر علی کی عادت یہ تھی کہ وہ ایک ہی رنگ کے کپڑے پہنا کرتے اور تدریس کے دوران شاگردوں کو اچّھی اچّھی باتیں چھوٹی چھوٹی مثالوں کے ذریعے بتاتے۔ یوں شاگردوں کے دل میں وہ باتیں گھر کر جاتیں۔ یہ شاید اُن ہی کی دی ہوئی تربیت کا اثر تھا کہ حسرتؔ نو عُمری ہی سے فروعِ دین پر صدقِ دل سے عمل پیرا ہو گئے۔ ان اساتذہ کی بہ دولت حسرتؔ نے جلد ہی نہ صرف قرآنِ پاک کی تکمیل کر لی، بلکہ انشائے ابوالفضل، بہارِ دانش، سکندر نامہ اور اخلاقِ محسنی جیسی کُتب بھی پڑھ ڈالیں۔ مدرسے کی تعلیم کے لیے اُنہیں فتح پور، ہسوہ کے اسکول میں داخل کروایا گیا۔ یہاں عربی و فارسی کے علاوہ انگریزی کی تعلیم بھی دی جاتی تھی۔ یہ حسرتؔ کے لیے ایک اچّھا موقع ثابت ہوا اور وہ مشرقی و مغربی تعلیم سے بہر وَر ہونے لگے۔ موہان کے قریب ایک دریا بہتا تھا اور وہاں کے مہا راجا نے لوگوں کی سہولت کی خاطر کسی گزرے وقت میں وہاں ایک پُل تعمیر کروایا تھا، جو شکستہ حالی کا شکار تھا۔ ضعیف الاعتقاد افراد کا خیال تھا کہ وہ پُل آسیب زدہ ہے۔ گاؤں کے نچلے طبقے کے لوگ، خصوصاً خواتین وہاں جمعرات کی رات مٹھائی نذر کرتیں۔ حسرتؔ کی نوعُمری تھی۔ سو، نڈر حسرتؔ اپنے چند دوستوں کو لے کر جمعرات کے جمعرات پُل پر پہنچ جاتے اور اطمینان سے مٹھائی نوش کرتے۔ یہی نہیں، بلکہ بچ جانے پر یہ کہہ کر گھر بھی لے جاتے کہ میلاد کی محفل میں تقسیم ہوئی ہے۔ اسکول ہی کے زمانے کا ایک واقعہ کچھ یوں ہے کہ جب مڈل کے امتحان کا وقت قریب آیا، تو حسرتؔ کو خیال ہوا کہ اپنی ذہانت آزمانے کے لیے یہ امتحان بہ یک وقت اُردو اور ہندی میں دو مختلف مقامات سے دیا جائے۔ یوں ایک امتحان ضلع کے اسکول سے اور دوسرا موہان سے ملحق جھلوتر سے دینے کا ارادہ کیا۔ جھلوتر کے سلسلے میں ایک دشواری یہ پیش آئی کہ کوئی ساتھ جانے والا طالبِ علم نہیں تھا، کیوں کہ سب مقامی اسکول سے امتحان دے رہے تھے۔ بالآخر اسکول کے ہیڈ ماسٹر، پنڈت لچھمی نرائن سے درخواست کی گئی۔ ہیڈ ماسٹر فوری طور پر یوں آمادہ ہو گئے کہ وہ حسرتؔ کو اُن کی ذہانت کی وجہ سے بہت پسند کرتے تھے۔ جب لچھمی نرائن شاگردوں کو شاعری پڑھاتے، تو حسرتؔ مسلّم الثّبوت اساتذہ کے اشعار کی تشریح کچھ اس انداز سے کرتے کہ خود استاد دنگ رہ جاتے۔ یوں وہ حسرتؔ کی ذات میں مستقبل کا ایک بڑا آدمی دیکھنے لگے۔ استاد اور شاگرد الگ الگ ڈولیوں میں بیٹھ کر اسکول پہنچے اور یوں حسرتؔ نے امتحان دیا۔ امتحان کا نتیجہ یہ آیا کہ حسرتؔ نے دونوں جگہ سے اوّل درجے میں اعزاز کے ساتھ کام یابی حاصل کی۔ حکومت کی جانب سے حسرتؔ کو وظیفہ عطا کیا گیا۔ ہیڈ ماسٹر، پنڈت لچھمی نرائن نے حسرتؔ کی والدہ کو پیغام بھیجا کہ آپ کا بیٹا نہایت ذہین ہے، چناں چہ نظرِ بد سے بچانے کے لیے اس کے ہاتھ میں نیلی ڈوری باندھ دیجیے۔ چوں کہ اُس وقت موہان میں مڈل سے آگے کی تعلیم کے لیے کوئی اسکول موجود نہ تھا، لہٰذا حسرتؔ کو 1893ء میں میٹرک کی تعلیم کے لیے فتح پور بھیج دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:  THE CONCEPTS OF NATIONALITY AND STATE IN ISLAM A REASSESSMENT

شاعری سے دِل چسپی کی چنگاری اب بڑھتے بڑھتے شعلے میں تبدیل ہو گئی تھی۔ حسرتؔ نے غزل کہی کہ؎ مَیں تو سمجھا تھا، قیامت ہو گئی…خیر پھر صاحب سلامت ہو گئی۔ فتح پور میں حسرتؔ نے کم و بیش 5برس گزارے۔ یہ عرصہ اُن کی زندگی میں بہت اہمیت کا حامل رہا۔ اس دوران جن شخصیات سے اُن کا میل جول رہا، اُن سب نے حسرتؔ کی آیندہ زندگی کو ایک ڈگر پر لانے میں اپنا اپنا کردار ادا کیا۔ اسکول کے ہیڈ ماسٹر، حافظ نیاز احمد تھے۔ ظہور الاسلام اور نور محمّد سے عربی زبان اور امیر محمّد خاں سے فارسی کے اسرار و رُموز حاصل کیے۔ امیر محمّد خاں اُردو کے ممتاز ادیب، نقّاد اور رسالہ،’’نگار‘‘ کے بانی، نیاز فتح پوری کے والد تھے۔ نور محمّد کی ایک خوبی یہ بھی تھی کہ وہ علمِ عروض کے بھی ماہر تھے۔ ان کی صحبت شعر و سُخن کے سلسلے میں حسرتؔ کے بہت کام آئی۔ ان تمام افراد و اشخاص کی صحبت ایک ایسے نوجوان کے لیے نعمتِ غیر مترقبہ ثابت ہوئی، جو آگے چل کر ادب و شعر اور سیاست و صحافت کی دُنیا میں نام پیدا کرنے کا خواہاں تھا۔ فتح پور میں حسرتؔ نے شعر و سُخن کی مستقل محفلیں آراستہ کرنے کی خاطر ایک انجمن بھی قائم کر لی، جس میں صاحبِ ذوق افراد کی شرکت رہتی۔ 1899ء میں حسرتؔ گورنمنٹ ہائی اسکول، فتح پور سے عربی، فارسی، اُردو اور ریاضی میں امتیازی شان کے ساتھ درجۂ اوّل میں کام یاب ہوئے اور ایک بار پھر سرکاری وظیفے کے مستحق قرار پائے۔ حسرتؔ کی کام یابی کی یہ خبر گزٹ میں شایع ہوئی۔ اُس زمانے میں علی گڑھ کالج میں ڈاکٹر ضیاء الدّین منطق اور فلسفے کے استاد کے طور پر تدریس کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ (بعد میں ڈاکٹر ضیاء الدّین کو ’’سر‘‘ کا خطاب ملا اور آگے چل کر ریاضی دانی میں اُنہیں بہت شہرت حاصل ہوئی)۔ انہوں نے حسرتؔ کو اعلیٰ تعلیم کے لیے علی گڑھ آنے کی دعوت دی۔ اندھا کیا چاہے، دو آنکھیں کے مصداق حسرتؔ بھی اس دعوت پر فوری طور پر آمنّا و صدّقنا کہنا چاہتے تھے، مگر والد، بیٹے کو خود سے جُدا کرنے پر آمادہ نہ تھے۔ اسی اثناء میں حسرتؔ کی شادی بھی انجام پا گئی۔ بیوی سمجھ دار اور پڑھی لکھی خاتون تھیں، لہٰذا وہ حسرتؔ کے سفرِ علی گڑھ میں مزاحم ہونے کے بجائے معاون ہوئیں اور یوں حسرت عازمِ علی گڑھ ہوئے۔

علی گڑھ کیا آئے کہ ذہنی اُفق، آفاق تک وسیع ہو چلا۔ یہاں کی دُنیا ہی اور تھی۔ ادبی، سیاسی و سماجی سطح پر ایک سے بڑھ کر ایک کام ہو رہا تھا۔ صحبتوں کا تو پوچھنا ہی کیا۔ سیّد سجّاد حیدر یلدرمؔ اور مولانا شوکت علی سے ہر وقت کا ملنا جُلنا رہتا۔ 1901ء میں حسرتؔ نے انٹرمیڈیٹ کے امتحان میں کام یابی حاصل کی۔ اب نوجوانی تھی اور حرارتِ زندگانی۔ سو، ایسا کام کرنے کا سوچا جانے لگا، جو طبیعت کی سیمابی کو کسی شادابی سے دو چار کر سکے۔ حسرتؔ نے 1903 ء میں ایک ادبی رسالہ، ’’اُردوئے مُعلّیٰ‘‘ جاری کیا۔ رسالے کے معاون کے طور پر اپنی شریکِ حیات کو علی گڑھ لے آئے۔ حسرتؔ کی اہلیہ نے اُن کے کاموں میں نہ صرف اُن کا ہاتھ بٹایا ،بلکہ زندگی کی کُلفتوں کو راحتوں میں بدلنے کے لیے کوئی لمحہ بھی ضایع نہ کیا۔ حسرتؔ کی اہلیہ کی دُور اندیشی اور وفا کیشی کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ خواجہ حسن نظامی نے اُنہیں ’’مشاہیرِ ہند‘‘ میں شمار کیا۔ ’’اُردوئے مُعلّیٰ‘‘ نامی رسالہ ادب کے ساتھ سیاسی حالات پر بھی کچھ نہ کچھ اظہارِ خیال کرتا۔ سیاسی اس سبب سے بھی کہ حسرتؔ عملی سیاست سے یک گونہ دِل چسپی محسوس کرنے لگے تھے۔ بال گنگا دھر تلک اور اربندو گھوش کے طرزِ سیاست سے لگاؤ پیدا ہو گیا۔ یہ کانگریس کا انتہا پسند گروہ کہلاتا تھا اور بات چیت کی بہ جائے احتجاج کے ذریعے اپنے مطالبات منوانے پر یقین رکھتا تھا۔ کالج کے سرکردہ انتظامی افراد کو حسرتؔ کا یہ انداز ایک نظر نہ بھایا اور پہلے تو اُنہیں متنبّہ کیا گیا کہ وہ اس روِش سے باز آ جائیں اور سیاسی طرزِ چلن سے دُور رہیں، مگر حسرتؔ کہاں باز آنے والے تھے۔ وہ اس کے جواب میں یوں گویا ہوئے کہ؎ مَیں غلبۂ اعدا سے ڈرا ہوں نہ ڈروں گا …یہ حوصلہ بخشا ہے مُجھے شیرِ خدا نے۔

یہ بھی پڑھیں:  خودکشی کے رجحانات کیوں بڑھ رہے ہیں؟

چناں چہ کالج انتظامیہ نے اُنہیں تین بار ہاسٹل سے نکالا۔ یہ سرگرمیاں ظاہر کر رہی تھیں کہ حسرتؔ میدانِ سیاست میں کسی انقلابی تبدیلی کے خواہاں تھے۔ اسی اثنا میں انہوں نے گریجویشن کا امتحان بھی پاس کر لیا۔ اُس زمانے میں گریجویٹ ہونے کا مطلب یہ تھا کہ ملازمت حاصل کرنے میں کچھ تگ و دو کے بعد کسی اچّھی جگہ پر تعیّنات ہو کر مستقبل کو شان دار اور پُر آسائش بنانا، مگر کہاں حسرتؔ اور کہاں پُر آسائش مستقبل۔1904 ء میں حسرتؔ نے پہلی بار کانگریس کے کسی اجلاس میں شرکت کی اور یوں باقاعدہ طور پر ایک سیاسی کارکُن کے طور پر کام کا آغاز کیا۔ گویا علی گڑھ میں تعلیم حاصل کرنے والا اور تعلیمی و صحافتی خدمات میں سر سیّد کا لوہا ماننے والا، سر سیّد کے انگریزوں کے سلسلے میں ظاہری کردار کی حمایت پر خود کو آمادہ نہ کر سکا۔ حسرتؔ کی کانگریس میں شمولیت کے محض 2برس ہی کے اندر ’’آل انڈیا مسلم لیگ‘‘ کا قیام بھی عمل میں آگیا۔ یہ 1906ء کا سال تھا۔ اب سیاسی فضا کچھ اور مخدوش ہو چلی تھی۔ حسرتؔ نے اس سیاسی رُخ کو بہت قریب سے دیکھا، مگر وہ اس جماعت کا ساتھ دینے پر خود کو آمادہ نہ کر سکے۔ اُن کی نظر میں مسلم لیگ ’’آغا خانی لیگ‘‘ تھی۔

1907 ء میں حسرتؔ موہانی کو قدرت نے ایک بیٹی ع

1914ء کے وسط میں حسرتؔ نے علی گڑھ ہی سے ایک سہ ماہی پرچہ، ’’تذکرۃ الشّعراء‘‘ کے نام سے جاری کیا، مگر حالات کی نیرنگیوں کے باعث اُس کے محض 5ہی شمارے شایع ہو سکے

طا کی۔ اُس کا نام انہوں نے نعیمہ رکھا۔ حسرتؔ اپنی بیٹی سے بے حد پیار کرتے ۔ وہ اُن کی زندگی میں بہار کا خوش گوار جھونکا ثابت ہوئی۔ یہی وہ سال بھی تھا کہ جب حسرتؔ نے کانگریس سے علیٰحدگی اختیار کر لی۔ اس پورے عرصے میں ’’اُردوئے مُعلّیٰ‘‘ بھی پابندی سے شایع ہوتا رہا۔ اس کے مضامین ادبی اور سیاسی دونوں عنوانات سے پڑھنے والوں کے دِل میں گھر کر چُکے تھے۔ حالاں کہ ’’اُردوئے مُعلّیٰ‘‘ سے پیش تر ’’تہذیب الاخلاق‘‘، ’’عصرِ جدید‘‘ اور ’’مخزن‘‘ جیسے معیاری پرچے اہلِ ہند سے داد و تحسین سمیٹ چُکے تھے۔

تاہم، حسرتؔ اس رسالے کی معرفت اپنی شناخت قائم کرنے میں پوری طرح کام یاب رہے۔1908 ء میں ایک واقعہ یہ پیش آیا کہ ’’اُردوئے مُعلّیٰ‘‘ نے مصری رہنما، مصطفیٰ کمال کی موت پر ایک خصوصی شمارہ شایع کیا۔ رسالے میں ’’مصر میں برطانیہ کی پالیسی‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون مصنّف کےنام کے بغیر شایع ہوا، جس میں انگریز حکومت کی حکمتِ عملی پر جارحانہ انداز میں تنقید کی گئی تھی۔ حکومت نے اس مضمون کے مندرجات کو ’’باغیانہ‘‘ قرار دیا اور یوں حسرتؔ کو بطورِ مدیر حراست میں لے کر غدّاری کا مقدّمہ قائم کر دیا۔ رسالہ چوں کہ علی گڑھ سے نکلتا تھا، لہٰذا سربرآوردہ افراد بھی اس صورتِ حال سے سخت پریشان ہو گئے۔ یہاں تک ہوا کہ نواب وقار الملک نے بھی حسرتؔ کو معتوب قرار دے ڈالا۔ حکومت نے کُتب خانہ اور پریس ضبط کر لیا۔ مقدّمہ چلا اور حسرت کو 2برس کی سزا مع 500 روپے جرمانہ سُنائی گئی۔ اہم ترین بات یہ تھی کہ وہ مضمون خود حسرتؔ کا تحریر کردہ نہ تھا اور وہ صاحبِ مضمون کی نشان دہی کر کے سزا سے بچ سکتے تھے، مگر وہ گفتار کے نہیں، کردار کے غازی تھے، چناں چہ کسی بھی قیمت پر انہوں نے مضمون نگار کا نام نہ بتایا اور سب کچھ خود پر جھیل لیا۔ زنداں میں حسرتؔ کو سخت مشقّت کا سامنا کرنا پڑا اور یہ مشقّت چکّی پیسنے کی تھی۔ تب ہی حسرتؔ کی زبان پر یہ شعر آیاکہ؎ ہے مشقِ سُخن جاری، چکّی کی مشقّت بھی …اِک طُرفہ تماشا ہے حسرتؔ کی طبیعت بھی۔

1909ء میں حسرتؔ درِ زنداں سے باہر آئے، تو ایک بار پھر ’’اُردوئے مُعلّیٰ‘‘ کے اجراء کی طرف متوجّہ ہوئے، مگر اب کوئی پریس، رسالہ چھاپنے کی ہمّت نہیں کر پا رہا تھا۔ سو حسرتؔ نے ’’اُردو پریس‘‘ کے نام سے خود اس کام کا آغاز کیا۔ شریکِ حیات اس سفر میں بھی شریک تھیں۔ دونوں مل کر پریس کے سارے کام خود انجام دیتے۔ حسرتؔ قیدِ بامشقّت کے بعد بہ جائے احتیاط پسندی کے، ایک جراتِ رندانہ کے ساتھ اپنے افکار کی ترویج کرنے لگے۔ اُن کا پائے استقلال، عزمِ بے مثال کی ایک جیتی جاگتی تصویر تھا۔ ہر چند کہ کچھ مصلحت پسندوں نے حسرتؔ سے کہا کہ اپنے قلم اور قدم کو تیز نہ کریں، مگر حسرتؔ کا بلند ارادہ سر بہ فلک پہاڑوں سے زیادہ تھا۔ ’’اُردوئے مُعلّیٰ‘‘ اپنی بے باک روِش پر گام زن رہا۔ اسی اثناء میں جنگِ طرابلس اور جنگِ بلقان (1911-13ء) نے ہندوستانی مسلمانوں کے احساسات کو شدید طور پر متاثر کر دیا تھا۔ حسرتؔ نے اپنے پرچے میں مسلمانانِ ہند سے مالی تعاون کی درخواست کی اور جمع ہونے والی رقم قسطنطنیہ روانہ کی۔ یہ سب معاملات حکومت کو سخت گراں گزر رہے تھے اور وہ حسرتؔ کے رسالے پر کڑی نظر رکھتے ہوئے کسی مناسب موقعے کی تلاش میں تھی۔ چناں چہ مئی 1913ء میں پرچے کے ایک مضمون کو خلافِ قانون قرار دیتے ہوئے حسرتؔ سے 3ہزار بہ طور زرِ ضمانت طلب کیے گئے، جس کی ادائیگی حسرتؔ جیسے درویش اور فقیر منش انسان سے کسی طور ممکن نہ تھی۔ سو پرچہ ایک بار پھر عتاب کا شکار ہو گیا۔ حسرتؔ نے بہ جائے ہمّت ہارنے کے ’’موہانی سودیشی اسٹور‘‘ کے نام سے رسل گنج، علی گڑھ میں قرض کی رقم سے ایک دُکان کھول لی، جہاں علاوہ سودیشی کپڑوں کے دیگر اشیاء بھی موجود ہوتیں۔ یوں حسرت غیر محسوس طور پرؔ اپنے استاد، بلاقی کے نقشِ قدم پر چل رہے تھے۔ حسرتؔ کی اس دُکان کا چرچا اس حد تک ہوا کہ اکبر الہ آبادی نے بھی اس پر اظہارِ خیال ضروری سمجھا۔؎ تھا دلِ حسرتؔ بھرا ارمان میں…ہم نے لکھ بھیجا انہیں موہان میں…بھائی صاحب رکھ دو تم اپنا قلم…ہاتھ میں لو اب تجارت کا عَلَم… ہو چُکی غیروں سے خویشی کی بہار…بس دکھاؤ اب سدیشی کی بہار۔ حسرتؔ کا سیاسی نظریہ بہت واضح تھا اور وہ یہ کہ انگریزوں سے آزادی کے لیے عملی جدوجہد کی جائے۔ 1913 ء ہی میں ’’مسجدِ کانپور‘‘ کا سانحہ رونما ہوا، جس میں بہت سی جانیں ضایع ہوئیں۔ ایک تحریک چلی، جس کے سربر آوردہ رہنماؤں میں حسرتؔ بھی شامل تھے۔ جوشؔ کی نظم’’مقتلِ کانپور‘‘ نے بھی لوگوں کے دلوں کو برما دیا تھا۔؎اے سیہ رُو،بے حیا،وحشی ،کمینے ،بدگمان… اے جبینِ ارض کے داغ،اے دَنی ہندوستان … تجھ پہ لعنت اے فرنگی کے غلامِ بے شعور …یہ فضائے صُلح پرور، یہ قتالِ کانپور۔

یہ بھی پڑھیں:  محترمہ فاطمہ جناح !زندگی بھر کشمیر کی سرگرم مجاہدہ رہیں

1914ء کے وسط میں حسرتؔ نے علی گڑھ ہی سے ایک سہ ماہی پرچہ، ’’تذکرۃ الشّعراء‘‘ کے نام سے جاری کیا، مگر حالات کی نیرنگیوں کے باعث اُس کے محض 5ہی شمارے شایع ہو سکے اور یوں 1915 ء میں اُسے بند کرنا پڑا۔1916 ء میں ہند کے مسلمانوں میں ’’آزاد یونی ورسٹی‘‘ کی تحریک کے سلسلے میں بھی بہت جوش و خروش تھا۔ حکومت نے جوہرؔ اور ابوالکلام آزاد کو حراست میں لیا، تو حسرتؔ آگے بڑھے، مگر اُنہیں بھی پابندِ سلاسل کر دیا گیا۔ اس مرتبہ کی قید و بند کسی ایک جگہ کی نہیں تھی، بلکہ علی گڑھ، للت پور، الہ آباد، جھانسی، پرتاب گڑھ، فیض آباد، لکھنٔو اور میرٹھ کے زندانوں کو حسرتؔ نے اپنے وجود سے زینت بخشی۔ انہوں نے اس عنوان سے یوں کلام کیا کہ؎کیا وہ اب نادم ہیں، اپنے جور کی روداد سے …لائے ہیں میرٹھ، جو آخر، مجھ کو فیض آباد سے۔ برطانوی حکومت حسرتؔ کی شُہرت سے خائف بھی تھی اور یہ بھی سمجھتی تھی کہ ہندوستان میں ہندو اور مسلمان دونوں کا حسرتؔ کو یکساں قدر کی نگاہ سے دیکھنا، خطرے سے کم نہیں۔ یوں حکومت نے دباؤ محسوس کرتے ہوئے حسرتؔ کو مشروط رہائی کی پیش کش کی، جسے حسرتؔ نے حقارت سے ٹُھکرا دیا۔ بالآخر مئی1918ء میں حسرتؔ سزا کی مدّت پوری ہونے پر رہا کیے گئے۔1919ء میں’’ جلیانوالہ باغ‘‘ کا سانحہ پیش آیا، جس میں جنرل ڈائر کی بربریّت کے ہاتھوں سیکڑوں ہندوستانیوں کو موت کی نیند سُلا دیا گیا۔ حسرتؔ کا برطانوی حکومت کے خلاف ردّعمل سخت ترین ہو چُکا تھا۔ حسرتؔ ہر اُس آدمی کے ساتھ تھے کہ جو انگریزوں سے آزادی کا طلب گار تھا اور ہر اُس رہنما کی آواز میں آواز ملانے کو تیار تھے کہ جو حُرّیت کی جنگ میں قافلہ سالار تھا۔ تاہم، وہ کسی بڑے سے بڑے رہنما سے بھی ببانگِ دہل اختلاف کرنا عین حق پرستی تصوّر کرتے، اگر وہ رہنما اُن کی دانست میں کسی مصلحت کا شکار دکھائی دیتا۔ یہ پورا عرصہ حسرتؔ نے ہندوستانی عوام کو سیاسی طور پر بیدار کرنے میں صرف کیا۔ جلسے، جلوس، کبھی کانگریس کے ہم نوا، تو کبھی مسلم لیگ پر فدا، تاآنکہ 1922ء میں ایک بار پھر داخلِ زنداں ہوئے اور سبب تھا، کانگریس کی خلافت کانفرنس اور مسلم لیگ کے جلسوں میں باغیانہ تقاریر۔ ایک بار پھر قیدِ با مشقّت کا سامنا کرنا پڑا۔

1924ء میں رہائی ملی اور 1925ء سے ایک بار پھر ’’اُردوئے مُعلّیٰ‘‘ کی طرف متوجّہ ہوئے۔ اسی سال کے آخر میں کانپور میں ’’آل انڈیا کمیونسٹ کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی، جس کی پُشت پر حسرتؔ موجود تھے۔ یہی وہ وقت بھی تھا کہ جب انہوں نے خود کو ’’مسلم اشتراکی‘‘ کہنا شروع کیا۔1928 ء میں ’’نہرو رپورٹ‘‘ پیش ہوئی، تو حسرتؔ نے اُس کی حمایت نہیں کی۔ اسی سال کے آخر میں انہوں نے کانپور سے روزنامہ’’ مستقبل‘‘ کا اجراء کیا۔1935 ء میں انہوں نے چند ہم خیال افراد کے ساتھ ’’آزاد پارٹی‘‘ کی بِنا ڈالی۔ تاہم، یہ سیاسی جماعت اُبھر نہ سکی۔ 1936ء میں ’’انجمنِ ترقی پسند مصنّفین‘‘ کا قیام عمل میں آیا۔ حسرتؔ لکھنٔو میں ہونے والی پہلی کانفرنس میں بہت جوش و جذبے سے نہ صرف شریک ہوئے، بلکہ اپنے مشوروں سے بھی نوازا۔1937ء میں حسرتؔ کی اہلیہ کا انتقال ہوا، جس کا اُنہیں اس حد تک صدمہ ہوا کہ ’’اُردوئے مُعلّیٰ‘‘ میں ایک طویل مضمون تحریر کیا۔1938 ء میں حسرتؔ نے اپنے خاندان کی ایک بیوہ خاتون سے نکاح کیا اور اگلے سال مغربی ممالک کے دورے پر گئے۔ 1939ء کا سال تھا کہ دوسری عالم گیر جنگ شروع ہو گئی اور حسرتؔ ایک طرح سے محصور ہو کر رہ گئے۔ وہاں پھنسے رہ کر بھی انہوں نے وقت ضایع نہیں کیا، بلکہ برطانوی سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں، ہاؤس آف کامنز کے جلسے میں تقریر کی اور وہاں ہندوستان کے ساتھ روا رکھے جانے والے مظالم سے انہیں آگاہ کیا۔ 1940ء سے 1947ء تک ہندوستان اپنی تاریخ کے سب سے پُر آشوب دَور سے گزرا۔ حسرتؔ ہر ہر محاذ پر سرگرم رہے۔ ہندوستان تقسیم ہوا، تو حسرتؔ نے وہاں رہنا ہی پسند کیا۔ مسلسل کام اور ضعیف العُمری کے باعث حسرتؔ کی صحت کو عوارض لاحق ہو گئے۔1950 ء میں انہوں نے اپنی زندگی کا آخری یعنی تیرہواں حج ادا کیا۔ اسی دوران، بیماری نے بڑھتے بڑھتے شدّت اختیار کی اور بالآخر 13مئی 1951ء کو ہندوستان کا حق شعار اور صاحبِ کردار شخص انتقال کر گیا۔

حسرتؔ کی تصنیفات و تالیفات ’’متروکاتِ سُخن‘‘، ’’معائبِ سُخن‘‘، ’’محاسنِ سُخن‘‘، ’’نوادرِ سُخن‘‘،’’نکاتِ سُخن‘‘،’’دیوانِ غالبؔ(اردو)مع شرح‘‘، ’’کلّیاتِ حسرتؔ‘‘، ’’قیدِ فرنگ‘‘، ’’مشاہداتِ زنداں‘‘ قاری کو ادب، سیاست اور صحافت کی کتنی ہی داستانیں سُناتی نظر آتی ہیں۔ ’’اُردو شاعری پر ایک نظر‘‘ کلیم الدّین احمد کی وہ تصنیف ہے، جس نے ایوانِ ادب میں اس لیے ہل چل مچا دی تھی کہ نقّاد نے اُردو شعراء میں سے بیش تر کو بیک جُنبشِ قلم مسترد کر دیا تھا۔ اگر ایک استثنیٰ عوامی شاعر، نظیرؔ اکبر آبادی کا تھا، تو دوسرا شاید حسرتؔ موہانی کا، جن کے لیے کلیم الدّین احمد کے کلماتِ تحسین کچھ یوں تھے کہ’’جن غزل گو شاعروں نے دَورِ حاضر میں انفرادی رنگ قائم کیا ہے، ان میں پہلا نام حسرتؔ موہانی کا ہے۔ وہ قدیم رنگ میں انفرادی شان حاصل کرتے ہیں۔ حسرتؔ صاحبِ طرز ہیں اور یہی خصوصیت انہیں دوسرے غزل گو شاعروں کے مقابلے میں امتیازی شان عطا کرتی ہے۔‘‘ذیل میں حسرتؔ موہانی کی شاعری کے چند نمونے پیش کیے جا رہے ہیں۔

خِرَد کا نام جنوں پڑ گیا،جنوں کا خِرَد…جو چاہے آپ کا حُسنِ کرشمہ ساز کرے… اذّیت،مصیبت، ملامت،بلائیں…اس اِک عشق میں، مَیں نے کیا کیا نہ دیکھا…ایسے بگڑے کہ پھر جفا بھی نہ کی …دشمنی کا بھی حق ادا نہ ہوا…دل میں کیا کیا ہوسِ دید بڑھائی نہ گئی…رُوبرو اُن کے مگر آنکھ اٹھائی نہ گئی…اے شوق کی بے باکی، وہ کیا تری خواہش تھی…جس پر انہیں غصّہ ہے،انکار بھی،حیرت بھی… اللہ رے جسمِ یار کی خوبی کہ خود بخود…رنگینیوں میں ڈُوب گیا پیرہن تمام…حُسنِ بے پروا کو خود بین و خود آرا کر دیا…کیا کیا مَیں نے کہ اظہارِ تمنّا کر دیا…خوف ہو اُن کو ،تو ہو حُسن کی بدنامی کا…ہم ہیں عاشق، ہمیں پروائے ملامت کیا ہے۔

بشکریہ روزنامہ جنگ سنڈے میگزین

اپنا تبصرہ بھیجیں