Parveez_elahi

اس ملاقات کے بعد سیاسی چہ میگوئیاں تو بنتی ہیں

EjazNews

سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین آصف زرداری اور حکومتی اتحادی و سربراہ مسلم لیگ (ق) چودھری پرویز الٰہی کے درمیان بلاول ہاؤس لاہور میں ون ٹو ون ملاقات ہوئی ۔ جس میں ملکی سیاسی صورت حال بالخصوص پنجاب کی سیاسی صورت حال زیر بحث آئی۔

ذرائع کے مطابق ملاقات میں سپیکرپنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی نے سابق صدر کی جبکہ آصف علی زرداری نے چودھری شجاعت حسین کی صحت کے متعلق دریافت کیا ۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ملاقات میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی موجودہ صورت حال بالخصوص میاں شہبازشریف کی رہائی کے بعد کی صورت حال پر بھی بات چیت کی گئی۔

ملاقات کے حوالے سے چودھری پرویز الٰہی کا کہنا ہے کہ آصف علی زرداری نے پنجاب میں سینیٹ کے بلامقابلہ انتخاب میں میرے کہنے پر جو تعاون کیا تھا اس پر میں ان کا شکریہ ادا کرنے گیا ۔میں تو زرداری صاحب سے ملنے کراچی جانا چاہتا تھا لیکن انہوں نے کہا کہ میں لاہور آوں گا تو ملاقات ہو گی۔

چوہدری پرویز الٰہی اور آصف علی زرداری کے درمیان ملاقات کا منظر

آصف زرداری سے پرویز الٰہی کی ملاقات پر سیاسی چہ مگوئیاں شروع سیاسی ہو گئیں ،سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ آصف علی زرداری کے لاہور میں ڈیرے ڈالنے اور ان کی چودھری پرویز الٰہی سے ملاقات دراصل سیاسی محاذ پر تیزی ظاہر کررہی ہے کیوں کہ ایک طرف پیپلز پارٹی پی ڈی ایم سے الگ ہوکر سیاسی سرگرمیاں کررہی ہے تو دوسری طرف مسلم لیگ ق کو بھی اپنی اتحادی حکومت سے گلے شکوؤں کے انبار ہیں جن میں سب سے اہم فیصلوں اور مشاورت میں انہیں شامل نہ کیا جانا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان امن کیلئے آج بھارتی قیدی رہا رہا کر رہا ہے

ملاقات کی اندرونی کہانی بتانے والوں کے مطابق دوران ملاقات آصف زرداری نے پرویز الٰہی کو مخاطب کرکے کہا کہ آپ ہمارے بھی اتحادی تھے اور اس حکومت کے بھی ہیں، آپ کو فرق تو پتا چل گیا ہوگا؟

انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کبھی سیاستدان نہیں تھے، خان کو لانے والے بھی اب پچھتارہے ہیں، اگلے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی سب کو سرپرائز دے گی۔

ذرائع کے مطابق آصف زرداری نے پرویز الٰہی سے کہا کہ عمران خان اور وزراء یہ سمجھتے ہیں کہ دھمکیوں سے وہ سندھ حکومت کو ڈرا دیں گے تو یہ ان کی بھول ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے تو آمروں کا مقابلہ کیا ہے، یہ عمران خان اور اس کی حکومت کیا چیز ہے۔سابق صدر نے سپیکر پنجاب اسمبلی سے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے ثابت کردیا ہے کہ وہ بہترین اپوزیشن کرنا جانتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب کی اہم شخصیات پیپلز پارٹی میں شامل ہوں گی۔

یہ بھی پڑھیں:  عدالت عالیہ نے سابق صدر سمیت دس ملزمان اور تین کمپنیوں پر فرد جرم عائد کر دیا

پرویز الٰہی نے کہا کہ اتحادی ہونے کے باوجود متعدد مرتبہ حکومتی پالیسوں سے اختلاف کیا۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ اجلاس کےدوران تمام ہی اسمبلیوں میں ہنگامہ آرائی ہوئی مگر ہم نے پنجاب میں ایسا نہیں ہونے دیا۔

ذرائع کے مطابق سابق صدر آصف علی زرداری عام انتخابات میں مسلم لیگ ق کو ساتھ ملاکر الیکشن لڑنا چاہتے ہیں لیکن چودھری پرویز الٰہی نے انہیں اس حوالے سے کوئی یقین دہانی نہیں کرائی۔ آصف علی زرداری نے چودھری پرویز الٰہی سے کہا کہ پنجاب میں حکومت کا پانسہ پلٹنے کے لئے آپ کی اہمیت سے کسی کو بھی انکار نہیں۔

ان کا کہنا تھا پی ڈی ایم نے دو رخی پالیسی اختیار کی وگرنہ پنجاب کی سطح پر قائد ایوان تبدیل کرکے مرکز میں پی ٹی آئی کی حکومت کو کمزور کیا جاسکتا تھا اور پیپلز پارٹی چاہتی تھی کہ پنجاب میں تبدیلی لاکر وفاق کو دباؤ میں لائے کہ وہ سرپٹ دوڑنے کی بجائے اہم قومی معاملات میں اپوزیشن کو ساتھ لیکر چلے ۔

ذرائع کے مطابق چودھری پرویز الٰہی نے واضح کیا کہ وہ اپنی زبان کی پاسداری کا ہر قیمت پر لحاظ رکھتے ہیں لیکن بعض لوگ وزیراعظم عمران خان کو غلط مشورے دیتے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں:  اپوزیشن گٹھ جوڑ مل کر بھی چیئرمین سینٹ کو نہ ہٹا سکا

واضح رہے کہ پنجاب اسمبلی کے قائد ایوان کی تبدیلی کے لئے پہلے بھی پاکستان پیپلز پارٹی حکومتی اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق) سے رابطہ کرچکی ہے لیکن ایک طرف چودھری برادران حکومت کا ساتھ چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہیں تو دوسری طرف مسلم لیگ (ن) بھی بطور وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کو قبول کرنے سے انکاری ہے کیونکہ حکمران جماعت اور مسلم لیگ (ن) کو اپنے اپنے تئیں یہ ڈر ہے کہ پنجاب میں ان ہاؤس تبدیلی کے ذریعے چودھری پرویز الٰہی کو لانے کی صورت میں انہیں سیاسی لحاظ سے بڑا نقصان ہوگا اور چودھری پرویز الٰہی آئندہ عام انتخابات میں بڑی کامیابی کے لئے اپنے گول سیٹ کرلیں گے۔

یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پنجاب میں مسلم لیگ (ن)، جہانگیر ترین کا فارورڈ بلاک اور پاکستان پیپلز پارٹی بآسانی چودھری پرویز الٰہی سے مل کر ان ہاؤس میں تبدیلی لاسکتے ہیں لیکن (ن) لیگ اس میں بڑی مخالف نظرآتی ہے۔ اپنے نامہ نگار کے مطابق سابق صدر آصف علی زرداری اور پرویز الٰہی کے درمیان ملاقات میں آئندہ عام انتخابات میں انتخابی اتحاد کے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں