syed murad ali shah

سپریم کورٹ کا جو حکم ہوگا ہم اس پر عمل کرنے کے پابند ہیں:وزیراعلیٰ سندھ

EjazNews

کراچی میں میڈیا سے گفتگو سے وزیراعلیٰ سندھ سے گفتگو کی جس میں ان سے سوالات بھی کیے گئے۔جب وزیراعلیٰ سندھ سے کراچی میں نسلہ ٹاور گرانے کے سپریم کورٹ کے حکم کے حوالے سے سوال کیا گیا تو وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سپریم کورٹ کا جو حکم ہوگا ہم اس پر عمل کرنے کے پابند ہیں اور اس حوالے سے ہم نے کوشش کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری نے بینظیر بھٹو کی سالگرہ کی تقریب سے اس حوالے سے خطاب میں تفصیلی بات کی ہے اور کہا ہے کہ یہ ہمیں منظور نہیں ہے کہ بنی گالا تو ریگیولرائز ہوجائے لیکن گجر نالہ توڑا جائے، اس کا مقصد یہ تھا کہ متاثرہ لوگوں کو جگہ دی جائے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہمارا وفاقی حکومت سے بھی یہ مؤقف ہے کہ ان کو دوبارہ آبادکرنا پڑے گا، برسوں سے ان کو وہاں آباد ہونے دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر سزا ہمیں دینی ہے تو دیں لیکن ان لوگوں کو سزا نہ دیں۔

یہ بھی پڑھیں:  سمندری طوفان تاتے کا خطرہ پاکستانی ساحلی پٹی سے ٹل گیا

نسلہ ٹاور پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا بڑا سخت حکم ہے، یہ بھی حکم دیا ہے کہ ٹاور مالکان پیسے واپس کریں، سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن بھی ریگیولرائز کیا تھا تو میں توہین عدالت سے بچتے ہوئے بڑے مودبانہ انداز میں یہی درخواست کرسکتا ہوں کہ لوگوں کا درد اور انسانی حقوق کے حالات پیدا ہوتے ہوں تو اس کا ضرور خیال رکھیں۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ اس کا کوئی نہ کوئی ایسا حل نکل آئے گا کہ لوگ بے گھر نہ ہو، حکومت سندھ کی یہی ترجیح ہوگی اور ہم اس کے لیے کام کریں گے۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ چاروں صوبوں میں جو ویکسینیشن ہورہی ہے وہ وفاقی حکومت فراہم کر رہی ہے اور اب تک کسی صوبے نے ویکسین نہیں خریدی۔

ان کا کہنا تھا کہ عالمی ادارے وفاقی حکومت کو ویکسین دے رہے ہیں، چند دن قبل عالمی بینک کے ڈائریکٹر سے میری ملاقات ہوئی تھی اور انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کو ویکسین خریدنے کے لیے ایک اچھی خاصی رقم فراہم کی جارہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  کراچی طیارہ حادثہ عبوری رپورٹ پیش:پائلٹ کے حد سے زیادہ خوداعتمادی کے باعث حادثہ پیش آیا:وفاقی وزیر

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے این سی سی اجلاس میں ہمیں کہا گیا تھا کہ ویکسینیشن کے عمل کو تیز سے تیز تر کریں اور ویکسین کی فراہمی کی فکر نہ کریں۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ بدقسمتی سے چند دن پہلے سے پورے پاکستان میں ویکسین کی قلت ہوگئی ہے، حالانکہ کہا گیا تھا کہ فکر نہ کریں لیکن ہم نے اپنا ہدف رکھا ہوا ہے کہ 2 لاکھ ویکسینیشن روزانہ ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے یہ ہدف رکھا تھا کہ ہم جون، جولائی اور اگست تین مہینوں میں دو لاکھ روزانہ کی شرح رکھیں تاکہ ہم تقریباً ایک کروڑ 80 لاکھ لوگوں کو ان تین مہینوں میں ویکسین لگا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ اس کے لیے ضروری ہے آپ کے پاس ویکسین موجود ہو، ویکسین کی فراہمی کی ذمہ داری وفاقی حکومت نے لی ہوئی ہے کیونکہ ویکسین ان کو ہی مل رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ریاست کا سربراہ جوابدہ ہوتا ہے: وزیراعظم عمران خان

وفاقی حکومت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہ ویکسین کی قیمت بھی ہمیں نہیں بتا رہے ہیں، ہم نے پیش کش کی ہے کہ ہم اپنا حصہ ڈالنا چاہتے ہیں حالانکہ انہیں عالمی سطح پر کروڑوں اور اربوں کی امداد مل رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ کہہ رہے ہیں اس کی فی الحال ضرورت نہیں ہے، مجھے نہیں پتہ کہ 26 ارب کی ویکسین تھی اور کہاں گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ سارا ریکارڈ موجود ہے، ایک،ایک ویکسین کا ریکارڈ نادرا کے پاس موجود ہے اور ویکسین لگانے والوں کو سرٹیفکیٹ مل جاتا ہے، سب ریکارڈ موجود ہے، کہاں گئی اس کا میری سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں