nadia_jamil_1

نادیہ جمیل بریسٹ کینسر سے صحت یاب ہو گئیں

EjazNews

نادیہ جمیل گزشتہ برس اپریل میں بریسٹ کینسر کا شکار ہوگئی تھیں اور انہوں نے لندن کے ایک معروف ہسپتال میں علاج شروع کروایا تھا۔مرض کی تشخیص کے چند دن بعد ہی 7 اپریل کو اداکارہ کی پہلی سرجری کی گئی تھی جو کامیاب رہی، جس کے بعد اداکارہ کے مزید علاج کے لیے کیموتھراپی کا آغاز کیا گیا تھا۔

کیموتھراپی کے دوران ہی نادیہ جمیل نے گزشتہ برس مئی میں اپنے سر کے بال منڈوا لیے تھے اور وہ پہلے دن سے مداحوں کو سوشل میڈیا پر اپنی صحت سے متعلق آگاہ کرتی رہی ہیں۔

اس دوران نادیہ جمیل نے چند پوسٹس میں مایوسی کی باتیں بھی کیں اور اپنی طبیعت کافی ناساز ہونے اور خود کو تکلیف سے متعلق آگاہ کرتے ہوئے مداحوں سے دعاؤں کی درخواست بھی کی تھی۔

نادیہ جمیل صت یاب ہو چکی ہیں

کینسر جیسے موذی مرض سے جنگ لڑنے کے باوجود نادیہ جمیل بچوں اور خواتین پر تشدد کے خلاف آواز اٹھاتی دکھائی دی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں:  تنقید کے بعد رابی پیر زادہ مکہ شفٹ ہونا چارہی ہیں

نادیہ جمیل نے مداحوں کو اپنی صحتیابی سے آگاہ کیا۔اداکارہ نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ‘میں باضابطہ طور پر کینسر سے صحتیاب ہوگئی ہوں، شکر الحمداللہ، تمام ٹیسٹ کلیئر آئے ہیں۔

نادیہ جمیل نے مداحوں کی محبت، دعاؤں اور نیک تمناؤں پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ‘اس ظالم کیموتھراپی کی وجہ سے میرے پاؤں کی کچھ رگوں کو نقصان پہنچا ہے، لیکن میں اپنے طریقے سے ڈانس کروں گی کیونکہ بھنگڑا میرے کاندھوں میں ہے۔

اس کے ساتھ ہی اداکارہ نے اپنی بیماری کے دوران ان کا ساتھ دینے والے تمام افراد کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے مزید لکھا کہ میں اپنے تمام دوستوں اور اہلخانہ کی مشکور ہوں، ان کے ساتھ ساتھ انڈسٹری کے کچھ دوست بشمول ثانیہ سعید، منیبہ مزاری، سلطانہ صدیقی اور عدنان صدیقی بھی میرے ساتھ کھڑے رہے۔

نادیہ جمیل نے مزید لکھا کہ ‘صحتیابی کی جانب اپنے سفر میں، میں نے ان لوگوں کو چھوڑنے کا مشکل طریقہ سیکھا جو آپ کو چھوٹا اور بیگانہ محسوس کرواتے ہیں اور ان کو قبول کرنا سیکھا جو محبت اور عزت کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  کیا اب ہمارے عمرے بھی دکھلاوے کے ہوں گے

انہوں نے لکھا کہ ‘میں نے نئے دوست اور فیملی بنائی جن سے میں زندگی سے جڑی ہوں، خون سے نہیں، جنہوں نے کینسر اور عالمی وبا کے دوران آئسولیشن میں میرا ساتھ دیا، یہ عظیم لوگ بہت بڑی نعمت ہیں۔

اداکارہ نادیہ جمیل نے لکھا کہ ‘آخر میں، میں خود کھڑی ہوئی ہوں، یہ میری سانس ہے جو مجھے زندہ رکھتی ہے اور میں خود اپنی حفاظت کرتی ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ‘میں جب بھی گروں گی پہلے سے زیادہ مضبوط ہوکر اٹھ کھڑی ہوں گی، چاہتی ہوں کہ مجھے ہمیشہ سچائی، مہربانی، عاجزی، احترام، پیار کا راستہ دکھایا جائے اور پھر اس پر چلنے کا طریقہ اور خواہش بھی پیدا ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں