Family on Beach

گھر ، گھر والوں سے ہی بنتا ہے اور گھر والی سب سے اہم کڑی ہے

EjazNews

’’اور پھر سب مل جل کر ہنسی خوشی رہنے لگے‘‘ یہ ہے، وہ فقرہ، جس پر عموماًبچّوں کے لیے لکھی لمبی لمبی کہانیوں کا اختتام ہوتا ہے۔ ہماری فلموں، ڈراموں میں بھی اکثر آخری منظر میں سارا خاندان خوشی خوشی ایک دوسرے سے گلے ملتے دکھائی دیتا ہے۔ ناولز، افسانوں میں عشقِ مجازی کے بعد سب سے زیادہ تذکرہ خاندانی محبّت و نفرت ہی کا کیا جاتا ہے۔ ان مثالوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہم دو باتیں تو بڑے وثوق سے کہہ سکتے ہیں۔ایک یہ کہ ہم سب خوش رہنا چاہتے ہیں اور دوسرا یہ کہ سچّی خوشی مل جُل کر رہنے ہی سے ملتی ہے۔ موجودہ دَور میں انسان کو اپنی اور خود سے وابستہ افراد کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ محنت کرنی پڑرہی ہے۔ خاندان کا ہر فرد اپنی اپنی جگہ پچھلے ادوار کی نسبت زیادہ مصروف ہے،مگر سب کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ جو وقت اہلِ خانہ کے ساتھ گزارا جائے، وہ ہنسی خوشی گزرے۔ انسانی عادات پر تحقیق کرنے والے محقّقین کے مطابق خوش باش، مطمئن خاندان ہی ایک خوش حال معاشرے کی بنیاد ہے۔ ایسے خاندانوں میں پروان چڑھنے والے بچّے خود اعتماد، ذہین اور پُروقار شخصیت کے حامل ہوتے ہیں، جو آگے چل کر معاشرتی یا مُلکی ترقّی کے لیے زیادہ سود مند ثابت ہوتے ہیں، مگر افسوس کہ موجودہ دَور میں خاندان کی خوش حالی آسان امر نہیں رہا۔ اس ضمن میں ماہرین کی آراء کی روشنی میں چند اصول وضع کیے گئے ہیں، جن پر عمل پیرا ہوکے بہت حد تک خوش باش رہا جاسکتا ہے۔

خونی رشتوں کو فوقیت دیں:

انسان محبّت کا درس اپنے خاندان سے لیتا ہے۔مغرب میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق عُمر کے آخری حصّے میں اگر کوئی اپنے کنبے سے جُڑا ہو، تو اُس کی صحت، اکیلے رہنے والے انسان سے بہتر رہتی ہے۔ اگر کنبے سے الگ ہو، تو وہ تنہائی کے ساتھ کئی ذہنی الجھنوں کا بھی شکار ہوجاتا ہے۔ اگر آپ ایک ہنستے بستے خاندان میں رہنا چاہتے ہیں، تو اپنے گھر والوں کو اپنے دوستوں اور محلّے داروں وغیرہ پر فوقیت دیں۔ دوستوں کے ساتھ فضول وقت گزارنے سے بہتر ہے کہ زیادہ وقت ماں باپ اور بہن بھائیوں کو دیا جائے۔
اعلیٰ خاندانی روایات: نفسیات کے ماہرین کے نزدیک اپنے پُرکھوں کی کسی بھی روایت یا رواج کو دُہرا کر ہمیں خوشی محسوس ہوتی ہے اور جب خاندان کے تمام افراد مل کر اس روایت کو زندہ کرتے ہیں، تو یہ خاندان کی اجتماعی خوشی بن جاتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں عید کے موقعے پر شادی شدہ بیٹیوں،بہنوں کو تحفے تحائف بھیجنے کا رواج کئی خاندانوں میں ہے۔مختلف مواقع پر قریبی عزیز رشتے داروں کی دعوت، گھر میں کوئی پکوان پکا کر محلّے میں بانٹنا، چُھٹی کے دِن سب کا اکٹھے بیٹھ کر کھانا کھانا وغیرہ اسی قسم کی بہت سی روایات ہیں، جو نہ صرف خاندان کو آپس میں جوڑے رکھتی ہیں، بلکہ آنے والی نسلیں بھی کوشش کرتی ہیں کہ ان روایات کو بزرگوں کی نشانی سمجھ کر قائم رکھاجائے۔

یہ بھی پڑھیں:  ناموافق حالات میں ملازمت کو کبھی بھی مجبوری نہ بننے دیں


اکٹھے نظر آئیں:

گھر میں تو سب ہی مل جُل کر رہتے ہیں، مگر کوشش کریں کہ گھر سے باہر بھی ایک دوسرے کے ساتھ رہیں۔ اگر خریداری کے لیے جانا ہے، تو بہن بھائی اکٹھے بھی جاسکتے ہیں۔ جمعے اور عیدین کی نمازوں کے لیےگھر کے مَردوں کا اکٹھے ہوکر مسجد جانا اچھی روایت ہے۔آج کل کے بزرگ گھر سے باہر جانے کے لیے بچّوں کے ساتھ کو ترستے رہتے ہیں، یہ انتہائی نامناسب رویّہ ہے۔ کچھ وقت نکال کر اُن کو بھی اپنے ساتھ باہر لے کر جائیں۔ تو اس عمل سے انہیں ہی نہیں، آپ کو بھی دِلی خوشی ملے گی۔

گھریلو امور کی منصفانہ تقسیم:ایک خوش باش گھرانہ وہی ہوتا ہے، جہاں سب اپنی اپنی ذمّے داریاں خوشی خوشی نبھاتے ہیں۔ اور یہ اُسی صُورت ممکن ہے کہ کاموں کی تقسیم منصفانہ ہو۔ ساس، بہو اور نند رشتوں کی یہ وہ مثلث ہے، جس کے ہر زاوئیے کا درست ہونا بہت ضروری ہے۔ انہی تین رشتوں میں توازن اور محبّت کا فقدان ہی اکثر گھریلو ناچاقیوں کا سبب بنتا ہے۔ گھر کے کاموں کی تقسیم عُمر، طاقت اور رُتبے کے مطابق ہو، تو گھر میں خوشیوں کی چہل پہل رہتی ہے۔ اسی طرح گھر سے باہر کے کاموں کا سارا بوجھ ایک چھوٹے بھائی پر ڈالنے سے بہتر ہے کہ یہاں بھی کام کی مساوی تقسیم کرلی جائے۔

بیمار یا معذور فرد کی دیکھ بھال:خاندان کا اگر کوئی فرد بیمار یا معذور ہو، تو اُس کی دیکھ بھال اہلِ خانہ کے لیے کئی مشکلات کا سبب بن جاتی ہے،لہٰذا اس صُورتِ حال سے کیسے نپٹنا ہے، اس کا فیصلہ بھی سب مل جُل کر کریں۔ بیمار یا معذور افراد کو بوجھ سمجھیں، نہ ہی انہیں اس بات کا احساس ہونے دیں کہ آپ اُن کی وجہ سے پریشان ہیں۔اہلِ خانہ مل جُل کر اُن کی ضروریات کا خیال رکھیں، توجّہ اور وقت دیں۔

بزرگوں کو اہمیت دیں: ا

یہ بھی پڑھیں:  گھریلو بجٹ کس کس کو شریک مشورہ کریں؟

گر آپ کے خاندان کے بزرگ زندہ ہیں اور آپ کے ساتھ خوش و خُرّم اور مطمئن زندگی گزار رہے ہیں، تو آپ کا خاندان یقیناً ایک خوش حال خاندان ہے۔ بزرگ چاہے دادا دادی ہوں یا نانا نانی، اُن کی نصیحتیں اور مشورے گھر میں برکت کا باعث ہی بنیں گے۔ سو، اپنے بچّوں کو اُن کے ساتھ وقت گزارنے کی عادت ڈالیں۔

جو والدین اولاد کی تربیت کے حوالے سے کسی تخصیص کے قائل ہیں، اُنہیں جان لینا چاہیے کہ اولادِ نرینہ(بیٹا) ہو یا نگینہ (بیٹی) دونوں ہی یک ساں توجّہ کے مستحق ہیں۔بیٹیوں کی تربیت اس لیے ضروری ہے کہ انہیں بیاہ کے دوسرے گھر جانا، ایک نئے خاندان کی بنیاد رکھنی ہوتی ہے۔ مستقبل میں اپنے بچّوں کی تربیت کی ذمّے داری نبھانی ہوتی ہے۔اِسی طرح بیٹوں کی تربیت بھی ازحد ضروری ہےکہ بیٹے خاندان میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہی کے دَم سے نام و نسب کا تسلسل قائم ہوتا ہے۔ بیٹے خاندان کے لیے مضبوط ستون ہیں، جن پر خاندان کے عزّت و وقار کا انحصار ہوتا ہے،لہٰذا والدین خاص طور پر مائیں چاہے بیٹا ہو یا بیٹی اُن کی تربیت بہترین اور احسن طریقے سے انجام دیں۔ بچّوں کے اخلاق کی تعمیر کریں۔ انہیں شروع ہی سے اپنی ذمّے داریوں کا احساس کرنا سکھائیں۔ ان میں ضبط و تحمل اور برداشت کی عادت پیدا کریں۔ انہیں یہ احساس دلائیں کہ نہ صرف خاندان، بلکہ مُلک و قوم کا مستقبل ان سے وابستہ ہے۔ بچّوں میں رواداری، محبّت، مروت، ایثار ، قربانی ، امانت ، دیانت ، شجاعت اور خدا ترسی کے جذبات پیدا کریں۔ نفرت، تنگ نظری اور تنگ دِلی جیسے منفی رویّوں کو ان میں ہرگز پنپنے نہ دیں۔ ان کی شخصیت کے مثبت پہلو اُجاگر کریں۔ لاڈ و پیار ضرور دیں، لیکن ذہن نشین کرلیں کہ حد سے زیادہ پیار و محبّت بھی بچّے کی شخصیت کو زنگ آلود کردیتے ہیں۔ اس لیے کبھی ان کی ناجائز فرمایشوں اور ضدوں کے آگے محبّت سے مغلوب ہوکرہتھیار نہ ڈالیں، تاکہ وہ ایک خُوب صُورت شخصیت اور متوازن کردار کے مالک بن سکیں ۔ ان میں نظم و ضبط اور جذبۂ حُبّ الوطنی پیدا کریں۔ انہیں اچھی طرح ذہن نشین کروائیں کہ وہ اس مُلک اور قوم کی اُمید ہیں۔ وطن کی تعمیروترقّی اور اس کی حفاظت کا دارومدار ان ہی پر ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  معاشرے کا بنیادی ستون خاندان ہے

ان کی پرورش اور نگہداشت کے ساتھ ساتھ ان کی اصلاح اور تربیت پربھی بَھرپوردھیان دیں، تاکہ وہ آپ کے بڑھاپے کا سہارا بن سکیں۔ مبادا آپ ہی ان کا بوجھ اُٹھاتے اُٹھاتے نڈھال ہوجائیں۔ بچّوں کو دَورِ حاضر کی بُرائیوں سے آگاہ کرتے رہیں اور ان سے محفوظ رہنے کے لیے رہنمائی بھی فراہم کریں۔ان کی باتیں غور سے سُنیں۔ بچّوں کے ساتھ ایسا تعلق قائم کریں کہ وہ آپ کو اپنا بہترین دوست سمجھیں۔ فضول ڈانٹ ڈپٹ، خوامخواہ کی روک ٹوک سے گریز کریں۔ اس طرح آپ اپنا رعب تو قائم نہیں کر پاتے، البتہ انہیں خود سے دُور ضرور کربیٹھتے ہیں ۔ اس طرح کا رویّہ انہیں ضدّی بناتا ہے اور ان میں بغاوت کے جذبات پیدا کرتا ہے، جس کے نتیجے میں آگے چل کر وہ خود سَر ہوجاتے ہیں۔ اور پھر ہم گلہ کرتے ہیں کہ بچّے بات نہیں مانتے، ہاتھ سے بالکل نکل گئے ہیں۔ یاد رکھیے، بچوں کی شخصیت کی تعمیروالدین کی توجّہ اور محنت مانگتی ہے اور یہ ایک کُل وقتی ذمّے داری ہے،جسے نبھانا اس لیے بھی ضروری ہے کہ روزِقیامت والدین، اولاد کے متعلق جواب دہ ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں