Ebrahim Raeesi1

سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں بھی کوئی رکاروٹ نہیں:نومنتخب ایرانی صدر

EjazNews

ایران کے نو منتخب صدر ابراہیم رئیسی نے کہا ہے کہ سعودی کے عرب کے ساتھ تعلقات کی بحالی میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ ایران کے بلیسٹک میزائل پروگرام یا علاقائی ملیشیا کی حمایت پر بات چیت کے لیے تیار نہیں۔

ابراہیم رئیسی کا انتخابات جیتنے کے بعد اپنی پہلی پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ ایران کی طرف سے سفارت خانے کھولنے اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں بھی کوئی رکاروٹ نہیں۔ وہ تہران کے بیلسٹک میزائل پروگرام یا علاقائی ملیشیا کی حمایت پر بات چیت کے لیے تیار نہیں۔

رئیسی کا کہنا ہے کہ ان کے ملک کی خارجہ پالیسی 2015 کے جوہری معاہدے تک محدود نہیں ہوگی۔ وہ کہتے ہیں ہم دنیا کے ساتھ بات چیت کریں گے۔

ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے کہا کہ ہم ایرانی عوام کے مفادات کو جوہری معاہدے سے نہیں جوڑیں گے۔ امریکہ ایران پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا پابند ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  کشمیری خواتین سے پوچھیں،خوف و ہراس کیا ہوتا ہے ؟

نو منتخب ابراہیم رئیسی نے مجموعی طور پر 17 اعشاریہ نو ملین ووٹ حاصل کیے۔

انہوں نے کہا کہ ایران بار بار جوہری ہتھیاروں کو جمع کرنے کے منصوبے کی تردید کرتا رہا ہے۔ انہیں امید ہے کہ ان کے دور میں ایران کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی بحالی ہوگی۔

نومنتخب صدر ابراہیم رئیسی اگست میں جب اقتدار سنبھالیں گے تو وہ ملک کے آٹھویں صدر بنیں گے۔

ایران کی وزارت خارجہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پانچ سالوں کے سفارتی فریضہ اور کئی دہائیوں کے تناؤ پر مبنی تعلقات کے بعد ، اعلیٰ سعودی اور ایرانی عہدیداروں کے درمیان براہ راست بات چیت کا آغاز ہوا تھا۔

یاد رہے:سعودی عرب کے ایک اعلی شیعہ عالم کو پھانسی دینے کے بعد 2016 میں ریاض اور تہران نے تعلقات توڑ ڈالے تھے۔اس پھانسی کے بعد ایرانی ہجوم نے تہران میں سعودی سفارت خانے پر دھاوا بولا اور اسے نذر آتش کردیاتھا۔

یہ بھی پڑھیں:  شمال مشرقی انگلینڈ میں عظیم الشان مسجد کی تعمیر کی اجازت

اپنا تبصرہ بھیجیں