IMF

ورلڈ بینک نے قرض کی منظوری دی جبکہ آئی ایم پروگرام کے تمام اہداف حاصل کیے :ترجمان وزارت خزانہ

EjazNews

ترجمان وزارت خزانہ نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما کی طرف سے پریس کانفرنس میں لگائے گئے الزامات کے ردعمل میں کہا کہ آئی ایم ایف مشن کا اگست میں دورہ متوقع ہے، جس میں مشن پورے سال کی معاشی کارکردگی کا جائزہ لے گا۔ عالمی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) کا پروگرام معطل نہیں ہے اور ورلڈ بینک نے بھی پاکستان کا قرض نہیں روکا۔

وزارت خزانہ کا کہنا ہےکہ پاکستان نےمارچ تک آئی ایم ایف پروگرام کے تمام اہداف حاصل کیے ہیں، آئی ایم ایف پروگرام کےدوران پاکستان نےبہترین معاشی کارکردگی کامظاہرہ کیا۔

وزارت خزانہ کے مطابق ورلڈ بینک نےپاکستان کا قرض نہیں روکا، ورلڈ بینک نےایک روز قبل ہی پاکستان کےلیےقرض کی منظوری دی ہے۔

مفتاح اسماعیل پر تنقید کرتے ہوئے وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کے وزیر خزانہ نے ملکی معیشت کو تباہ کیا، آئی ایم ایف قرض پروگرام کی ذمہ دار ن لیگ ہے۔ بیان میں کہا گیا ہےکہ حکومت عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ صارفین کو منتقل نہیں کررہی، حکومت تیل کی قیمتوں میں استحکام لانےکی کوشش کررہی ہے، ایران پر عالمی پابندیاں ختم ہونے کی توقع ہے جس سے بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا امکان ہے، سعودی عرب کے ساتھ ادھار پر تیل کے معاہدے کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  آئینی ترمیم کرنی ہے تو یہ پارلیمان کا کام ہے، سپریم کورٹ صرف اس کی تشریح کرسکتی ہے:مریم نواز

وزارت خزانہ کا مزید کہنا ہے کہ 700؍ ارب روپے کے ٹیکس ری فنڈز روکنے میں کوئی صداقت نہیں ہے۔قبل ازیں کراچی میں مسلم لیگ سندھ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہےکہ حکومت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو قومی احتساب بیورو(نیب) بنا رہی ہے،گرفتاری کے اختیارات دینے سے ریونیو نہیں ، ہراسانی کے واقعات بڑھیں گے، کاروباری طبقہ پہلے ہی بجلی اور گیس کے نرخ کے نیچے دبا ہوا ہے، ایف بی آر ٹیکس انسپکٹرکو گرفتار کرنےکے حق دے دیا گیا ہے، گرفتاری کے اختیارات دینے سے ریونیو نہیں، ہراسانی کے واقعات بڑھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک نے قرضہ دینے سے منع کردیا ہے۔ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کی بات پر حکومت نے ایک بار پھر یوٹرن لے لیا ہے، جس کی مثال بچوں کے دودھ اور غذا ئی اشیاء پر ٹیکس17فیصد سے 10فیصدکردیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے ذریعے آئی ایم ایف سے شرائط منوانا درست نہیں ہوگا، معاشی امور میں اسٹریٹیجک معاملات کو شامل نہ کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:  ایک اور مسلم لیگی رہنما حکومتی ایما پر گرفتار ہوا ہے: اپوزیشن

اپنا تبصرہ بھیجیں