mad

سچائی کا انجام

EjazNews

شدید گرمی کا موسم تھا۔ تمام لوگ اپنے گھروں میں دبکے بیٹھے تھے۔ اقراء اپنے کمرے میں اے سی لگا کر سوئی ہوئی تھی جبکہ اس کی ملازمہ ببلی اس کے بیڈ کے پاس بیٹھی سو رہی تھی۔ کمرے میں گرمی کم ہونے کی وجہ سے دونوں کو خوب نیند آئی ہوئی تھی۔ تھوڑی دیر میں بجلی بند ہو گئی اور اے سی بھی بند ہوگیا۔ چندمنٹ کمرے میں اے سی کی ٹھندک رہی لیکن آہستہ آہستہ کمرے میں گھٹن ہونے لگی۔ اقراء کو پیاس محسوس ہوئی تو اس نے ببلی کو آوز دی کہ اس کو پانی لا کر دے لیکن جب ببلی کی طرف سے کوئی جواب نہ ملا تو اس نے اٹھ کر دیکھا کہ ببلی اس کے بستر کے پاس بیٹھی بے خبر سو رہی ہے ببلی نے چند ماہ پہلے اس گھر میں نوکری شروع کی تھی۔ ہر کام وقت پر کرتی تھی جس وجہ سے اقراء بی بی نے اس کو اپنی خدمت کے لیے پکا رکھ لیا تھا۔ اس سے پہلے اقراء ببلی کو ہلا کر اٹھاتی اس کین ظر ببلی کے ہاتھ میں پکڑے ایک کاغذ پر پڑی۔ اقراء نے سوچا کہ ہو سکتا ہ کہ یہ خط اس کے لیے ہو؟اس لیے اس نے ببلی کے ہاتھ سے کاغذکھسکایا اور پڑھنے لگی ۔

یہ بھی پڑھیں:  انسان سے بندر

بیٹی ببلی! السلام علیکم میں اور تمہارے چھوٹے بہن بھائی خیریت سے ہیں۔ تمہارے ابو کی صحت د ن بدن خراب ہو رہی ہے جس کی مجھے بہت فکر ہے۔ تم نے پچھلے ماہ جوپندرہ سو روپے بھجوائے تھے وہ مل گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ تم کو لمبی زندگی دے۔ تم نے بیٹے کا فرض ادا کرتے ہوئے ہماری مدد کی ہے۔ مجھےیہ پڑھ کر بہت خوشی ہوئی کہ تمہاری مالکن تمہارے کام پر خوش ہیں۔ بیٹی ! ہمیشہ دل سے کام کیا کرنا۔ حلال رزق میں بہت برکت ہوتی ہے۔تم نے جو پندرہ سو روپے بھجوائے ہیں۔ پانچ سو روپے کی تمہارے ابو کی دوائیاں آگئی ہیں اور پانچ سو روپے میں آٹا، دالیں، چینی اور ضروری سامان منگوالیا ہے اور باقی پانچ سو روپے خان صاحب کو دے دئیے ہیں وہ اپنے دس ہزار روپے مانگ رہا تھا جو میں نے تمہارے ابو کے آپریشن پر خرچ کیے تھے۔ اگر تم اسی طرح روپے بھیجتی رہو تو ہم خان صا حب کا قرض جلد اتار لیں گے ۔ اپنا خیال رکھنا، اللہ حافظ۔ فقط تمہاری ماں۔

یہ بھی پڑھیں:  ملا نصیر الدین کا قرض

خط پڑھ کر اقراء کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور ببلی پر رحم آگیا کہ اس نے اپنی تنخواہ کا زیادہ حصہ اپنے گھر والوں کو بھیج دیا ہے۔ اس نے چپکے سے دس ہزار روپے ببلی کے دوپٹے کے پلو میں باندھ دئیے اور نہایت غصے سے آواز دی جس سے ببلی ہڑ بڑا کر جاگ گئی ۔ اقراء نے اس کو پانی ک ا گلاس لانے کو کہا جب ببلی باورچی خانے میں گئی تو اس کو اپنا دوپٹہ بھاری محسوس ہوا۔ اس نے دوپٹے کا پلو کھول کر دیکھا تو دس ہ زار روپے دیکھ کر پریشان ہو گئی۔ وہ گھبرائی اپنی مالکن اقراء کے پاس گئی اور پانی کا گلاس پکڑاتے ہوئے بولی’’بی بی جی ! میری آنکھ لگ گئی تھی اور میرے سون ے میں کسی نے یہ روپے میرے دوپٹے سے باندھ دئیے تاکہ چوری کا الزام لگا کر مجھے پھنسوا سکے لیکن اللہ تعالیٰ گواہ ہے کہ میں نے یہ روپے چوری نہیں کیے اور نہ ہی مجھے پتہ ہے کہ کس نے یہ کام کیا ہے۔‘‘
اقراء نے مسکراتے ہوئے کہا تم گھبرائو مت یہ روپے تمہیں قدرت نے دئیے ہیں کہ تم نے اپنے گھر والوں کی خدمت کی ہے۔ اب تم یہ بتائوں کہ ان روپوں کا کیا کروگی؟۔ گھبراتے ہوئے کہا ، بی بی جی! اگر یہ روپے میرے اپنے ہوتے تو میں فوراً ماں کو بھجوا دیتی تاکہ وہ خان صاحب سے لیا قرض واپس کر دیتی۔ باقی روپوں سے ابو کی دوائی منگوالیتی۔ اقراء نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔ یہ تمام روپے تمہارے اپنے ہیں۔ میں نے تمہاری ماں کا خط پڑھ کر خود تمہارے دوپٹے میں باندھے تھے۔ تم تمام روپے اپنی ماں کو بھجوادو۔اگر مزید کوئی رقم کی ضرورت ہو تو بتا دو۔ میں تم کو دے دیتی ہوں اورہاں آج سے تمہاری تنخواہ بھی دوگنی کر دی ہے۔ یہ تمہاری نیک نیتی اورس چائی کا انعام ہے۔ بے شک اللہ کریم نیک نیت اور سچے انسان کو پسند فرماتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  پریاں کہاں رہتی ہیں

اچھے بچو!
اللہ کریم کو ماں باپ کی خدمت، سچ اور نیک نیتی بہت پسند ہے۔ ہمیشہ اس پرعمل کرنا چاہئے۔

کیٹاگری میں : بچے

اپنا تبصرہ بھیجیں