molana fazlurehman

4 جولائی کو سوات میں تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ ہوگا:مولانا فضل الرحمٰن

EjazNews

پشاور میں بلوچستان اسمبلی میں ہنگامہ آرائی سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بکتربند گاڑیوں کو اپنے ملک کے وی آئی پیز کے خلاف استعمال کی گئی جو انتہائی شرمناک بات ہے، دھاندلی کی پیداوار حکومت ایسا ہی رویہ اختیار کرسکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں پی ڈی ایم اپنے مؤقف پر قائم ہے اور حکومت کے خلاف عوامی قوت کے ساتھ تحریک کا عمل جاری ہے اور اسی ضمن میں 4 جولائی کو سوات میں تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ ہوگا۔

سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ حکومت کے کردار کی وجہ سے پختونوں کا کردار، وقار اور باہمی احترام کی روایات پامال ہوگئی ہیں اور جس منصوبے کے تحت نئی نسل کو گمراہ کیا گیا جس کا مقصد مادرپدر معاشرہ تشکیل دینا ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ہم اپنے اس دعوے پر قائم ہیں کہ موجودہ حکومت کو یہودی ایجنڈے پر منتخب کیا گیا، یہ ایک بڑی جنگ ہے جسے ہمیں ہر حال میں جیتنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  حکومت ٹرانس جینڈرز کیلئے قانون سازی کرے گی:ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان

انہوں نے پی ڈی ایم کے لائحہ عمل کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ 29 جولائی کو کراچی میں پی ڈی ایم کا بہت بڑا جلسہ ہوگا اور ایک مرتبہ پھر عوامی صفوں پر منظم کیا جائے گا اور عوامی قوت ہی اصل ہتھیار ہے اور جمہوری ہتھیار کو استعمال کریں گے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے بتایا کہ انتخابی اصلاحات کےلیے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کی تجویز دی ہے۔

علاوہ ازیں انہوں نے فاٹا سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کے عوام انتہائی ابتر حالات میں ہیں، ان سے پرانا نظام چھین لیا گیا اور نئے نظام کے کامیاب ہونے کی صورت نظر نہیں آتی ہے اور ایسے حالات ریاست اور ریاستی اداروں کے ناک کے نیچے پیدا ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا حکومت جھوٹ بول کر معاشی ترقی کے دعوے کرتی رہے لیکن اب اس بجٹ کے بعد مہنگائی کا ایک اور پہاڑ گرنے والا ہے، عوام کی حالات اور بری ہوجائے گی اس لیے اس حکومت کو برقرار رکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  20مئی سے 30ٹرینیں چلیں گی:وزیر ریلوے

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ نے افغانستان کی سیاسی صورتحال کے تناظر میں کہا کہ ہم وہاں پرامن حل چاہتے ہیں، ایک پرامن، مستحکم اور اسلامی افغانستان چاہتے ہیں اور اس حوالے سے جو پیش رفت ہوئی ہے اس پر عملدرآمد ہونا چاہیے۔

انہوں نے افغانستان سے متعلق معاہدے کے عملدرآمد کو مؤخر کرنے کے بیان پر کہا کہ اس کی معقول وجوہات پیش کی جائیں تاکہ اس پر غور کیا جا سکے، طالبان کو بھی مشورہ دیا جاسکے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ پاکستان، افغانستان سے متعلق اپنی پالیسی پر سنجیدگی کا مظاہرہ کریں کیونکہ ایک وقت آئے گا کہ سب افغانستان میں ہوں گے لیکن پاکستان نہیں ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں