covid_vaccine

13ملین فائزر اور 10ملین سپتنک وی ویکسین خریدنے کے معاہدے

EjazNews

حکومت پاکستان اور فائزر بائیوٹیک کے درمیان ملک کیلئے کووڈ 19 ایم آر این اے ویکسین کی 13 ملین خوراکوں کی خریداری کے لئے معاہدہ طے پاگیا ہے اور توقع ہے کہ جولائی 2021 کے آخر تک خوراکوں کی پہلی کھیپ پاکستان پہنچ جائے گی۔

اسی طرح پاکستان روسی سپتنک وی ویکسین کی 10 ملین خوراکوں کی خریداری کے آخری مراحل میں ہے جس کی پہلی کھیپ ممکن ہے کہ رواں ماہ کے آخر یا جولائی کے پہلے ہفتے تک پاکستان پہنچ جائے۔

نیشنل ہیلتھ سروسز ، ریگولیشنز اور کوآرڈینیشن کے ایک عہدیدار کے مطابق نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) پاکستان اپنے میسنجر آر این اے کووڈ 19 ویکسین کی 13 ملین خوراک کی خریداری کے لئے فائزر انکارپوریشن اور بائیوٹیک کے ساتھ معاہدہ کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ فائزر انکاپوریشن نے بھی اس معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ باقی 12 ملین خوراکیں دسمبر 2021 تک فراہم کی جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں:  کرونا کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد حکومت کے کیے گئے فیصلے

رجسٹریشن بورڈ آف ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے پہلے ہی پاکستان میں فائزر بائیوٹیک کے کووڈ 19 ایم آر این اے ویکسین کو 12 سال اور اس سے زیادہ عمر کے افراد کی ویکسی نیشن کے لئے ہنگامی استعمال کی اجازت (EUA) کی منظوری دے دی ہے اور لاکھوں لوگ خود کو انجیکشن لگوانے کے لئے ملک میں اس کی دستیابی کے منتظر ہیں۔ پاکستان کو اس وقت COVID-19 ویکسین کی شدید قلت کا سامنا ہے جس کے باعث صوبہ سندھ کو پورے صوبے میں اتوار کے روز ویکسی نیشن کا عمل معطل کرنا پڑا جبکہ پنجاب نے ویکسی نیشن کے کئی مراکز بند کردیئے جیسا کہ یہ مرکز پچھلے ہفتے رک گیا تھا۔ مختلف ویکسینوں کی 70 ملین سے زیادہ خوراکیں قطار میں کھڑی ہیں لیکن وفاقی حکومت کے عہدیداروں کا دعویٰ ہے کہ این ڈی ایم اے کے ذریعے پاکستان رواں سال میں 70 ملین خوراکیں خریدنے میں کامیاب ہوگیا ہے جس میں چینی ، امریکی اور روسی ویکسین شامل ہیں جبکہ اگست 2021 کے آغاز تک ملک کو ایسٹرا زینیکا ویکسین کی 12 ملین سے زائد خوراکیں ملیں گی۔

یہ بھی پڑھیں:  پنجاب میں اساتذہ کے تبادلے کیلئے آن لائن پورٹل متعارف کروا رہے ہیں:وزیراعلیٰ پنجاب

این ڈی ایم اے کا مقصد رواں سال جولائی اور ستمبر کے درمیان روسی سپتنک وی ویکسین کی 10 ملین خوراکیں خریدنے کا ہے جبکہ چینی سائنوفام ، سائنو ویک اور کینسینو کی لاکھوں خوراکیں بھی خریدی جارہی ہیں۔ اگلے ہفتوں میں پاکستان میں مختلف ویکسینوں کی کمی نہیں ہوگی۔ عہدیدار کا کہنا تھا کہ پاکستان روسی سپتنک وی کی 10 ملین خوراکیں، سائنو ویک کی 30 ملین کے لگ بھگ خوراکیں اور سائنو فارم اور کینسینو کی 20, 20 ملین خوراکین اس سال دسمبر تک خریدنے والا ہے۔

اس کے علاوہ ایسٹرازینیکا کی کووی شیلڈ ویکسین کی بھی تقریباً 12.3 ملین خوراکیں متوقع ہیں لہٰذا ہم رواں سال کے آخر تک اپنی بیشتر بالغ آبادی کا احاطہ کرسکیں گے۔ عہدیدار کا کہنا تھا کہ چین سے سائنو فارم کی 15 لاکھ خوراکوں کے ساتھ ایک پرواز پاکستان پہنچ رہی ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں