syed ibrahim raisi

ایران کے نئے صدر ابراہیم رئیسی :کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں؟

EjazNews

ایران میں ہر چار سال بعد صدر کا انتخاب کیا جاتا ہے جس کے امیدواروں کی منظوری شوریٰ نگہبان دیتی ہے۔ان الیکشن پر دنیا کی نظر بھی ہوتی ہے ۔ اس کی وجہ ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات کی خرابی ایک بڑی اہم وجہ ہے۔ دوسرا اسرائیل بھی ایران کا اسی طرح دشمن ہے جس طرح وہ فلسطینیوں سے دشمنی نبھا رہا ہے۔ ایران کے الیکشن میں ایرانی سپریم لیڈر کے حمایت یافتہ امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔

60 سالہ ابراہیم رئیسی نے 1979 کے انقلاب ایرن کے فورا بعد ہی اہم عہدوں پر کام کیا ہے۔

صرف 20 سال کی عمر میں وہ ضلع کراج اور پھر ہمدان صوبے کے لئے پراسکیوٹر مقرر ہوئے اس کے بعد انہیں تہران کے نائب پراسکیوٹر کی حیثیت سے ترقی دی گئی۔ 1989 میں تہران کے چیف پراسکیوٹر بنے اور پھر 2004 میں نائب عدلیہ کے سربراہ کے عہدے پر 10 سال تک فائز رہے۔ 2019 سے ابراہیم رئیسی عدلیہ کے سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  برطانیہ کا ننھا شہزادہ پوری دنیا کی توجہ کا مرکز بن گیا

ایرانی سپریم لیڈر کے حمایت یافتہ امیدوار ابراہیم ریئسی صدارتی انتخابات جیت گئے۔ ایران کے صدارتی انتخابات میں میدان مارنے والے ابراہیم ریئسی کے مدمقابل 3 امیدواروں نے نتائج کے اعلان سے قبل ہی شکست تسلیم کر لی۔

Syed Ibrahim Raisi 1
 ایران کے صدارتی انتخابات میں ایرانی رہنما ابراہیم رئیسی کو سرکاری نتائج کے اعلان سے قبل ہی کامیابی پر مبارکباد دینے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

غیر حتمی نتائج کے مطابق ابراہیم رئیسی نے ایک کروڑ 78 لاکھ ووٹ لیے جبکہ محسن رضائی 33 اور ناصر ہمتی کو 24 لاکھ ووٹ ملے۔

انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت پانے والے 7 امیدواروں میں سے 3 نے کاغذات نامزدگی واپس لے لیے تھے جس کے بعد 60 سالہ ابراہیم رئیسی کی پوزیشن کو مزید تقویت ملی۔

ابراہیم رئیسی نے 2017 میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں حصہ لیا تھا مگر وہ موجودہ صدر حسن روحانی سے ہار گئے تھے۔

ایران کے صدارتی انتخابات میں ایرانی رہنما ابراہیم رئیسی کو سرکاری نتائج کے اعلان سے قبل ہی کامیابی پر مبارکباد دینے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ایران کے سبکدوش ہونے والے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ گزشتہ روز کے الیکشن میں ان کے بعد آنے والے صدر کو منتخب کر لیا گیا ہے تاہم انہوں نے رئیسی کا نام نہیں لیا۔

یہ بھی پڑھیں:  میک ان انڈیا کی بجائے ریپ ان انڈیا ہورہا ہے:راہول گاندھی

حسن روحانی نے کہا کہ میں عوام کو ان کے انتخاب پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، سرکاری طور پر مبارکباد بعد میں جاری کی جائے گی۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ کس نے الیکشن میں درکار ووٹ حاصل کیے اور عوام نے کس کو آج منتخب کیا ہے۔

صدارتی الیکشن کے دیگر دو امیدواروں محسن رضائی اور امیر حسین غازیزادہ ہاشمی نے بھی ابراہیم رئیسی کو مبارکباد دی ہے۔

غازیزادہ ہاشمی نے کہا کہ قوم کے منتخب کرنے پر میں رئیسی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔جبکہ محسن رضائی نے ٹویٹ کیا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ رئیسی ملکی مسائل کے حل کے لیے مضبوط حکومت تشکیل دیں گے۔

صدارتی الیکشن میں حصہ لینے والے رہنما اور مرکزی بینک کے سابق گورنر عبدالنصر حماتی نے بھی ابراہیم رئیسی کو کامیابی پر مبارکباد دینے کے لیے ٹویٹ کیا۔

دوسری جانب امریکہ ان کو ایک سخت گیر رہنما تسلیم کرتا ہے کیونکہ امریکہ 1988 میں بڑی تعداد میں سیاسی قیدیوں کی پھانسیوں کا تعلق ان سے جوڑتا ہے۔ جس کی وجہ سے امریکی حکومت نے ان پر پابندی بھی عائد کی تھی تاہم ابراہیم رئیسی ان تمام الزامات سے انکاری ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  سسکتے نہتے 9بچوں سمیت 20فلسطینی شہید جبکہ زخمیوں کی تعداد ان گنت

اپنا تبصرہ بھیجیں