bano app

بانو قدسیہ (ایک عہد ساز کہانی کار)

EjazNews

معروف و مقبول مرحوم ڈرامہ نگار ،افسانہ نگار اور ناول نگار بانو قدسیہ المعروف بانو آپا۔ علم وادب کے افق پر چمکتا ہوا وہ ستارہ تھیں جس کی تابانیوں اور ضیا پاشیوں سے اردو ادب کو ایک نیا آہنگ عطا ہوا۔ اپنے منفرد انداز بیان اور موضوعات کے حوالے سے عوام الناس بالعموم اور اہل علم وفن بالخصوص انہیں برصغیر کے چند عظیم ترین لکھاریوں میں شمار کرتے ہیں۔ آپ کے بہت سے ناول اور دیگر تخلیقی شاہکار طبع ہو کر قبولیت کی سند حاصل کر چکے ہیں۔ سرکاری سطح پر ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں کئی ایوارڈوں سے نوازا گیا۔ شیف نامی میگزین نے ان کا انٹرویو کیا تھا ۔ مرحومہ کا یہ انٹرویو بہت سے سوالات کے جوابات دے رہا ہے جو ہم اپنے پڑھنے والوں کی دلچسپی کیلئے اپنی ویب سائٹ پر شائع کر رہے ہیں تاکہ اس عہد ساز خاتون بانو آپا کے متعلق بہت کچھ جان سکیں۔

س: ابتدائی زندگی کے بارے میں کچھ بتائیے؟
ج: میں 28نومبر 1928ءکو فیروز پور چھاﺅنی موجودہ انڈیا میں پیدا ہوئی۔ ابھی میری عمرصرف ساڑھے تین سال کی تھی کہ والد صاحب کا انتقال ہو گیا۔ ہم دو ہی بہن بھائی تھے۔ میری والدہ نے BT, BAکر کے ایک سکول میں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کر دیا جہاں کچھ عرصے بعد وہ ہیڈ مسٹریس ہو گئیں بعد ازاں انہوں نے لڑکیوں کے لیے ایک پرائیویٹ کالج کھولا۔ میٹرک کے بعد میں نے اسی کالج میں پروفیسر سجانی لال اور پروفیسر سعید جیسے ماہرین سے اکتساب فیض کیا ان دو عظیم اساتذہ کے علاوہ م س جون اور مس پورٹر سمیت میں نے بہت سے قابل اساتذہ سے تعلیم حاصل کی جنہوں نے اردو اور انگریزی زبان پر مکمل عبور حاصل کرنے میں میری رہنمائی کی چونکہ یہ ایک پرائیویٹ کالج تھا لہٰذا جب میں امتحان دینے لگی تو اسلامیہ کالج لاہور کی پرنسپل مس دیداٹھاکر جوکہ میری والدہ کی سہیلی تھیں انہوں نے پرائیویٹ امتحان نہ دینے کا مشورہ دیا سو میں نے اسلامیہ کالج سے امتحان دیا۔ فرسٹ ڈویژن حاصل کی اور پھر وہیں داخلہ لے کر BAپاس کیا اس کے بعد گورنمنٹ کالج میں داخلہ لیا۔

یہ بھی پڑھیں:  میری ذات میں ایک پر اسرار سی اداسی ہے:سہیل وڑائچ

س: لکھنے کی طرف رجحان کیسے وا اور پہلی تحریر کون سی تھی؟
ج: میری والدہ کبھی کبھار لکھا کرتی تھیں۔ ان کی زیادہ تر تحریریں اپنی زندگی کے حالات و واقعات پر مبنی ہیں۔ انہیں دیکھ کر مجھے بھی شوق ہوا۔ ابھی پانچویں جماعت میں زیر تعلیم تھی جب میں نے ”فاطمہ“ کے عنوان سے ایک افسانہ لکھا جو بہت پسند کیا گیا بلکہ اسے قومی ایوارڈ بھی ملا۔ بس بطور رائٹر یہی میری زندگی کا نقطہ آغاز تھا۔

س: گویا آپ کو اللہ نے شروع سے ہی نواز رکھا ہے؟
ج: دیکھیں جی! کوئی انسان اس وقت تک کچھ نہیں کر سکتا جب تک اوپر سے توفیق نہ ملے۔ ہمیں پتا بھی نہیں ہوتا اور ہم سے کام کروا دیا جاتاہے۔

س: اشفاق احمد صاحب سے ملاقات اور پھر شادی کے بارے میں بتائیں؟
ج: اشفاق احمد سے ملاقات گورنمنٹ کالج میں ہوئی اور رفتہ رفتہ یہ ملاقاتیں محبت میں بدل گئیں پھر انہوں نے پوری کوشش کی کہ اپنے خاندان والوں کو ہماری شادی کے لیے منالیں لیکن ہزار کوشش کے باوجود کا م نہ بنا تو وہ اٹلی چلے گئے تاکہ کوئی بدمزگی پیدا نہ ہو ۔ میں سمجھتی ہوں کہ یہ محبت کا ہی اعجاز تھا کہ انوں نے اٹلی سے بذریعہ خطوط میرے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا۔

س: کیا آپ بھی جواب میں خط لکھتی تھیں؟
ج: جی لکھتی تو تھی لیکن بہت کم۔ وہ محبت نامے لکھتے تھے لیکن میرے جوابی خط بہت سمپل ہوتے تھے۔ میں نے تو اپنے زیادہ تر خطوط جلا دئیے مگر اشفاق صاحب کے خطوط محفوظ ہیں اور جلد ہی کتابی شکل میں چھپ جائیں گے۔

س: اس قدر مسائل کے بعد شادی کیسے ہوئی؟
ج: جب اشفاق صاحب اٹلی سے واپس آئے تو ان کے بڑے بھائی افتخار احمد خان صاحب ہمارے ہاں تشریف لائے اور میری والدہ سے کہا کہ مہربانی کر کے قدسیہ اور اشفاق کی شادی کردیں۔ میری والدہ پہلے تو تھوڑا ہچکچائیں اور کہا کہ بھائی میں تو ایک کرنل کو ہاں کر چکی ہوں لیکن انہوں نے بہت ضد کر کے والدہ کو منا لیا۔ میری عمر اس وقت 26سال جب کہ اشفاق صاحب کی 30سال کے تھے ایک اتوار کی صبح بڑی سادگی سے ایک پیسٹری پر ہمارا نکاح ہو گیا۔ اشفاق صاحب نے 9سو روپے منہ دکھائی میں دئیے یوں اشفاق صاحب نے تمام فیملی کی مخالفت مول لے کر بالآخر مجھ سے شادی کر لی۔

یہ بھی پڑھیں:  بپسی سدھوا:پاکستانی نژاد انگریزی ناول نگار

س: آپ کے خیال میں عشق کیا ہے؟
ج: عشق انسان کو پرکھنے کی کسوٹی ہے۔ یہ ایک ریگ مار ہے اگر انسان پتھر ہو تو اس کی رگڑ سے ٹوٹ پھوٹ جاتا ہے اور ہیرا ہو تو چمک دمک جاتا ہے۔ یہ کلی طور پر انسان کی پوٹینشل پاور پر منحصر ہے کہ عشق اسے کیا عطا کرتا ہے۔ عشق کچھ لوگوں کے لیے صرف ہجر ہے اور کچھ کے لیے ہجر بھی وصل ہی ہے۔

bano_asfaq ahmad
 میری عمر اس وقت 26سال جب کہ اشفاق صاحب کی 30سال کے تھے ایک اتوار کی صبح بڑی سادگی سے ایک پیسٹری پر ہمارا نکاح ہو گیا۔

س: کیا آپ پانی تحریریں اشفاق صاحب کو دکھاتی تھیں اور وہ کیا تبصرہ کرتے تھے؟
ج: شادی سے پہلے کافی عرصے تک اپنی تحریریں دکھاتی رہی لیکن جب میں ان کی رہنمائی اور اصرار پر دکھانا چھوڑ دیا ۔ ویسے بھی وہ میری تحاریر پر تبصرہ کرنے کی بجائے بہتری کی تجاویز دیتے تھے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ آج میں جو کچھ بھی ہوں اور جس مقام پر بھی ہوں یہ سب اشفاق احمد صاحب کی عملی کوششوں کا ہی نتیجہ ہے۔

س: راجہ گدھ آپ کا مشہور ترین ناول ہے یہ بتائیں کہ اسے لکھنے کا خیال کیسے آیا؟
ج: ایک دوسرے کا کلچر اور زبان سیکھنے کے لیے ایک ایکسچینج پروگرام کے تحت امریکی ہمارے ہاں جب کہ ہم امریکہ جایا کرتے تھے۔ ہمارے ہاں آئے ہوئے ایکامریکی لڑکے نے مجھ سے سوال کیا کہ ایسینس آف اسلام کیا ہے؟اس میں ایسی کیا بات ہے جو کسی دوسرے مذہب میں نہیں۔ میں نے کہا اسلام بھائی چارے کا حکم دیتا ہے اس نے کہا یہ تو دوسرے مذاہب میں بھی ہے پھر میں نے کہا محبت تو جواب ملا کہ یہ بھی سب میں ہے تو میں لا جواب ہو گئی اور کہا کہ سوچ کر جواب دیتی ہوں۔ میرے گھر کی کھڑکی سے باہر سامنے سنگڑ ی کا درخت ہے جس سے سارنگی بنائی جتای ہے۔ میں شیشے کے پار دیکھ رہی تھی کہ اچانک مجھے یوں لگا کہ اسدرخت سے سارنگی کی آواز آنے لگی ہے اور درخت روشن ہو گیا ہے بالکل جیسے بلب جلنے لگے ہوں۔ اس میں سے آواز آئی۔ اسلام کا ایسینس ہے حلال اور حرام کا فرق ۔ وہیں سے میرے ذہن میں راجہ گدھ لکھنے کا خیال آیا۔

یہ بھی پڑھیں:  سب یہ طعنہ دیتے کہ انور مسعود کا بیٹا ہو کر بھی اچھا شعر نہیں کہہ سکتا سو، میں نے نثر کا میدان چُنا: انور مسعود

س: آپ کو کون سے شاعر پسند ہیں اور کیا آپ خود بھی شاعرہ ہیں؟
ج: ویسے تو میں نے بہت سے شعراءکا کلام پڑھا ہے لیکن ذاتی طور پر مجھے احمد فراز اور ا حمد ندیم قاسمی بہت پسند ہیں جہاں تک خود شاعری کرنے کا سوال ہے تو میں بکھی کبھار پنجابی نظمیں لکھتی ہوں۔

س: افسانہ نگاروں اور نئے لکھاریوں میں کس سے متاثر ہیں؟
ج: منشی پریم چند تو مجھے بہت زیادہ پسند ہیں تاہم نئے لکھنے والوں میں منشاءیاد، صغرا صدف اور شبنم شکیل بہت سےلوگ اچھا کام کر رہے ہیں۔

س: اپنی تحریر پر بنائے جانے والے ڈرامے دیکھتی ہیں؟
ج: ڈراما کم دیکھتی ہوں لیکن کبھی کبھی کوئی حصہ دیکھ لیتی ہوں۔

س: آپ موسیقی کے بارے بھی کافی جانتی ہیں کیسے ؟
ج: دراصل مجھے شروع ہی سے موسیقی کا جنون کی حد تک شوق تھا۔ گھر میں اشفاق احمد صاحب نے ایک ماسٹر صاحب مقرر کیے جو مجھے موسیقی کی تعلیم دینے آیا کرتے تھے۔

س: جب آپ نے تعلیم لی تو یقینا گاتی بھی ہوںگی؟
ج: ہاں اس وقت گا لیتی تھی اب تو بہت عرصہ ہوگیا۔

س: کس قسم کا گانا سنتی تھیں؟
ج: ہمارے زمانے کے سنگرز اورگانے بہت اچھے ہوتے تھے ۔ میں زیادہ تر نور جہاں، سلامت علی خان، کندن لال سہگل، کانن بالا کو سنا کرتی تھی۔

س: کبھی بیٹی کی کمی محسوس ہوتی ہے؟
ج: دیکھیں ! اللہ تعالیٰ بیٹیاں صرف اسے عطا کرتا ہے جس سے خصوصی محبت کرتا ہے کیوں کہ یہ اللہ کی رحمت ہیں ویسے بہوئیں بھی بیٹیاں ہی ہیں۔

س: کھانے میں کیا پسند ہے؟
ج: سبزی شوق سے کھاتی ہوں جیسے بھنڈی، کریلے، سرسوں کا ساگ اور چائینز میں چکن منچورین اچھا لگتا ہے۔

س: اشفاق صاحب کا پسندیدہ کھانا کیا تھا؟
ج: اشفاق صاحب آلو گوشت کاشوربہ شوق سے کھاتے تھے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں