zahid_hafeez ch

حمداللہ محب کے بے بنیاد بیان کی سختی سے مذمت کرتے ہیں:ترجمان دفتر خارجہ

EjazNews

پاکستان نے افغان مشیر برائے قومی سلامتی حمد اللہ محب کی جانب سے افغانستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے بیانات سے گریز کیا جائے جن سے دو طرفہ تعلقات متاثر ہوسکتے ہوں۔

دفتر خارجہ کے ترجمان زاید حفیظ چودھری نے کہا کہ حمداللہ محب کے بے بنیاد بیان کی سختی سے مذمت کرتے ہیں۔ ان کی جانب سے افغانستان کے اندرونی امور میں پاکستان کی مداخلت کا غلط الزام لگایا گیا۔

زاہد حفیظ چودھری نے کہا کہ افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار کو دنیا نے تسلیم کیا لیکن افغان مشیر قومی سلامتی کی جانب سے بار بار الزام تراشی قابل تشویش ہے، وہ امن عمل کو جان بوجھ کر نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔

ہم افغان مشیر کو پاک افغان ایکشن پلان برائے امن ویکجہتی میں ہوئی باہمی مفاہمت بھی یاد دلانا چاہتے ہیں۔ دونوں اطراف کو الزام تراشی کے بیانات سے گریز کرنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:  تمام جعلی نیٹ ورک کو دہلی سے تعلق رکھنے والا شریواستو گروپ چلا رہا تھا:ڈی جی آئی ایس پی آر

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ دونوں ممالک کو باہمی تعلقات پر غور کے لیے سرکاری سطح پر بات کرنا چاہیے، ایسے بیانات سے گریز کیا جائے جس سے تعلقات متاثر ہو سکتے ہوں۔

دوسری جانب جمعہ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے انطالیہ سفارتی فورم کے موقع پر افغانستان کی اعلیٰ کونسل برائے قومی مفاہمت کے چیئرمین عبداللہ عبداللہ سے ملاقات کی۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق دوران ملاقات دونوں لیڈران نے دو طرفہ تعلقات، افغان امن عمل سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔

وزیر خارجہ نے چیئرمین افغان اعلیٰ کونسل برائے قومی مفاہمت کو ستمبر 2020 میں کیے گئے پاکستان کے کامیاب دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہم بلاتخصیص تمام افغان قیادت کے ساتھ روابط کے متمنی ہیں تاکہ افغان امن عمل اور دو طرفہ تعلقات بہتر انداز میں آگے بڑھ سکیں۔

یہ بھی پڑھیں:  عثمان بزدار کی کابینہ میں بھی تبدیلی ، اہم ترین وزیر کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

مخدوم شاہ محمود قریشی کے مطابق پاکستان کو اپنی پرخلوص مصالحانہ کاوشوں کے سبب امریکہ اور طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے اور بین الافغان مذاکرات کے انعقاد میں کامیابی حاصل ہوئی۔

اب یہ ذمہ داری افغان قیادت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اس نادر موقعہ کو غنیمت جانتے ہوئے، جامع مذاکرات کے ذریعے افغان مسئلے کا سیاسی حل تلاش کریں۔امن مخالف سپائیلرز کی پسپائی کے لیے بین الافغان مذاکرات کا نتیجہ خیز ہونا ناگزیر ہے۔

وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ منفی بیانات اور الزام تراشیاں، محض ماحول کی خرابی کا باعث بنتی ہیں۔ایسے منفی بیانات امن مخالف قوتوں کی حوصلہ افزائی کا باعث بنتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں