Bilawal Bhuto Zardari

حکومتی اراکین تاریخی مہنگائی اور بے روزگاری کے بعدعوام کو منہ دکھانے کے قابل نہیں :بلاول

EjazNews

قومی اسمبلی میں پوسٹ بجٹ تقریر کے دوران بلاول بھٹو نے کہا کہ حکومت چاہتی ہے کہ اپوزیشن کو پی ٹی آئی ۔آئی ایم ایف بجٹ پر تبادلہ خیال کرنے کا موقع نہ ملے اور اسے عوام کے سامنے ایکسپوز نہ کیا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں قومی اسمبلی جو کچھ ہوا وہ دراصل 4 فیصد گروتھ سے متعلق جھوٹ کو چھپانے کی سعی تھی۔عوام کو اپوزیشن کی تقاریر کی ضرورت نہیں وہ تو حکومت کی جانب سے پیدا ہونے والی مہنگائی کی سونامی میں ڈوب رہے ہیں۔جو ادویات نہیں خریدسکتا، بے روزگار ہے، انہیں معلوم ہے کہ معاشی ترقی کے دعوے جھوٹے ہیں۔جب تک این ایف سی ایوارڈ نہیں دیں گے تب تک ہر بجٹ غیر آئینی ہوگا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہمارے دور حکومت میں عالمی معاشی بحران تھا، مہنگائی تھی اور دو سیلاب کا سامنا بھی کیا لیکن کبھی عوام کو لاوارث نہیں چھوڑا۔ہم نے اپنی حکومت میں مہنگائی کے وقت لوگوں کی تنخواہ میں اضافہ کیا لیکن حکومت احساس پروگرام لائی مگر عوام کا احساس نہیں کیا۔ کورونا وبا اور تاریخی مہنگائی کے دوران حکومت نے تنخواہ میں کتنا اضافہ کیا؟ جبکہ آج تک نیا این ایف سی ایوارڈ نہیں دیا گیا۔جب تک این ایف سی ایوارڈ نہیں دیں گے تب تک ہر بجٹ غیر آئینی ہوگا۔اگر تاریخی ترقی ہے تو تاریخی غربت، بے روزگاری کیوں ہے؟۔

یہ بھی پڑھیں:  امریکہ میں سیاہ فام کی ہلاکت پر ڈیرن سیمی نے بھی خاموشی توڑ دی

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے بجٹ کے ذریعے عوام پر بالواسطہ طریقے سے ٹیکسز کا طوفان کھڑا کردیا جو سب سے زیادہ نقصان عام آدمی کو پہنچائے گا۔ جب بجلی سمیت دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو عوام آپ کی نااہلی کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ اگر تاریخی ترقی ہے تو تاریخی غربت اور بے روزگاری کیوں ہے؟۔حکومتی اراکین اپنے حلقوں میں منہ دکھانے کے قابل نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی اراکین تاریخی مہنگائی اور بے روزگاری کے بعد اپنے حلقوں میں جا کر عوام کو منہ دکھانے کے قابل نہیں ہیں۔ وہ بھی چھوٹا اور ان کا بجٹ بھی چھوٹا۔ قائد حزب اختلاف پر حملے کی کوشش کی گئی۔

بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں حالیہ دنوں میں ہونے والی ہنگامہ آرائی پر بات شروع کی تو حکومتی اراکین کی جانب سے جملے کسے گئے۔دراصل وزیر اعظم عمران خان کے جذبات کو ٹھیس پہنچی اور وہ افسردہ تھے۔جو کرکٹ کھیلتا تھا اسے منتخب کرکے جوہری ملک کی بھاگ دوڑ دے دی گئی اور قومی اسمبلی میں کینسر کے مریض قائد حزب اختلاف شہباز شریف پر حملے کے وقت وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی جو ایوان میں موجود تھے اور کچھ نہیں کرسکے۔ انہوں نے ایوان زیریں میں ہنگامہ آرائی کو تاریخ کا سب برا دن قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں:  کیا اب ٹرین حادثے بھی سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں کی طرح ہوں گے

جس پر سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے بلاول بھٹو زاردی سے کہا کہ اس معاملے پر بات ہوچکی اس لیے آپ صرف بجٹ پر بات کریں۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ دن کبھی بھولنے نہیں دیں گے، آپ کو اس کی سیاسی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔سپیکر قومی اسمبلی کو مخاطب کرکے کہا کہ آپ کو سننا پڑے گا اور حکومتی اراکین کو جیسے جواب دینا ہے وہ دیں کیونکہ وہ ان کا حق ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں