Vladimir Putin and Joe Biden meet

پیوٹن اور جوبائیڈن کی ملاقات ، توقعات سے کہیں کم جوش نظر آیا

EjazNews

دونوں فریقین نے کہا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ وہ 4 سے 5 گھنٹوں تک ملاقات کریں گے تاہم انہوں نے 3 گھنٹے سے بھی کم وقت ساتھ گزارے جس میں دونوں صدور اور دونوں کے معاون شامل تھے۔

جب ملاقات ختم ہوگئی تو ولادمیر پیوٹن نے اکیلے نیوز کانفرنس کی اور اس ملاقات کے بارے میں بتایا جبکہ جو بائیڈن نے بعد ازاں صحافیوں کو بریفنگ دی۔

ولادی میر پیوٹن نے بتایا کہ جو بائیڈن نے ان سے انسانی حقوق کے معاملات اٹھائے تھے جس میں اپوزیشن رہنما الیکسی ناوالنی کے مستقبل کے بارے میں بھی باتیں شامل تھیں۔

انہوں نے امریکہ میں بلیک لائیوز میٹر احتجاج اور 6 جنوری کے کیپیٹل ہل پر حملے کے واقعات جیسے مقامی بحران کو اجاگر کرتے ہوئے الیکسی ناوالنی کی قید کی سزا کا دفاع کیا روسی اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ بدسلوکی کے بارے میں بار بار سوالات کو نظرانداز کیا۔

جو بائیڈن کے انسانی حقوق کے امور پر دباؤ ڈالنے کے بارے میں سوالات پر انہوں نے امریکی صدر کے لیے ایک تجربہ کار سیاسی رہنما کی حیثیت سے ایک قابل قدر احترام کا اظہار بھی کیا۔

یہ بھی پڑھیں:  بھارت میں کوروناکا نیا عالمی ریکارڈ،متحدہ عرب امارات کی پابندی کے بعد نیا بحران شروع

روسی صدر نے نشاندہی کی کہ جو بائیڈن نے ان کی والدہ کی جانب سے انہیں دئیے گئے دانشمندانہ مشورے کو دوہرایا اور ان کے خاندان کے بارے میں بھی بات کی اور کہا کہ ‘شاید اس کا سربراہی اجلاس سے پوری طرح سے کوئی تعلق نہیں ہوگا تاہم اس سے جو بائیڈن کے اخلاقی اقدار کا مظاہرہ ہوا۔

جہاں انہوں نے امریکہ اور روس کے تعلقات جلد ہی گزشتہ برسوں کی طرح بحال ہونے پر شبہ ظاہر کیا وہیں انہوں نے کہا کہ جو بائیڈن وہ ہیں جس کے ساتھ وہ کام کرسکتے ہیں۔

ولادی میر پیوٹن نے کہا کہ یہ ملاقات دراصل بہت موثر رہی، اس کا مقصد نتائج کو حاصل کرنا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اور جو بائیڈن نے جوہری ہتھیاروں کو محدود کرنے کے لیے نئے ‘اسٹارٹ معاہدے کی ممکنہ طور پر 2026 میں میعاد ختم ہونے کے بعد اس کی جگہ لینے کے لیے جوہری مذاکرات پر بات چیت شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  غائب ہونے والا انڈونیشیا کا مسافر طیارہ گر کر تباہ ؟

واشنگٹن نے 2014 میں ماسکو سے بات چیت بند کردی تھی جو 2017 میں دوبارہ شروع ہوئی تھی تاہم اس میں زیادہ کچھ حاصل نہ ہوسکا تھا اور ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کے دوران نئے ‘اسٹارٹ معاہدے میں توسیع پر معاہدہ پیش کرنے میں ناکام رہی تھی۔

ولادی میر پیوٹن نے یہ بھی کہا کہ دونوں فریقین نے سائبر سکیورٹی کے معاملات پر مشاورت شروع کرنے پر بھی اصولی طور پر اتفاق کیا ہے۔

کتابوں سے بھرے کمرے میں ہونے والی اس ملاقات کا آغاز کچھ عجیب و غریب تھا جہاں دونوں صدور تصویر کھنچواتے وقت ایک دوسرے کو براہ راست دیکھنے سے گریز کرتے نظر آئے تھے۔

جب ایک صحافی نے سوال کیا کہ ولادی میر پیوٹن پر اعتماد کیا جاسکتا ہے تو جو بائیڈن نے اس وقت سر ہلا دیا تاہم وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر ایک ٹوئٹ کیا جس میں کہا گیا کہ صدر کسی بھی سوال کا جواب نہیں دے رہے بلکہ پریس کے سامنے اس کے اعتراف میں سر ہلا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  عالمی شہرت یافتہ امریکی سائیکلسٹ کی مبینہ خودکشی

اپنا تبصرہ بھیجیں