employees old age benefits

ای او بی آئی کے حصص کی خریداری میں جاری انکوائری کے خلاف دائر 4 درخواستوں کو خارج

EjazNews

جسٹس طارق محمود جہانگری نے ایف آئی اے کی جانب سے ای او بی آئی کے 29 کروڑ روپے مالیت کے حصص کی خریداری میں جاری انکوائری کے خلاف دائر 4 درخواستوں کو خارج کردیا۔

درخواستیں امیٹیکس پرائیویٹ لمیٹڈ کے مالک خرم افتخار، خرم شہزاد اور دو مارکیٹ سکیورٹیز کی جانب سے دائر کی گئی تھیں۔

درخواست گزاروں نے ایف آئی اے انکوائری کو چیلنج کیا تھا۔

کمپنی کے چیف ایگزیکٹو خرم افتخار نے ایف آئی اے کے روبرو پیش ہو کر اپنی کمپنی میں ای او بی آئی کی سرمایہ کاری کے سلسلے میں یکم دسمبر 2011 ءکو بیان قلمبند کرایا۔

کمپنی کے ڈائریکٹرز کو 2013میں ایک مرتبہ پھر ایف آئی اے سے نوٹس موصول ہو۔

درخواست گزار ایک مرتبہ پھر انکوائری میں ایف آئی اے کے سامنے پیش ہوئے اور اپنے بیانات قلمبند کروائے۔

ایف آئی اے نے تیسری انکوائری شروع کی اور اس کے نتیجے میں 31 دسمبر 2015میں پاکستان پینل کوڈ کی سیکشن 409 ، 109 اور 34 کے تحت آیف آئی اے پولیس اسٹیشن کراچی میں ایف آئی آر درج کرلی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:  بھارت و اسرائیل انتخابات جیتنے کیلئے کس حد تک جاﺅگے:وزیراعظم پاکستان

درخواست گزاروں کے وکیل حسنین کاظمی اور سلمان اسلم بٹ نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ مختلف عوامی اداروں کی جانب سے ان کے مؤکلوں کو غیر ضروری طور پر ہراساں کیا جارہا ہے اور ایف آئی اے، کمپنیوں کی ساکھ کو کافی غیر معمولی نقصان پہنچا رہی ہے۔

علاوہ ازیں سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے وکیل نے عدالت کے دائرہ اختیار کو بھی اس بنیاد پر چیلنج کیا کہ حصص کی فروخت کا موضوع سندھ ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے کیونکہ تمام امور کراچی میں انجام پائے۔

ای او بی آئی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ چونکہ کراچی میں انکوائری کی گئی تھی، کراچی میں ایف آئی آر درج کی گئی اور چالان بھی کراچی میں مجاز دائرہ اختیار کی عدالت میں پیش کیا گیا لہٰذا اسلام آباد ہائی کورٹ کے پاس اس معاملے پر فیصلہ سنانے کا کوئی اختیار نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے نہیں جناب! یہ 9 لاکھ فوجی آپ کو 8 ملین کشمیریوں کو دھمکانے کیلئے درکار ہیں:وزیراعظم عمران خان

دوسری جانب ایف آئی اے نے عدالت کو آگاہ کیا کہ درخواست گزار تحقیقات میں شامل ہوئے ہیں اور نہ ہی مجاز عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

ایف آئی اے کے مطابق حتمی چالان 22 مئی 2017 کو خصوصی جج سینٹرل دوم، کراچی کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔

استغاثہ کے مقدمے کے مطابق ای او بی آئی نے 16 اگست 2010 کو امیٹیکس پرائیویٹ لمیٹڈ کے ایک کروڑ 17 لاکھ حصص 22 کروڑ 71 لاکھ 2 ہزار 818 روپے میں خریدے تھے جو فی کس حصص 19 روپے 37 پیسے کا تھا۔

اس کے بعد ای و بی آئی نے ایک مرتبہ پھر 27 اگست 2010 کو ایمٹیکس لمیٹڈ کے 56 لاکھ 50 ہزار حصص خریدے جو 11 کروڑ سے زائد رقم کے تھے اور فی حصص 19 روپے 51 پیسے کا تھا۔

یہ حصص اس وقت کے ڈی جی انویسٹمنٹ کنور خورشید وحید اور اس وقت کے ای او بی آئی کے چیئرمین ظفر اقبال گوندل پر مشتمل ای او بی آئی کی انویسٹمنٹ کمیٹی کی سفارش اور منظوری پر خریدے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  قومی اسمبلی میں پیش آنے والا افسوسناک واقعہ

فی شیئر کی موجودہ قیمت 2 روپے 73 پیسے ہے۔

ایف آئی اے نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ درخواست گزار ٹرائل کورٹ میں پیش نہیں ہوئے تھے اور انہیں مفرور قرار دیا گیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں