justic

جن لوگوں نے دو نمبر کام کیے ہیں سب گرفتار ہوں گے : چیف جسٹس

EjazNews

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس قاضی محمد امین احمد پر مشتمل تین رکنی بینچ کے روبرو گجر اور اورنگی نالہ آپریشن کیس کی سماعت ہوئی۔

چیف جسٹس نے ایڈمنسٹریٹرکے ایم سی استفسار کیا بتائیں اب تک گجر نالہ آپریشن میںکیا پیشرفت ہوئی ہے؟ ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی نے بتایا کہ پویلین اینڈ کلب پر کام شروع ہوچکا، الہ دین اور دیگر تجاوزات پر بھی پولیس و رینجرز کی مدد سے کام شروع کردیا ہے ۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے آپ لوگوں نے ہی قبضہ کرایا ہے۔ جن لوگوں نے دو نمبر کام کیے ہیں سب گرفتار ہونگے۔

ایڈمنسٹریٹر نے بتایا تجاوزات بہت زیادہ ہیں آپریشن کیلئے مزید مہلت کی ضرورت ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے یہ سب آپ لوگوں ہی نے تجاوزات کرائی ہیں۔ یہ ابتدا ہے سب کچھ ٹوٹے گا۔ ایک ایک ذمہ دار کو پکڑیں گے۔
ایڈمنسٹریٹر نے کہا کہ فنڈز کی قلت کا سامنا ہےکیونکہ کام بہت بڑا ہے۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کے ایم سی کو کھوکلا کردیا گیا۔ بتائیںکے ایم سی کس نے کھوکلا کیا ۔ کے ایم سی تو اپنے ذرائع آمدن خود پیدا کرتی تھی۔کے ایم سی کا کوئی ملازم کام کرتا نظر نہیں آتا۔ آپ 80 فیصد کے ایم سی اسٹاف کو نکالیں۔ عدالت نے گجر نالہ اور اورنگی نالہ کے متاثرین کےلیے متبادل پلان طلب کرلیا۔ عدالت نے استفسار کیا بتایا جائے، متاثرین کو آباد کرنے کیلئے سندھ حکومت کے پاس کیا پلان ہے۔

اٹارنی جنرل نے موقف دیا کہ گجر نالہ آپریشن سے متعلق بڑا انسانی المیہ پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ میری گزارش ہے کہ اگلی سماعت تک آپریشن روک دیا جائے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے ہم اپنا حکم نہیں روکیں گے کام جاری رکھیں گے۔ عدالت نے گجر، اورنگی نالہ آپریشن روکنے سے انکار کردیا۔ سپریم کورٹ نے نالوں سے متعلق کارروائی جاری رکھنے کا حکم دیدیا۔

یہ بھی پڑھیں:  ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ بھارت ٹیم وائٹ واش

علاوہ ازیں سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس قاضی محمد امین احمد پر مشتمل تین رکنی بینچ کے روبرو ریلوے کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیز اراضی پر قبضوں سے متعلق سماعت ہوئی۔سپریم کورٹ نے گلشن اقبال گیلانی ریلوے اسٹیشن کی زمین واگزار کرانے کا حکم دیدیا۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے ریلوے اراضی پر بلند و بالا عمارتیں بنا دی گئیں۔ ریلوے زمین ریلوے مقاصد کیلئے دی گئی مگر کمرشل کردی۔ ریلوے اپنی سوسائٹیز کی ساری زمینیں واگزار کرائے۔ ہزاروں گھر بنا دیئے گئے ریلوے کی زمینوں پر گلشن اقبال ریلوے ٹریک پر گھروں پر گھر بنا دیئے گئے۔ ہزار ہزار گز کے بنگلے کون خالی کرائے گا؟ ۔

ریلوے سیکرٹری نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب غیر قانونی تعمیرات ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے گلشن اقبال ریلوے اراضی پر بہت بڑا اسٹیشن بننا تھا۔ یہ سب کیسے ہوا؟ کون ذمہ دار ہے؟ کس کو ذمہ دار قرار دے کر سزا دی گئی۔ سیکرٹری ریلوے نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ 2009 کے بعد سے ساری تباہی ہو رہی ہے۔ ریلوے زمینیوں پر لوگوں کو لا کر بیٹھایا گیا۔درخواست گزار نے نظر ثانی کی درخواست واپس لے لی۔ علاوہ ازیں سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کے روبرو نسلہ ٹاور بلڈر کے وکیل کی متفرق درخواست کی سماعت ہوئی۔

سپریم کورٹ نے نسلہ ٹاور کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے فوری گرانے کا حکم دیدیا۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کے ایم سی رپورٹ میں کچھ ایریا غیر قانونی استعمال ہونے کی نشاندہی ہوئی۔ سروس روڈ کو عمارت کا حصہ بنایا گیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے نہ صرف سروس روڈ بلکہ شاہراہ فیصل بھی عمارت کا حصہ ہے۔ آپ کا منصوبہ فٹ پاتھ سے جا کر ملتا ہے۔ بتائیں، شاہراہ قائدین کا سروس روڈ کہاں گیا؟ شاہراہ قائدین سے سروس روڈ شاہراہ فیصل تک جا ملتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  وفاقی وزیر علی محمد مہردل کا دورہ پڑنے سے وفات پا گئے

نسلہ ٹاور کے وکیل صلاح الدین نے موقف دیا کہ ہماری عمارت سروس روڑ پر ہرگز نہیں چیف جسٹس نے استفسار کیا نسلہ ٹاور کا اوریجنل پلان کہاں ہے؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کیا کہ آپ کی اورینجنل لیز 780 اسکوائر یارڈ تھی۔ کیا باقی اراضی ایڈیشنل لیز شدہ نہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کراچی میں ساری چائنہ کٹنگ اسی طرح ہو رہی ہے۔ زمین کچھ ہوتی ہے، قبضہ اس سے زیادہ کر لیا جاتا ہے۔سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ عمارت غیر قانونی ہے، عمارت گرائی جائے۔ عدالت نے بلڈر اور رہائشیوں کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے نسلہ ٹاور کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ عدالت نے نسلہ ٹاور کو فوری گرانے کا حکم دے دیا۔

علاوہ ازیں سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سندھ کی زمینوں کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے سے متعلق چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس قاضی محمد امین احمد پر مشتمل تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔سپریم کورٹ نے بورڈ آف ریونیو کو سندھ بھر کی زمینوں کا تمام ریکارڈ تین ماہ میں کمپیوٹرائزڈ کرنے کا حکم دے دیا۔

عدالت نے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر عدالتی فیصلے پر عمل نہ ہوا تو آپ کیخلاف عدالتی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ سرکاری اراضی واگزار کرواکر پارکوں میں تبدیل کیا جائے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سندھ میں تو مختیار کار وزیر بنے ہوئے ہیں۔ سرکاری زمینوں پر بادشاہوں کی طرح قبضے ہورہے ہیں۔ زمینوں پر قبضے ممبر بورڈ آف ریونیو کی وجہ سے ہو رہے ہیں۔ نمائشی اقدام کے لیے دیوار گراتے ہیں پھر اگلے دن تعمیر ہو جاتی ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو سے استفسار کیا کہ 2007 سے ریکارڈ اب تک کمپیوٹرائزڈ کیوں نہیں ہوا؟ آپ 2، 2 ماہ مانگ رہے تھے مگر برسوں گزر گئے۔ سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نے کہا کہ سوائے ٹھٹھہ ضلع کے تمام ریکارڈ مرتب کرلیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  سب کہتے ہیں سینٹ کے الیکشن میں پیسے چلتےہیں:وزیراعظم

جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ آپ نے آخری بار 2 ماہ کا وقت 2018 میں مانگا تھا۔ ٹھٹھہ کا ریکارڈ کیوں کمپوٹرائزڈ نہیں ہو پا رہا؟ 3 سال سے ٹھٹھہ کا ریکارڈ مرتب نہ ہونا عجیب بات ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ زمینوں پر قبضے ممبر بورڈ آف ریونیو کی وجہ سے ہو رہے ہیں۔ کراچی میں کون سی کھیتی باڑی ہو رہی ہے؟ آدھا کراچی سروے نمبر پر چل رہا ہے۔ عدالت نے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کو سرکاری اراضی واگزار کرانے کی ہدایت کردی۔ چیف جسٹس نے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر عدالتی فیصلے پر عمل نہ ہوا تو آپ ذمہ دار ہونگے۔ آپ کیخلاف عدالتی کارروائی عمل میں لائی جائیگی۔ بورڈ آف ریونیو کے تمام ذمہ داران کیخلاف کارروائی کرینگے۔ بلوچستان میں زمینوں کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے کے معاملے پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بلوچستان میں زمینوں کے بڑے تنازعات ہوتے ہیں۔ بلوچستان کی لینڈ سیٹلمنٹ جلد از جلد مکمل کی جائے۔ عدالت نے بلوچستان حکومت کو بھی ریکارڈ مرتب کرنے کا حکم دیدیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں