lina khan

ایف ٹی سی کی نئی پاکستانی نژاد سربراہ کیسے اس عہدے تک پہنچیں

EjazNews

امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے لینا خان کو ایسے وقت میں سربراہ مقرر کیا ہے جب ٹیکنالوجی کی صنعت کو کانگریس، ریگولیٹرز اور ریاستی اٹارنی جنرلز کے شدید دباو کا سامنا ہے۔

فیڈرل ٹریڈ کمیشن(ایف ٹی سی) کی سربراہی کے لیے پاکستانی نژاد لیگل سکالر لینا خان کے انتخاب کو ٹیک جائنٹس فیس بک، گوگل، ایمازون اور ایپل کے ایک سخت موقف کے عندئیے کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

وہ پانچ رکنی فیڈرل ٹریڈ کمیشن کا حصہ ہیں اور ان کی حمایت میں 69 اور مخالفت میں 28 ووٹ کے بعد سینیٹ کی جانب سے لینا خان کے تقرر کی تصدیق کی گئی جس کے چند گھنٹے بعد بعد انہوں نے ایف ٹی سی کی سربراہ کے عہدے کا حلف لیا۔

لینا خان لندن میں ایک پاکستانی خاندان میں پیدا ہوئی تھیں اور جب وہ 11 برس کی ہوئیں تو ان کے والدین امریکہ ہجرت کرگئے تھے۔لینا خان کولمبیا یونیورسٹی کے سکول آف لا میں ایک پروفیسر ہیں اور ییل لا سکول کی طالبہ کی حیثیت سے انہوں نے ایمازون اینٹی ٹرسٹ پیراڈاکس کے عنوان سے ایک تحقیقی مقالہ لکھا تھا جسے بہت زیادہ سراہا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  مودی سرکار کو بے نقاب کیا ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی

انہوں نے کنزیومر پرائسز پر بڑی کمپنیوں کی اجارہ داری کے اثرات کے تناظر میں اجارہ داریوں کو کنٹرول کرنے کے قوانین (اینٹی ٹرسٹ لا) کو ایک نئے انداز سے دیکھنے کی بنیاد رکھنے میں مدد دی۔

سال 2019 اور 2020 میں امریکی کانگریس کی ہاوس جوڈیشل کمیٹی کی وکیل کی حیثیت سے انہوں نے مارکیٹ میں دیوہیکل ٹیکنالوجی کمپینوں کی طاقت سے متعلق دو طرفہ تحقیقات میں کلیدی کردار ادا کیا۔

32 سالہ لینا خان ایف ٹی سی کی تاریخ کی سب سے کم عمر سربراہ بن گئی ہیں جو عام طور پر انڈسٹری میں مقابلے اور صارفین کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل پرائیویسی پر بھی پالیسی سازی کریں گی۔
سینیٹر الزبتھ وارن نے ایک بیان میں کہا کہ لینا کے پاس اس کردار کے لیے وسیع علم اور مہارت ہے اور وہ صارفین کے لیے ایک نڈر چیمپئن بنیں گی۔

لینا خان، ایف ٹی سی کمشنر روہت چوپڑا کی قانونی مشیر بھی تھیں اور ماضی میں اوپن مارکیٹس انسٹیٹیوٹ میں قانونی ڈائریکٹر بھی رہ چکی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  بھارت میں وائرس اتنی تیزی سے آخر پھیلا کیسے؟

اپنا تبصرہ بھیجیں