university of karachi

جامعہ کراچی کی خاتون استاد کو ہراساں کرنے کی کتنی سزا ملی ہے ؟ملزم کو

EjazNews

جامعہ کراچی کے شعبہ سائیکالوجی کے اسسٹنٹ پروفیسر کو اکتوبر 2016 میں ساتھی خاتون استاد کو ہراساں کرنے کا مرتکب پایا گیا اور سزا سنا دی گئی۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شرقی خالد حسین شاہانی نے فیصلہ سنایا جو شہادتوں کی ریکارڈنگ اور دونوں فریقین کے وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر محفوظ کیا گیا تھا۔

جج نے کہا کہ استغاثہ نے الزامات کا کامیابی سے دفاع کیا اور ملزم کا جرم کسی شک و شبہے کے بغیر ثابت کردیا۔

عدالت نے پریوینشن آف الیکٹرونک کرائمز ایکٹ 2016 کے سیکشن 21 کے تحت تین سال قید اور 10 لاکھ جرمانہ عائد کیا۔

عدالت نے ملزم کو تعزیرات پاکستان کے سیکشن 419 کے تحت مزید تین سال قید اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔

ملزم کو پی پی پی کے سیکشن 500 کے تحت مزید دو سال قید اور 50 ہزار جرمانہ عائد کردیا۔

جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں ملزم کو مزید 8 ماہ قید بھگتنی ہوگی تاہم عدالت نے کریمنل پروسیجر کوڈ کے سیکشن کے تحت انہیں سزا سنانے سے ہی قید کی مدت شروع ہونے کی اجازت دے دی۔
ضمانت حاصل کرنے والا ملزم عدالت میں موجود تھا اور انہیں گرفتار کرکے سزا پوری کرنے کے لیے جیل بھیج دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:  عمر اکمل پر تین سال کیلئے کسی بھی قسم کی کرکٹ کھیلنے پر پابندی عائد

استغاثہ کے مطابق خاتون استاد نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) میں شکایت درج کرادی تھی اور الزام عائد کیا تھا کہ کسی گرینوچ یونیورسٹی کے پیج پر نازیبا تصاویر کا ایک لنک پوسٹ یا شیئر کیا تھا جن کو ان کی تصاویر کے ساتھ ملایا گیا تھا اور بدزبانی بھی کی گئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ تفتیش کاروں نے فیس بک حکام کو جعلی آئی ڈی کی تفصیلات شکایت کنندہ کے نام جاری کرنے کی درخواست کی اور سماجی رابطے کی ویب سائٹ نے درکار تفصیلات کے ساتھ جواب دے دیا۔
استغاثہ نے مزید کہا کہ ملزمان کا تعاقب کیا گیا اور ان کے گھر سے گرفتار کرلیا گیا اور دوران تفتیش انہوں اعتراف کیا کہ انہوں نے درخواست کنندہ کے نام سے جعلی اکاو¿نٹ بنایا، ان کی تصاویر اور فحش زبان پوسٹ کی۔

اسپشل پراسیکیوٹر ذاکر حسین نےکہا کہ ایک براڈ بینڈ موڈیم، ایک کمپیوٹر اور ایک موبائل فرانزک جائزے کے لیے قبضے میں لے لیا گیا تھا اور ان ڈیوائسز سے ثبوت حاصل کیے گئے۔
ملزم نے سیکشن 342 کے تحت اپنے بیان میں الزامات مسترد کردیا اور خود معصوم قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں:  کیا یہی وجہ ہے پارٹی سے رہنمائوں کو نکالنے کی

وکیل صفائی احسن اللہ خان نے کہا کہ استغاثہ کے کیس میں کئی خامیاں ہیں، جس سے شکوک جنم لیتے ہیں کہ تفتیشی افسر نے مبینہ طور پر کمپیوٹر سے حاصل ہونے والے ثبوت پیش نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ شکایت کنندہ کی کوئی نامناسب تصویر پیش نہیں کی گئی، جس کا انہوں نے الزام عائد کیا تھا، اس لیے کیس پیکا 2016 کی سیکشن 21 کے ذمرے میں نہیں آتا۔

ان کا کہنا تھا کہ تفتیشی افسر فیس بک کی انتظامیہ اور انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والے سے حاصل ہونے والی کوئی معلومات پیش نہیں کیں جبکہ پولیس کے سامنے ماورائے قانون ان کے اعتراف کی کوئی قانون حیثیت نہیں ہے۔

یاد رہے کہ مقدمہ ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل پولیس اسٹیشن میں 4 اکتوبر 2016 کو خاتون ٹیچر کی شکایت پر پیکا 2016 اور پی پی سی کے متعلقہ سیکشنز کے تحت درج کیا گیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں