sohail warraich

میری ذات میں ایک پر اسرار سی اداسی ہے:سہیل وڑائچ

EjazNews

س: کچھ اپنے بارے میں بھی بتایئے، دوسروں سے سوال و جواب کرنا تو آپ کا معمول ہے؟
ج :مَیں 8نومبر 1962ء میں ضلع خوشاب کے شہر، جوہر آباد میں پیدا ہوا، جہاں ہمارا وڑائچ خاندان آباد تھا اور اب بھی ہے۔ مَیں اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا (اولاد) ہوں، تو، آپ سمجھ سکتے ہیں کہ کتنی خوشیاں منائی گئی ہوں گی۔ اسے میری خوش قسمتی سمجھیے کہ ایسے خاندان میں جنم لیا، جس کا اوڑھنا بچھونا، علم و ادب تھا۔ میرے والد ، چوہدری فیض سرور سلطان ٹیچر تھے۔ دادا، چوہدری علی بخش بھی استاد تھے اور نانا بھی درس و تدریس سے وابستہ تھے۔ میرے نانا اور دادا سگے بھائی تھے۔ نانا، چوہدری رحمت خان اسلامیہ کالج، لاہور میں علّامہ اقبال کے شاگرد رہے اور اُس زمانے کے گریجویٹ تھے، جب خال خال لوگوں کے پاس ہی یہ سند ہوا کرتی تھی۔ یہ بھی بتا دوں کہ میرا پیدائشی نام، سہیل سرور سلطان وڑائچ ہے، جو صحافت میں سہیل وڑائچ رہ گیا۔ ہمارا پورا گھرانہ علم کی دولت بانٹنے میں مصروف تھا، لیکن میرے حصّے میں یہ دولت کچھ اس انوکھے طریقے سے آئی کہ 8ویں تک کسی اسکول میں داخل نہیں ہوا، باقاعدہ پڑھائی کا آغاز 8ویں جماعت کے وظیفے کے امتحان سے کیا۔ اس سے پہلے تو یوں ہوتا تھا کہ جس اسکول میں کوئی اچھا ٹیچر ہوتا، مجھے وہاں بھیج دیا جاتا کہ سب پڑھانے والے تو اپنے تھے اور والدین چاہتے تھے کہ کسی اچھے ٹیچر سے پڑھوں۔ میری حاضری نہیں لگتی تھی، لیکن امتحان ہوتا، جس میں پاس ہو جاتا تھا۔ اس طرح چھوٹی عُمر ہی میں اپنے علاقے کے کئی اسکولز کا مزا چکھ لیا۔ بہرحال، مَیں جس اسکول بھی جاتا، صبح دُعا کے بعد اسمبلی میں علّامہ اقبال اور بہادر شاہ ظفر کے اشعار سُنایا کرتا۔ پھر تعلیمی خانہ بدوشی کا یہ سلسلہ اُس وقت رُکا، جب آٹھویں کے وظیفے کا امتحان ہوا اور مَیں باقاعدہ طور پر اسکول میں داخل ہوگیا۔ مَیں نے سب سے پہلے گورنمنٹ پرائمری اسکول نمبر1، پھر 2، پھر جوہر ہائی اسکول وغیرہ سے پڑھا۔ لیکن اُس وقت اندازہ نہ تھا کہ سَر پر ایک اور بڑی خانہ بدوشی منڈلا رہی ہے اور وہ یہ کہ آٹھویں جماعت میں وہاں کے اسکولز سے نکال کر، بھلوال کے ایک اسکول میں داخل کروا دیا گیا۔ اس سے پہلے مَیں 6,5اسکولز کا مزا چکھ چُکا تھا۔ اب بھلوال کا ذائقہ کڑوا لگا کہ ایک تو وہ کافی فاصلے پر تھا اور دوسرا، والدین سے بھی دُوری ہوگئی تھی۔ بھلوال میں میرے والد کے دوست اور قریبی عزیز، سرور کیانی صاحب اسکول ٹیچر تھے، مَیں اُن کے پاس رہا۔ میرے والد صاحب کا خیال شاید یہ تھا کہ’’ اچھی تعلیم حاصل کرو، چاہے گھر سے دُور (بھلوال) کیوں نہ جانا پڑے۔‘‘ شاید وہ قدیم عربوں کی روایات کے حامی تھے، جب والدین اپنے بچّوں کو اچھی تربیت کے لیے کسی دُور دراز معروف قبیلے میں بھیج دیا کرتے تھے۔ والدہ اسکول بھیجنے سے پہلے خود اپنے ہاتھوں سے میری کنگھی کرتیں، بال سنوارتی تھیں، بھلوال میں یہ سب کچھ ایک سہانا خواب لگنے لگا۔ اُس گائوں میں بجلی تھی، نہ کوئی اور سہولت۔ مَیں روزانہ سائیکل پر اسکول جایا کرتا۔ وہ خالصتاً دیہات کی زندگی تھی۔ بچپن ہی سے قدرت نے مشاہدے کی قوّت ودیعت کی تھی، مَیں گھر کی منڈیر پر بیٹھ کر آنے جانے والوں کا بہ غور جائزہ لیا کرتا۔

س: والدین سے دُوری اور دیہات کی پُرمشقّت زندگی نے نفسیات پر منفی اثرات تو مرتّب نہیں کیے؟
ج: جی نہیں۔ عام طور پر تو ایسا ہی ہوتا ہے، کیوں کہ بچپن اور ابتدائی زندگی میں والدین کا پیار اور محبّت بڑی اہمیت رکھتا ہے، لیکن دِل چسپ بات یہ ہے کہ مجھ پر اس کے مثبت اثرات مرتّب ہوئے۔ بھلوال میں تین سالہ قیام کے دَوران، مَیں اپنی خودمختار زندگی کی وجہ سے سخت جان، محنتی اور پُراعتماد ہو چُکا تھا۔ پہلے گھر میں اکلوتا ہونے کی وجہ سے لاڈلا اور گھر بھر کی آنکھوں کا تارا، پھر شہری بابو اور ’’ممّی ڈیڈی بچّے‘‘ کی بجائے، ایک سخت جان دیہاتی بچّے کی شکل میں ڈھل گیا۔ بھلوال میں سرور کیانی صاحب بھی میرا دھیان رکھتے تھے۔ وہاں خالصتاً تعلیمی ماحول تھا، جس سے ایک تو مجھے تعلیم سے بہت دِل چسپی پیدا ہوگئی، دوسرا گھر سے باہر رہ کر اتنا کچھ سیکھا کہ جس سے زندگی یک سَر تبدیل ہوگئی۔ بھلوال میں قیام کو آپ میری زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ بھی کہہ سکتے ہیں۔ مجھے وہاں رہ کر پتا چلا کہ لوگوں سے تعلقات کیسے استوار کیے جاتے ہیں۔ اُن میں گُھلا مِلا کیسے جاتا ہے۔ بعض لوگ ہاسٹل لائف کو اچھا نہیں سمجھتے، لیکن مَیں ہاسٹل کی زندگی کو بہت مثبت انداز میں لیتا ہوں کہ وہاں رہ کر زندگی گزارنے کا ڈھنگ آجاتا ہے۔ یہ صحیح کہ یار دوست، والدین کی جگہ نہیں لے سکتے، لیکن پھر بھی آپ کو تنہا رہ کر عملی زندگی سے نبردآزما ہونے کا سلیقہ آجاتا ہے۔

س: اس دوران گھر کا چکر تو لگتا ہوگا؟
ج: آنا جانا تو رہتا تھا، لیکن میرا خیال ہے کہ بورڈنگ ہائوس یا کسی اور کے گھر میں رہنا انسان کی گھر سے محبّت کو کچھ کم کردیتا ہے۔ جذبات کی حدّت میں ایک توازن آ جاتا ہے اور یہ توازن ایک لحاظ سے اچھا بھی ہے کہ آپ نے تمام زندگی گھر سے باہر ہی رہنا ہوتا ہے، لیکن اس لحاظ سے منفی ہے کہ الگ تھلگ رہ کر آپ اپنے دُکھ اور غم چُھپا لیتے ہیں، کسی سے شئیر نہیں کرتے، چُھپ چُھپ کر روتے ہیں۔ اپنوں سے دُوری کا احساس وبالِ جان بن جاتا ہے اور میرے ساتھ بھی یہی ہوا۔ مَیں والدہ کو بہت زیادہ مِس کرتا تھا اور کئی دفعہ رات کی تنہائیوں میں روتا تھا۔ والدہ بھی مجھے بہت یاد کرتی تھیں۔لیکن دسویں جماعت تک پہنچا، تو احساسات خود بہ خود میچور ہوگئے۔ گھر سے دُور رہنے والے بچّے ویسے بھی اپنے آپ کو بڑا سمجھنے لگتے ہیں۔ یوں مجھے بھی حالات نے آٹھویں اور دسویں ہی میں جوان کردیا تھا۔

س: بچپن میں شرارتیں تو خُوب کرتے ہوں گے؟
ج: بہت شرارتی تھا اور کلاس فیلوز کو تنگ کرنے میں بڑا مزا آتا تھا۔ مَیں ایک ڈرامے میں لڑکی بنا، جس کے بعد کلاس فیلوز مجھے چھیڑنے لگے، لیکن اس ڈرامے نے مجھے ایک نئی جرأت دی۔ یہ دسویں جماعت کا واقعہ ہے کہ مَیں نے ایک لڑکے سے شرارت کی، تو اُس نے میرے چچا سے شکایت کر دی۔ چچا نے باقاعدہ اسکول آکر چیک کیا، تو کلاس کے تمام دوستوں نے میرے خلاف شکایات کے انبار لگا دیے کہ’’ یہ ہمیں ہر وقت تنگ کرتا رہتا ہے۔‘‘ کیانی صاحب نے کچھ نہ کہا، لیکن اُن کی خاموشی مجھ سے یہ کہہ رہی تھی کہ’’ مجھے تم سے یہ امید نہ تھی۔‘‘ اُن کی اس خاموشی نے میری زندگی بدل دی۔ پہلی مرتبہ میرے دل نے کہا’’یار! تم کیسے شخص ہو، جس سے ہر شخص تنگ ہے‘‘۔ پھر مَیں نے لوگوں کے دِل جیتنے کا عہد کرلیا۔ آج میری زندگی میں یہ جو عاجزی، انکساری اور دھیما پن ہے، یہ شاید اُسی زمانے کا لگایا ہوا پودا ہے، جو اب تناور درخت بن چُکا ہے۔ اب جہاں بھی جاتا ہوں، میری کوشش ہوتی ہے کہ لوگ مجھ سے خوش رہیں۔ میرا ماٹو یہی ہے کہ (YOU HAVE TO WIN THE PEOPLE)ہر شخص کو چاہیے کہ دوسرے کو اکاموڈیٹ کرے، اسی میں راحت اور خوشی ہے۔ آپ کسی کو بے زار کریں گے، تو لازماً خود بھی ہوں گے اور یوں بھی انکساری و عاجزی، مسکراتے رہنے میں ایک دھیلا خرچ نہیں ہوتا۔

س: بھلوال کے بعد اگلی منزل کون سی تھی؟
ج: ایف ایس سی کے لیے سرگودھا کے ایک کالج میں داخلہ لے لیا۔ اس دوران میرا ادب سے لگائو بڑھتا ہی گیا اور شاید اساتذہ کو بھی میرا علمی و ادبی ذوق نظر آگیا، لہٰذا گورنمنٹ کالج، سرگودھا کے مجلّے’’ضیا بار‘‘ کا ایڈیٹر بنا دیا گیا۔ 1979ء میں’’ مجلسِ اقبال‘‘ کا سیکرٹری منتخب ہوا۔ اُس سال ہم نے’’ سالِ اقبال‘‘ بہت شان و شوکت سے منایا۔ اُس وقت گورنمنٹ کالج، سرگودھا میں اساتذہ کی ایک کہکشاں تھی، جس میں غلام جیلانی اصغر، ڈاکٹر خورشید رضوی اور پروفیسر رفیع الدّین ہاشمی جیسے عظیم المرتبت اساتذہ موجود تھے۔’’ مجلسِ اقبال‘‘ کا ایک جلسہ مجھے اب بھی یاد ہے، جب پرنسپل، غلام جیلانی اصغر اور صرف مَیں اسٹیج پر بیٹھے تھے، جو میرے لیے بڑے اعزاز کی بات تھی۔’’ مَیں شاہین ہاسٹل‘‘ میں رہتا تھا اور میس منیجر بھی تھا۔ ہاسٹل کے دوستوں کو سستے داموں اچھے کھانے کھلایا کرتا، جس کی وجہ سے لڑکے مجھ سے خوش رہتے۔ کھانوں کو ٹیسٹ بھی خود کیا کرتا، تو کھانے چکھ چکھ کر مجھ میں خوش خوراکی کا رجحان پیدا ہوا، جو بالآخر موٹاپے پر ختم ہوا۔ اگلی منزل ایف سی کالج، لاہور تھی۔ علم و ادب کے گہوارے اور تہذیب و ثقافت کے مرکز، لاہور میں میرا داخلہ لٹریچر اور لکھنے لکھانے کی تشنہ آرزوئوں کے لیے ایک مہمیز ثابت ہوا۔ والدین مجھے ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے، لیکن ایف ایس سی میں 598نمبر آئے اور میڈیکل کالج کا میرٹ 603تھا۔ یعنی 5نمبرز سے رہ گیا۔ دوبارہ امتحان دیا، تو 599نمبر آئے، مگر تب تک میرٹ 640پر چلا گیا، لہٰذا، ڈاکٹر بننے کا چکر ختم ہوا اور بی ایس سی میں داخلے کے لیے ایف سی کالج، لاہور آگیا۔ داخلہ تو سائنس کے مضامین میں لیا، لیکن اوڑھنا بچھونا اُردو لٹریچر ہی تھا۔ چناں چہ، کالج میگزین ’’فولیو‘‘ کا ایڈیٹر بن گیا۔ یاد رہے، ایڈیٹر کے انتخاب کے لیے باقاعدہ امتحان ہوا۔ خیر، مجھے بہ طورِ ایڈیٹر ایک کمرا مل گیا۔ علم و ادب سے ضرورت سے زیادہ لگائو کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ بی ایس سی کے ایک مضمون میں فیل ہوگیا اور جن مضامین میں پاس تھا، اُن پر بھی حیرت تھی کہ کیسے پاس ہوگیا، لیکن اُس وقت مَیں نے اسٹینڈ لے لیا کہ اب سائنس نہیں پڑھنی۔ پھر بی اے کا پرائیویٹ امتحان دے کر ایک نئی زندگی شروع کی۔ بی اے کے امتحان میں، مَیں نے انگریزی کے مضمون میں پوری یونی ورسٹی میں دوسری پوزیشن حاصل کی، جس کی بنیاد پر مجھے پنجاب یونی ورسٹی میں انگلش لٹریچر میں داخلہ مل گیا۔ یوں زندگی کا ٹریک تبدیل ہوگیا، جو میرے لیے انقلاب آفرین ثابت ہوا۔ مَیں سی ایس ایس کرنا چاہتا تھا اور تیاری بھی شروع کردی تھی، لیکن ذہن کے نہاں خانوں میں لٹریچر کی مچلتی آرزوئیں، سی ایس ایس کی خواہش پر غالب آگئیں۔ اُسی زمانے میں لاہور میں بہ حیثیت سب ایڈیٹر، روزنامہ ’’جنگ‘‘ جوائن کرلیا۔ ساتھ ساتھ ایم اے انگلش بھی کیا اور شاید والدین سے ملنے والے درس و تدریس کے جینز ہی کا اثر تھا کہ چاہتے، نہ چاہتے ہوئے بھی درس و تدریس سے وابستہ ہوگیا۔ صحافت کے ساتھ، لاہور کے دو کالجز، راوی روڈ اور ایف سی کالج میں انگریزی کے لیکچرار کے طور پر خدمات انجام دیں۔ پھر 2000ء میں درس و تدریس سے 5سال کی چُھٹی لے لی اور بالآخر 2005ء میں درس و تدریس کا شعبہ چھوڑ کر صحافت کو مکمل طور پر اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ اُس وقت تک میرے سیاسی تجزیے اور مضامین فرنٹیئر پوسٹ، نیشن اور نوائے وقت میں چَھپ رہے تھے، لیکن ’’جنگ‘‘ میری تمام تر صحافتی سرگرمیوں کا محور تھا۔ شوق، محنت اور کولیگز کی حوصلہ افزائی کے سبب مجھے سیاسی تجزیہ نگاری اور انتخابی پراسیس میں تخصیص حاصل ہوگئی۔ سیاسی خاندانوں کے نشیب و فراز بھی مجھے زبانی یاد تھے۔ سو، الیکشنز کے موقعے پر میری ان صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا جاتا۔ اُس وقت تک’’جیو‘‘کا آغاز نہیں ہوا تھا۔ اس دوارن مجھے ایک انتظامی عُہدے کی پیش کش کی گئی، لیکن میرا خیال تھا کہ مَیں عملی صحافت کے لیے زیادہ موزوں ہوں۔ پھر ’’جیو‘‘ کی آمد کے بعد بھی مَیں کافی عرصہ پس منظر میں رہا۔ اگست 2002ء کے الیکشن میں’’جیو‘‘ کو کچھ سیاست دانوں کے انٹرویوز کی ضرورت پڑ گئی۔ چوں کہ یہ میری ’’بیٹ‘‘ تھی، اس لیے یہ ذمّے داری مجھے سونپ دی گئی اور یوں پرنٹ میڈیا سے الیکٹرانک میڈیا کا سفر شروع ہوا، جو آج بھی جاری ہے۔ یہ میری زندگی کی ایک خوش گوار تبدیلی تھی۔ الیکشن سیل ہو، سیاسی تجزیے ہوں، ’’ایک دن جیو کے ساتھ‘‘ ہو، ہر پروگرام میں اپنی سیاسی بصیرت کے مطابق ،اظہارِ خیال کی کوشش کرتا ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:  شادی سے پہلےایک ٹیسٹ کروا کر آنے والی نسل کو اس مرض سے بچایا جاسکتا ہے

sohail warraich1

س: ’’ جنگ‘‘ میں پہلا اسائمنٹ کیا تھا؟
ج: مَیں نے ترجمے سے آغاز کیا اور جو پہلا ترجمہ کیا، وہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا این پی ٹی پر مضمون تھا، جو 36اقساط میں شایع ہوا، لیکن اس پر میرا نام شایع نہیں ہوتا تھا۔ بعدازاں، جونیئر ہونے کے باوجود سیاسی تجزیوں میں میری معاونت حاصل کی جاتی، کیوں کہ خانوادوں اور سیاسی خاندانوں کی بائیوگرافی مجھے زبانی یاد تھی، تو اسی اہلیت کی بنا پر مجھے سب ایڈیٹنگ سے رپورٹنگ میں منتقل کردیا گیا، جو کہ کسی اخبار نویس کے لیے ایک اعزاز کی بات ہوتی ہے۔ ویسے تو صحافت میں ہر جگہ مقابلہ و مسابقت، حسد وغیرہ نظر آتا ہے، لیکن مجھ پر ہمیشہ اللہ کا فضل رہا کہ کولیگز نے حوصلہ افزائی اور عزّت افزائی کی۔

س: اس قدر سیاسی معلومات کیسے جمع کیں؟
ج: چوں کہ ہمارے گھر میں علمی و ادبی ماحول تھا، سب لوگ شعبۂ تعلیم سے وابستہ تھے، تو مجھے بھی مطالعے اور تجزئیات کا شوق تھا۔ بچپن میں مشرق، مساوات، نوائے وقت اور پاکستان ٹائمز پڑھتا تھا۔ گھر میں تو پاکستان ٹائمز آتا تھا، جب کہ دیگر اخبارات حجام کی دُکان یا کھوکھوں وغیرہ پر جا کر پڑھتا۔ اسی لیے اگر گھر میں بھی کسی خبر پر بحث ہوتی، تو اُس کے پس منظر اور تجزیے کے لیے مجھے بلایا جاتا۔

س: الیکشن کوریج میں دِل چسپی شروع سے تھی؟
ج: جی بالکل۔ یہ شروع سے میرا پسندیدہ شعبہ تھا اور اب بھی ہے۔ تاہم 1998ء میں الیکشن کی بھرپور کوریج سے مزید بہتری کی طرف گام زَن ہونے کا موقع ملا ۔ مَیں فرنٹیئر پوسٹ اور دی نیشن کے الیکشن سیلز کا انچارج بھی رہا۔ اس بار یعنی 2018ء میں’’ جیو الیکشن سیل‘‘ کا انچارج تھا اور مسلسل8 گھنٹے ٹی وی نشریات میں حصّہ لیا، جسے مَیں ایک غیر معمولی بات سمجھتا ہوں۔

س: سیاسی شخصیات سے انٹرویوز میں بھی آپ نے نئے ٹرینڈز متعارف کروائے؟
ج:مَیں تقریباً 1500 انٹرویوز کر چُکا ہوں۔ 500جیو کے لیے، 700’’جنگ ‘‘کے لیے اور باقی دوسرے چینلز کے لیے۔ مَیں سمجھتا ہوں، انٹرویو دراصل ایک آرٹ آف کمیونی کیشن ہے کہ کس طرح آپ کسی سے دِل کی بات اگلوا لیتے ہیں، لیکن اس کے لیے گفتگو کے آداب سے واقفیت بھی ضروری ہے اور انٹرویو لینے والے کی کم از کم اتنی نالج ضرور ہونی چاہیے کہ انٹرویو دینے والا متاثر ہو۔

س: کس شخصیت نے سب سے زیادہ متاثر کیا؟
ج: ویسے تو ہم جس سے بھی انٹرویو کرتے ہیں، ظاہر ہے اُس میں کوئی نہ کوئی انفرادیت ضرور ہوتی ہے،لیکن اگر زیادہ متاثر کرنے والی بات ہے، تو نواب زادہ نصراللہ خان، خان عبدالولی خان، محترمہ بے نظیر بھٹّو، مدرٹریسا، اجمل خٹک، عبدالحفیظ پیرزادہ میرے نزدیک جینیئس تھے اور ہاں، نواب اکبر خان بگٹی سے بھی بہت طویل انٹرویو ہوا، مَیں نے اُنہیں بھی بہت ذہین پایا، البتہ ذوالفقار علی بھٹّو سے ملنے کا موقع نہ مل سکا۔ مَیں نے محترمہ بے نظیر بھٹو سے بہت کچھ سیکھا۔ اُن سے کافی ملاقاتیں رہیں، جب کہ مدرٹریسا سے میرا انٹرویو بہت ہِٹ ہوا۔

س: نوازشریف کو کیسا پایا؟ آپ نے اُن پر ایک کتاب بھی تو لکھی ہے۔
ج: نوازشریف ایک ذہین اور سمجھ دار انسان ہیں، لیکن اپنی ذہانت اور دانش چُھپا کر رکھتے ہیں۔ معصوم چہرے سے لگتا ہے، اُنہیں کچھ پتا نہیں، لیکن اُنہیں سب معلوم ہوتا ہے۔ زرداری صاحب ڈرائینگ روم پالیٹکس کے ماہر ہیں۔ غریب، مزدوروں اور کسانوں کی سیاست سے اُن کا کوئی رشتہ نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  تحریک آزادی میں مردوں کے شانہ بشانہ اب عورتیں بھی کھڑی ہیں

س: ’’ایک دن جیو کے ساتھ‘‘ کا آئیڈیا کیسے آیا؟
ج: ’’ایک دن، سیاست دان کے ساتھ‘‘ کا آئیڈیا ہم ’’جنگ‘‘ میں پہلے ہی کر چُکے تھے۔ 2002ء میں’’ جیو‘‘ پر اسے متعارف کروایا، تو اس کا بہت اچھا ریسپانس ملا۔ یہ نہیں بتا سکتا کہ کون سا انٹرویو یادگار رہا، کیوں کہ یہ انٹرویوز بچّوں کی طرح ہیں۔ جیسے اولاد کو ایک دوسرے پر ترجیح نہیں دی جاسکتی، اسی طرح ان کا معاملہ ہے۔

س: آپ کے منفرد لہجے کو بڑی پزیرائی ملی،’’کیا یہ کُھلا تضاد نہیں‘‘ تو بہت مقبول ہوا، جس کی لوگ نقل بھی کرتے ہیں، آپ کا کیا ردّ ِعمل ہوتا ہے؟
ج: میرا خیال ہے کہ دنیا میں بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں، جن کی’’کوجیاں‘‘ بھی اچھائیاں بن جائیں۔ مَیں وہ خوش قسمت شخص ہوں، جس کے ٹیڑھے میڑھے الفاظ بھی اسٹائل بن گئے۔ مجھے تو اس بات پر اللہ کا شُکر ادا کرنا چاہیے۔ اگر لوگ نقل کرتے ہیں، تو اس سے بڑی اور کیا بات ہوگی کہ معاشرے میں کئی سہیل وڑائچ موجود ہیں۔ وہ میری نقل نہیں، بلکہ میری اصل ہیں۔میرا خیال ہے کہ’’کُھلا تضاد‘‘ ہمارے معاشرے کا ایک المیہ ہے اور ہمیں قدم قدم پر اس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی لیے یہ فقرہ ہِٹ بھی ہوگیا۔ ایک پروگرام میں میرے اس انداز کی بہت کاپی کی جاتی تھی۔ دِل چسپ بات یہ ہے کہ جو صاحب میرا کردار کرتے تھے، مَیں اُنہیں ڈرامے میں پہننے کے لیے اپنے کپڑے بھی بھجوایا کرتا تھا، جو اُن پر فِٹ آتے تھے۔

س: اب تک کتنے مُلک دیکھ چُکے ہیں؟اور کون سا مُلک زیادہ اچھا لگا؟
ج: تقریباً سارا یورپ، شمالی امریکا، گلف کے ممالک، آسٹریلیا اور افریقا دیکھ چُکا ہوں، لیکن اب بھی بہت کچھ دیکھنے کو باقی ہے۔سال میں ایک دو مرتبہ چند دنوں کے لیے بیرونِ مُلک ضرور جاتا ہوں۔ جب تک آپ باہر نہ جائیں، آنکھیں کُھلتی ہیں، نہ ذہن وسیع ہوتا ہے۔تُرکی اور ہالینڈ کا جواب نہیں۔ وہاں قدرتی حُسن بھی ہے اور انسان بھی بہت خُوب صورت ہیں۔ لیکن اگر مجھے کسی بھی مُلک میں سیٹل ہونے کا موقع ملا، تو پھر بھی مَیں پاکستان ہی کو ترجیح دوں گا، جس کی ٹوٹی پھوٹی گلیاں بھی میرا اثاثہ ہیں۔ یقین کریں کہ اگر کبھی اپنے مُلک سے باہر قیام طویل ہو جائے، تو مجھے پاکستان کے درخت، گلیاں، بازار بہت یاد آتے ہیں۔ پاکستان جیسا بھی ہے، اس کی مٹّی سے محبّت کی خوش بُو آتی ہے۔

س: آپ کی صبح کب ہوتی ہے؟
ج:مَیں صبح جلدی اٹھنے والا شخص ہوں۔ رات کو جلدی (ساڑھے دس بجے) سو جاتا ہوں۔ صبح 5بجے اٹھ جاتا ہوں اور میرے لکھنے، پڑھنے کا زیادہ تر کام صبح ہی کو ہوتا ہے۔ البتہ کالم دن کے کسی حصّے میں لکھتا ہوں۔ رات کو لائٹ ریڈنگ (ناول، تاریخ وغیرہ) ہوتی ہے اور صبح کو زیادہ تر سیاسی کتابیں زیرِ مطالعہ رہتی ہیں۔

س: جاب کے بعد فیملی کے لیے وقت بچتا ہے؟
ج: ہماری مختصر فیملی ہے۔ مَیں، میری اہلیہ، ثمینہ قادر اور بیٹا، رحمت علی بخش وڑائچ۔ لوگ سمجھتے ہیں مصروفیات کی بنا پر فیملی کو وقت مشکل سے دے پاتا ہوں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ میرا زیادہ تر وقت گھر پر بیوی اور بیٹے کے ساتھ گزرتا ہے۔ میرا گھر ہی میری جنّت ہے۔ مَیں یا دفتر میں ہوتا ہوں یا گھر۔

س: واک کرتے ہیں؟
ج: بنیادی طور پر بہت سُست واقع ہوا ہوں اور اسی سُستی کی وجہ سے فربہ بھی ہوں۔ پھر خوش خوراک بھی ہوں، یہ بھی ایک اضافی بوجھ ہے۔

س: بیٹے کو کیا بنائیں گے؟
ج: جو وہ بننا چاہے۔ ہم صرف مشورہ دے سکتے ہیں، اپنی مرضی مسلّط نہیں کریں گے۔ تاہم، ہم اتنا ضرور چاہتے ہیں کہ وہ اکانومسٹ بنے۔ آج کل ہمارے درمیان یہی ڈسکشن چل رہی ہے۔

س: کتابوں میں آنکھ کھولی۔ ذاتی لائبریری کتنی بڑی ہے؟
ج: مَیں نے اپنا اصول بنایا ہوا ہے کہ وہی کتاب پڑھتا ہوں، جو اپنے پیسوں سے خریدی ہو۔ اکثر ریفرنس کی ضرورت پڑتی ہے، تو میری لائبریری میں زیادہ تر کتابیں ہسٹری، سیاست، مذہب اور فلاسفی کے موضوعات پر ہیں، جب کہ تعداد ہزاروں میں ہوگی۔مَیں نے اپنے زمانۂ طالبِ علمی میں’’ شاہین لائبریری‘‘ کے نام سے اپنی ذاتی لائبریری بھی بنائی ہوئی تھی۔

س: خود کتنی کتابیں لکھی ہیں؟
ج: سات کتابیں لکھ چُکا ہوں( 1) چھوٹے صوبے پنجاب سے ناراض کیوں( 2) مذہبی سیاست کے تضادات( 3) عدلیہ کے عروج و زوال کی کہانی (4) جرنیلوں کا سیاسی کردار( 5) غدّار کون( 6) قاتل کون( 7) دی پارٹی از اوور۔ ان میں سے کچھ ہندی، سندھی اور انگریزی میں ترجمہ ہو چُکی ہیں۔میری کتاب’’ قاتل کون‘‘ کے مندرجات سے یو این او کے سیکرٹری جنرل، بانکی مون نے بھی اتفاق کیا تھا۔ ایک کتاب آنے والی ہے، جو میرے انگریزی میں لکھے گئے مضامین کا مجموعہ ہے۔

س: بعض کتابوں پر ردّ ِعمل کا سامنا بھی کرنا پڑا؟
ج: جی ہاں۔ خاص طور پر’’ قاتل کون‘‘ اور’’ غدّار کون‘‘ پر کافی ردّ ِعمل آیا۔ غدّار کون پر تو جنرل (ر) پرویز مشرف نے پریس کانفرنس بھی کی تھی۔ بہرحال، کتاب اور اچھی صحافت تو وہی ہے، جس پر کچھ ردّ ِعمل دیکھنے میں آئے۔

س: آپ کی شخصیت سے منکسرالمزاجی، عاجزی، دھیما پن جھلکتا ہے۔ یہ وراثتی خُوبی ہے یا ذاتی کوششوں کا نتیجہ؟
ج: میرا خیال ہے اس میں وراثت کا عمل دخل زیادہ ہے، تاہم اسے پروان مَیں نے خود چڑھایا۔ والد صاحب شروع ہی سے مجھے کہتے رہے کہ’’ ہمیشہ لوگوں سے جُھک کر ملو۔ لوگوں کو احترام دو۔ اُن کے جذبات کا احترام کرو‘‘۔ اس معاملے میں وہ کافی سخت بھی تھے۔ میرا بچپن کا کام، مہمانوں کے ہاتھ دھلوانا اور تولیے سے صاف کروانا تھا۔ بعد میں عاجزی میری شخصیت کا حصّہ بن گئی۔ پھر مَیں نے یہ بھی محسوس کیا کہ لوگ آپ کے اس طرزِ عمل سے خود کو بہت آرام دہ محسوس کرتے ہیں۔ ویسے بھی اللہ تعالیٰ کو عاجزی پسند ہے، بشرط یہ کہ اس میں خلوص ہو۔ جب بندے کو آخرکار مٹّی ہی میں مل جانا ہے، تو پھر اِترانا اور مغرور ہونا کس بات پر۔

س: اپنی کام یابیوں کے پیچھے کس کا ہاتھ سمجھتے ہیں؟
ج: والدین اور چچا، ارشد محمود وڑائچ کی دعائوں کا۔ مَیں سمجھتا ہوں، انسان محنت و مشقّت تو کرتا ہے، لیکن بزرگوں کی دُعائیں بھی کام کرتی ہیں۔ مَیں جب لاہور آیا، تو اپنے چچا کے پاس ٹھہرا اور پھر اُنہوں نے ہی میری دیکھ بھال کی۔ وہ چچا کم اور والد زیادہ تھے۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا تھا، جب ہم دونوں میں بات چیت اور حالاتِ حاضرہ پر گفتگو نہ ہوتی۔ وہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں سیلز منیجر کے عُہدے پر فائز تھے۔ اُن کا ایک سال پہلے انتقال ہوگیا۔ والد1987ء اور والدہ 2005ء میں انتقال کر گئیں، لیکن بزرگوں کی دُعائیں اب بھی شاملِ حال ہیں۔

س: کون سی ایسی یادیں ہیں، جنھیں بھلا نہیں سکتے؟ اور کیا کبھی عشق کیا؟
ج: مَیں تلخ یادیں بُھلا دیتا ہوں، حَسین یادیں دل سے لگا کر رکھتا ہوں اور اب حسین یادیں تو بہت ہیں، کس کس کا ذکر کروں۔ عشق بھی بہت سے کیے، لیکن پروان کوئی نہیں چڑھا۔

س: کیا زندگی میں محبّت کرنا ضروری ہے؟
ج: ہاں جی بہت ضروری، بلکہ لازمی ہے۔ انسان اُس وقت تک مکمل نہیں ہوتا، جب تک ہر طرح کے احساسات و جذبات کا تجربہ نہ کرلے۔ اگر آپ نے زندگی میں محبّت نہیں کی، تو اس کا مطلب ہے کہ آپ زندگی میں ایک لطیف اور خُوب صورت جذبے سے محروم رہ گئے۔ حُسن کو (Appreciate)نہ کرنے والے، انسانی جذبات سے عاری ہوتے ہیں۔ حُسن کی تعریف کرنا تو انسان کی فطرت میں شامل ہے اور ضروری نہیں کہ یہ حُسن آپ صرف کسی خاتون ہی میں تلاش کریں۔ حُسن قدرت کا عطیہ اور ایک نعمت ہے، اب چاہے وہ کسی بھی چیز میں ہو۔

یہ بھی پڑھیں:  کرفیو کی وجہ سےکشمیری لوگ گھروں میں مر رہے ہیں، لیکن عالمی برادری کو ان کی آواز نہیں سنائی دے رہی

س: کوئی ایسا کام ہے، جسے کرنے کو بہت دل چاہتا ہو ؟
ج: میرا اُردو ناول لکھنے کو بہت دل چاہتا ہے، لیکن وقت کی کمی آڑے آتی ہے۔ سارے شوق پورے کر لیے، بلکہ اپنی توقّعات سے بڑھ کر کیے۔ مثلاً جتنی دولت سوچی بھی نہیں تھی، اتنی ملی۔ اتنی عزّت کا تصوّر بھی نہیں کیا تھا، جتنی اللہ نے عنایت کردی۔ پروفیشن میں بھی سوچ سے بڑھ کر توقیر حاصل ہوئی۔بس، اب ایک ناول لکھنے کی خواہش رہ گئی ہے، وہ بھی انشاء اللہ پوری ہوگی۔

س: کوئی ایسا دن، جس جیسے ہزاروں دن گزارنے کی خواہش ہو؟
ج: ہمیں اللہ تعالیٰ نے شادی کے 12سال بعد بیٹا عطا کیا، وہ بے حد خوشی کا دن تھا۔ رحمت وڑائچ اِس وقت نویں کلاس میں ہے۔ ویسے مَیں خوشیوں اور غموں کو زندگی کی روٹین سمجھتا ہوں۔ خوشی اور غم کو سینے سے لگا کر نہیں رکھتا اور اپنی ذاتی خوشیوں پر اتنا خوش نہیں ہوتا، جتنا دوسروں کے غموں پر رنجیدہ۔ مجھے اپنے قریبی عزیز کی وفات پر اتنا رونا نہیں آتا، لیکن کسی اور کو روتے دیکھ کر آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔

س: ہمیشہ درست فیصلے کرتے ہیں یا فیصلے کر کے اُسے درست بناتے ہیں؟
ج: کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے بہت سوچتا ہوں۔ اس کے باوجود کوئی غلط فیصلہ ہو جائے، تو پھر اُسے قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کر لیتا ہوں۔ جلدی اور غصّے میں فیصلے نہیں کرتا۔ اگر بعد میں بدلنا پڑے، تو بدل بھی لیتا ہوں۔

س: کس شخص کے ساتھ وقت گزارنا اچھا لگتا ہے؟
ج: مجھے تو حَسین چہرے اچھے لگتے ہیں۔ فطرت اور نیچر سے محبّت ہے۔ میرا دِل کرتا ہے کہ کوئی دن ایسا ہو کہ سارا دن نیچر کے ساتھ گزاروں۔ پھول، پرندے، گھاس، درخت، خُوب صورت انسان، شاید وہ میری زندگی کا حَسین ترین دن ہوگا۔ ایک مشہور فلاسفر، سیسرو نے کہا تھا ’’جس گھر کے اندر لائبریری اور باغ ہو، وہ جنّت ہے‘‘۔

س: جب شدّت سے رونے کو جی چاہے، تو کس کے ساتھ کی خواہش ہوتی ہے؟
ج: مَیں تنہائی میں روتا ہوں۔ اُس وقت جذبات کنٹرول میں نہیں رہتے۔ بہت نرم دل ہوں اور کسی کی درد بَھری داستان سُن کر، کچھ پڑھ کر، یا دیکھ کر رو پڑتا ہوں۔ اگر میرے اوپر کچھ گزر رہی ہو، تو شاید ایک آنسو بھی نہ نکلے، لیکن کسی اور کے اوپر گزر رہی ہو، تو میرے آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔

س: اگر قبل از وقت موت کا علم ہو جائے، تو کیا کریں گے؟
ج: موت کے لیے ہر وقت تیار رہتا ہوں، کیوں کہ کئی برسوں سے اپنے آپ کو سمجھا رکھا ہے کہ یہ کسی کے کنٹرول میں نہیں، بس اتنی خواہش ضرور ہے کہ بیوی اور بیٹا میرے بعد رُل نہ جائیں۔ کسی نہ کسی طرح اُن کا سسٹم چلتا رہے، اور تو ساری خواہشیں پوری ہوگئی ہیں۔ اللہ کا جتنا شُکر کروں کم ہے، ورنہ لالچ تو کبھی پورا نہیں ہوتا۔ یہ بھی شُکر کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے تمام الائشوں سے بچا کے رکھا۔ ہم نے سب سے بڑا ہیرو تو بننا نہیں، ہر ایک نے زندگی کے ڈرامے میں اپنا اپنا کردار ادا کر کے چلے جانا ہے۔ سو، کوشش یہ ہونی چاہیے کہ جب آپ دنیا کے اسٹیج سے نیچے(زیرِ زمین) اُتریں، تو لوگ آپ کے لیے تالیاں بجائیں۔ آپ کو اچھے الفاظ میں یاد کریں۔

س: کس بات پر غصّہ آتا ہے۔ بہ ظاہر تو نہیں لگتا کہ غصّہ بھی آتا ہوگا؟
ج: نہیں ایسا نہیں ہے، مَیں بھی انسان ہوں۔ پہلے بہت غصّہ آتا تھا، اب کنٹرول میں رکھتا ہوں۔ اب تو جب بھی غصّہ آتا ہے، اپنے آپ پر آتا ہے، لیکن میں فوراً جھٹک دیتا ہوں اور شرمندہ بھی ہوتا ہوں۔

س: بڑھاپے میں کیا کریں گے؟
ج: سب کچھ اللہ پر چھوڑ دیا ہے۔ آپ بڑھاپے کو تو روک نہیں سکتے اور احتیاطی تدابیر بھی کتنی اختیار کرلیں گے؟ میرے چچا، جو والد کی طرح تھے، بہت ڈسپلنڈ زندگی کے عادی تھے۔ روزانہ ورزش کرتے، کھانے پینے میں بہت احتیاط کرتے، مگر اس کے باوجود اُنھیں کینسر ہوگیا۔ آخری دِنوں میں مجھ سے کہتے ’’یار سہیل! کچھ کھایا پیا کر۔ ساری زندگی احتیاط کر کے دیکھ لیا، یہ زندگی کسی کے قابو میں نہیں‘‘۔

س: پہلی بار فلم کب دیکھی، موسیقی سے بھی دل چسپی ہے؟

ج؛ بچپن میں۔ جب اچھی فلمز بنتی تھیں اور لوگ فیملیز کے ساتھ دیکھتے تھے۔ اب فلمز سے زیادہ کُتب میں دِل چسپی لیتا ہوں۔
اور یہ تو ممکن ہی نہیں کہ ایک ادیب، شاعر اور گداز دِل رکھنے والا شخص موسیقی سے لُطف اندوز نہ ہو۔ مَیں نے گھر میں سینٹرل آڈیو سسٹم لگایا ہوا ہے، جہاں ہم قوالی اور غزلیں وغیرہ سُنتے ہیں۔

س: تنہائی میں کیا گنگناتے ہیں؟
ج: بچپن کا ایک گانا ذہن میں بیٹھا ہوا ہے’’کہندے نے نیناں، ترے کول رہناں‘‘ بس مَیں سُروں کا دھیان رکھے بغیر یہی اکثر گنگنا لیتا ہوں۔

س: کوئی پسندیدہ ادیب، شاعر، مصنّف؟
ج: پسند وقت کے ساتھ بدلتی رہتی ہے۔ ایک تُرک ناولسٹ، اورہان پاموک آج کل میرا پسندیدہ مصنّف ہے۔ دوسرا پسندیدہ مصنّف، امریکی صحافی، باب وڈورڈ ہے، جس نے امریکی صدر، نکسن کے الیکشن اسکینڈل کا انکشاف کیا تھا۔ اُن کی ہر کتاب پڑھتا ہوں۔ آج کل بھی اُن کی ایک نئی کتاب مارکیٹ میں آئی ہوئی ہے۔

س: اپنی شخصیت میں کون سی چیز پسند ہے اور کون سی ناپسند؟
ج: انسانیت اور انسان دوستی پسند ہے۔ عجر و انکساری بھی پسند ہے، لیکن ناپسندیدہ بات یہ ہے کہ اس عاجزی اور انکساری سے بعض لوگ ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔

س: زندگی کا سخت ترین دَور کون سا تھا اور زندگی کی پہلی کمائی کب اور کتنی تھی؟
ج: صحافت میں کچھ عرصے مایوسی رہی، لیکن اللہ کے فضل سے وہ وقت گزر گیا۔پہلی کمائی 1986ء میں ہوئی، جب ’’جنگ‘‘ کے سب ایڈیٹر کی حیثیت سے 1500روپے ملے۔

س: اسٹائل وقت کے ساتھ بدلتے ہیں یا اپنی پسند سے؟
ج: ویسے تو مجھے سفید رنگ کے کپڑے( شلوار قیمص) بہت اچھے لگتے ہیں، لیکن ٹی وی پر نہیں پہن سکتے۔ اس لیے ذاتی پسند، ناپسند تو ماضی کا حصّہ بن گئی۔ اب وہی اسٹائل ہوتا ہے، جو پروگرام کی ضرورت ہو۔

س: اداس ہوں، تو کیا کرتے ہیں؟
ج: اکثر اداس رہتا ہوں۔ سچ تو یہ ہے، میری شخصیت میں ایک عجیب پُراسرار سی اداسی ہے، جو مجھے اکثر تنگ بھی کرتی ہے۔ ممکن ہے بچپن کا اکلوتا پن اس کے پسِ پردہ کار فرما ہو۔ بھائی، بہنوں کے ساتھ جو شیئرنگ ہوتی ہے، وہ نہیں تھی، لیکن اپنا اکیلاپن انجوائے بھی کرتا ہوں۔انسان اپنی خامیوں، کوتاہیوں کا کوئی نہ کوئی توڑ بھی نکال لیتا ہے، تو مَیں لکھ کر، پڑھ کر یا باتیں کر کے اداسی دُور کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

س: دُعا پر یقین رکھتے ہیں؟
ج: سو فی صد۔ مَیں بہت گنہگار ہوں، لیکن دُعائیں پھر بھی قبول ہوتی ہیں۔

س: ستاروں پر یقین ہے، سال گرہ مناتے ہیں؟
ج: صرف تفریح کی حد تک۔ زائچہ بنوا لیتا ہوں اور اگر کوئی پامسٹ مل جائے، تو ہاتھ بھی دِکھا لیتا ہوں، لیکن صرف تفریحاً۔ سال گرہ پہلے خود مناتا تھا، اب دوست، اہلِ خانہ مناتے ہیں۔

س: شادی سے پہلے کی زندگی خوش گوار ہوتی ہے یا بعد کی؟
ج: شادی سے پہلے کی زندگی کا اپنا حُسن تھا۔ مجھے ہاسٹل کے بے فکری کے دن یاد ہیں۔ جب ٹی وی دیکھتے، دیکھتے نیند آجاتی تھی اور اُسے صبح ہی آف کرتا تھا۔ لیکن شادی نہ کریں، تو زندگی میں تنہا رہ جاتے ہیں۔ پہلے میرا بھی خیال تھا کہ شادی نہیں کرنی، لیکن 30سال کی عُمر میں یہ احساس ہوا کہ شادی کر لینی چاہیے۔ ویسے میری شادی اریجنڈ ہے اور قریبی عزیز و اقارب میں ہوئی۔

بشکریہ:رئوف ظفر(روزنامہ جنگ )

اپنا تبصرہ بھیجیں