سندھ میں اختیاری مضامین میں فیل ہونے والوں کو پاسنگ مارکس ملیں گے

EjazNews

وزیر تعلیم سندھ سعید غنی کی زیر صدارت محکمہ تعلیم کی اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا۔اجلاس میں سیکرٹری تعلیم احمد بخش ناریجو، سیکریٹری کالجز سید خالد حیدر شاہ، سیکرٹری یونیورسٹیز، ارکان سندھ اسمبلی تنزیلہ ام حبیبہ، رابعہ اظفر نظامی، پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشنز کے عہدیداروں سمیت دیگر نے شرکت کی۔

اجلاس میں امتحانات کے انعقاد، طرز امتحان، طریقہ کار و اوقات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ جولائی کے مہینے میں دسویں جماعت کے امتحانات کے فوری بعد نویں کے امتحانات جبکہ گیارہویں کے امتحانات بارہویں جماعت کے فوری بعد اگست میں لیے جائیں گے۔اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ صرف اختیاری مضامین کے امتحانات ہوں گے۔

امتحانات کے 45 روز کے بعد پہلے مرحلے میں دسویں اور بارہویں جماعت کے نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔

رواں برس میٹرک اور انٹر میں پریکٹیکل کے امتحانات تھیوری امتحانات کے بعد لیے جائیں گے، پریکٹیکل امتحانات اپنے اپنے سکولز اور کالجز میں ہی ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  علیم خان کو ضمانت مل گئی

میٹرک اور انٹر میں اختیاری مضامین میں اگر کوئی طالبعلم فیل ہوتا ہے تو اس کو پاسنگ مارکس دئیے جائیں گے جبکہ لازمی مضامین کے مارکس اختیاری مضامین کے مارکس کی بنیاد پر دئیے جائیں گے۔

پہلی سے آٹھویں جماعت تک کے امتحانات اسکولز میں اس سال ہوں گے اور اس کی تاریخ کا اعلان سکولز اپنے طور پر کر سکیں گے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے سعید غنی نے میٹرک اور بارہویں جماعت کے امتحانی شیڈول کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ امتحانات بالترتیب 5 جولائی اور 26 جولائی کو شروع ہوں گے۔

انہوں نے کہا تھا کہ ‘امتحانی پرچے مختصر سلیبس 60 فیصد سے صرف اختیاری مضامین کے ہوں گے۔

صوبائی وزیر تعلیم نے کہا تھا کہ ‘پرچے دو گھنٹے کے ہوں گے، جن میں 50 فیصد اختیاری، 30 فیصد مختصر سوالات اور 20 فیصد طویل سوالات ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں