Burgers

تھانہ ڈیفنس کے علاقے میں مفت برگر کا معاملہ آخر تھا کیا؟

EjazNews

تھانہ ڈیفنس کےعلاقے میں مفت برگرنہ دینے پر ریسٹورنٹ کے 19ملازمین پرتشددکرنے کے بعد حوالات میں بندکرنے کے واقعہ پرپولیس حکام کاکہناہے کہ جو فوٹیج سامنے آئی اس میں عملہ ملو ث ہے جس کی ذمہ داری ایس ایچ اوکی بنتی ہے۔

معلوم ہوا ہے کہ آئی جی پنجاب کی جانب سے نوٹس لینے کے بعد سی سی پی او لاہور کی جانب سے اس واقعہ کی انکوائری کروائی گئی اور ریسٹورنٹ کے مالک کے بیانات بھی لئے گئے جبکہ پولیس نے ملنے والی سی سی ٹی وی فوٹیجز کا بھی جائزہ لیا جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹ کے باہر ملازمین کے ساتھ بدتمیزی کی اور انھیں تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے تھانہ لے آئے اور تقریبا 19ملازمین کو حوالات میں بند کر دیا تھا۔اس پر آئی جی پنجاب نے ایس ایچ اواوردیگرملازمین کومعطل کردیاتھا۔

سی سی پی او لاہور نے بھی ایس ایس پی آپریشنز کو اس معاملہ کی باقاعدہ انکوائری کا حکم دے دیا تھا،ذرائع کا کہنا ہے کہ ایس ایچ او کے مہمان 6دن قبل ریسٹورنٹ پر آئے جہاں انھیں مفت کھانا اور پروٹوکول نہیں دیا گیا جس پر ان لوگوں نے ایس ایچ او سے ریسٹورنٹ کے منیجر کی بات کروائی لیکن انھیں مفت کھانا نہیں دیا گیا جس پر ان لوگوں نے ایس ایچ ا و کو کہا کہ تیرے علاقہ میں مفت کھانا بھی نہیں دیا جاتا ،جس کے بعد تقریبا 3دن بعد پولیس اہلکاروں کو بھیجا اور ریسٹورنٹ کے ملازمین کو کہا کہ وہ ایس او پیز کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور انھیں تھانہ لا کر بند کر دیا اور انھیں تشدد کا نشانہ بناکر کہا کہ اپنے ریسٹورنٹ کے مالک کو بلوائو وہ ہی تمہیں آکر چھڑوائے گا ۔جس کے بعد یہ معاملہ اعلی حکام کے نوٹس میں آیا ،

یہ بھی پڑھیں:  یہ ضمانت مسترد ہونے کی خبروں سے مجھے ڈرا لیں گے تو ایسا کبھی نہیں ہوگا-مریم نواز

اس حوالے سے ریسٹورنٹ کے مالک گوہر اقبال نے میڈیا  سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہمارے ریسٹورنٹ پر ایس او پیز کی خلاف ورزی ہو رہی تھی تو ہمارے خلاف مقدمہ درج کیوں نہیں کیا گیا ،انھوں نے کہا کہ مجھے اس واقعہ کے بعد میسج دیئے جا رہے تھے کہ معذرت کروں لیکن جب میں نے ایسا نہیں کیا تو کچھ دن بعد ہی پولیس کی بھاری نفری نے دھاوا بول دیا ۔

انھوں نے کہا کہ اس واقعہ نے ہمارا کارروبار تباہ کر دیا ہے ،اب پولیس اس کی مکمل انکوائری کر رہی ہے جس کے بعد اصل صورتحال سامنے آئے گی،

اس حوالے سے لاہور پولیس کے ترجمان مظہر حسین نے کہا ہےکہ اس واقعہ کا آئی جی پنجاب نے نوٹس لیا اور ان کے احکامات پر من و عن عمل ہوا ہے ،

انھوں نے کہا کہ جو فوٹیج چل رہی ہے کہ ایس ایچ او موقع پر نہیں تو جب تھانہ کا عملہ اس واقعہ میں ملوث ہے تو یہ ایس ایچ او کی ذمہ داری ہوتی ہے ،تاہم ابھی مزید تحقیقات ہو رہی ہیں جس کے بعد اصل حقائق سامنے آئے گے۔

یہ بھی پڑھیں:  آئینی معاملے میں ضرورت پڑی تو پارلیمنٹ بھی جا سکتے ہیں :وزیر اطلاعات

اپنا تبصرہ بھیجیں