Kashmir_funel

مقبوضہ کشمیر میں شہداء کے جنازے ، بھارت مخالف ریلی میں بدل گئے ، آزادی کے نعرے گونجتے رہے

EjazNews

مقبوضہ کشمیر کے سوپور قصبے میں قابض فوج کے ہاتھوں شہید ہونے والے چاروں نوجوان سپردِ خاک، شرکائے جنازہ کی بے گناہ شہریوں کے قتل ِ عام پر بھار ت کے خلاف شدید نعرے بازی، مودی کا پتلا نذر آتش بھی کیا گیا، بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں مارے جانے والے افراد کو سپردخاک کر دیا گیا ۔

فائرنگ سے منظور احمد شالہ ،بشیر احمد ، وسیم احمدبٹ اور شوکت احمدپرے مارے گئے تھے ۔ ان کی نمازجنازہ میں ہزاروں افراد شریک ہوئے۔کشمیری شہریوں کی آخری رسومات میں شرکت کرنے والے ہزاروں مرد و خواتین نے کی ، اسلام اور آزادی کے حق میں نعرے لگائے۔اس سے قبل سوپور میں ہزاروں افراد نے بھارتی فورسز کے ہاتھوں بے گناہ شہریوں کے قتل کے خلاف ایک زبردست احتجاج کیا۔،بھارتی فورسز نے علاقے کا محاصرہ کر کے تلاشی مہم بھی شروع کر دی۔مظاہرین نے آزادی کے نعرہ لگائے۔یاد رہے ہفتے کو ہونے والی فائرنگ سے منظور احمد شالہ ساکن شالیمار کالونی سوپور اور بشیر احمد ساکن مہاراج پورہ سوپور ، وسیم احمدبٹ ولد سلیم ساکن ناربل بڈگام،اورولد عبدالغنی ساکن گوری پورہ بیروہ بڈگام مارے گئے تھے دیگر آٹھ افراد زخمی ہوئے تھے ۔

بھارتی فورسز نے پورے علاقے کو محاصرے میں لے کر تلاشی مہم بھی شروع کی۔ جموں و کشمیر پولیس سربراہ دلباغ سنگھ نے کہا کہ فائرنگ کے واقعے میں ‘لشکر طیبہ’ کا ایک گروپ ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ حملہ آوروں کی شناخت کر لی گئی ہے لیکن بعض وجوہات کی بنا پر ان کے نام کا افشاء نہیں کیا جاسکتا ۔ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ایسے واقعات میں ملوث افراد کو فوری طور پر کیفر کردار تک پہنچایا جائے، دریں اثنا ء آزاد کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے قابض بھارتی فوج کے ہاتھوں سوپور قصبہ میں تین نوجوانوں کی شہادت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان نوجوانوں کی نماز جنازہ میں تمام پابندیوں اور رکاوٹوں کے باوجود ہزاروں افراد کی شرکت بھارت کیلئے پیغام اوراس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت کے اندھے ریاستی جبر کے باوجود کشمیری عوام پوری قوت کے ساتھ جموں وکشمیر کی تحریک آزادی کے ساتھ کھڑے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  سعودی تاریخ میں پہلی دفعہ کوئی خاتون سفیر مقرر

انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کو حقوق نہ دیے تو صورتحال بھارت کے قابو میں نہیں رہے گی ۔ اتوار کو اپنے خصوصی بیان میں انہوں نے کہا کہ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ آزادی وحریت کی تحریکوں کو کبھی ظلم و جبر سے نہیں دبایا جا سکا۔ تاریخ کا یہ بھی سبق ہے کہ انصاف مانگنے والی آوازوں کو طاقت کے ذریعے خاموش کرنے والی ریاستیں زیادہ دیر تک اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتیں۔ بھارت اپنے نام نہاد جمہوری و سیکولرازم کے لبادے کو اپنے ہاتھوں سے تار تار کر کے ایک فسطائی ریاست کی حیثیت سے سامنے آچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے سامنے سینہ سپر ہو کر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے یہ نوجوان بھارت کو واضح پیغام دے رہے ہیں کہ تمہارے جبر کے تمام ہتھکنڈے ناکام ہونگے اور ہمارا اپنے مادر وطن کی آزادی کا عزم کامیاب ہوگا۔ کیونکہ ہم سچ کے ساتھ کھڑے ہیں اور تمہارے ظلم کی جھوٹی سلطنت ناانصافی پر کھڑی ہے۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ کمیونزم کا نظام بھی ایک دور میں بڑے طمطراق سے آدھی دنیا پر راج کرتا تھا لیکن چونکہ وہ نظام بھی جبر پر قائم تھا اور جب اس کی عمارت گری تو اس ٹکڑے ایشیاء، وسط ایشیاء اور مشرقی یورپ تک پھیل گئے۔ صدر سردار مسعود خان نے دہلی کے حکمرانوں کو مشورہ دیا کہ اب بھی اُن کے لئے وقت ہے کہ وہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام کو حق وانصاف پر مبنی حق خودارادیت دے کر خطے کے امن اور اپنے ریاستی وجود کو برقرار رکھ لیں بصورت دیگر آج مقبوضہ جموں وکشمیر میں جو صورتحال ہے وہ آسام، میزورام، بہار اور مغربی بنگال میں بھی نظر آئے گی اور اگر ایسا ہوا تو اسے سنبھالنا بھارتی حکمرانوں کے بس میں نہیں ہو گا۔ صدر آزادکشمیر نے مقبوضہ جموں وکشمیر کے بہار حریت پسند عوام کواُن کی جذبہ آزادی اور اُن کے قائدین صبرو ہمت پر شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے یقین دلایا کہ آزادجموںوکشمیر کے عوام اور پاکستان کے بائیس کروڑ لوگ اُن کے ساتھ ہیں اور ہم کشمیری بھائیوں اور بہنوں کا اُس وقت تک ساتھ دیتے رہیں گے جب تک انہیں آزادی حاصل نہیں ہو جاتی۔

یہ بھی پڑھیں:  ریگولیٹروں کے ذریعے سے اربوں ڈالر کمانے میں امریکہ کسی سے پیچھے نہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں