Bill_gates1

بل گیٹس کے ہر گزرتے دن کے ساتھ نئے انکشافات سامنے آنے لگے

EjazNews

بل گیٹس میڈیا سے دور رہنے والے لوگوں میں سے ایک ہیں ۔ اور اپنی طلاق کو لے کر وہ اس چیز کی پوری احتیاط بھی کر رہے ہیں کہ خبریں میڈیا کی سرخیوں کی زینت نہ بنیں۔ لیکن دنیا کے اس امیر شخص کی خبریں میڈیا سے چھپ نہیں سکتیں کیونکہ میڈیا ہر وقت ان کے ہر لمحے پر اپنی نظریں جمائے ہوئے ہے اور خاص کر ان کی طلاق کو لے کر تو سب کو نت نئی خبرو ں کی تلاش کی ضرورت ہے۔
بل گیٹس پوری کوشش کر رہے ہیں کہ ان کی طلاق کی خبریں میڈیا کی شہ سرخیاں نہ بنیں لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کے ماضی کے راز سامنے آ رہے ہیں۔ پہلے تو یہ بات سامنے آئی کہ بل گیٹس کا خواتین ساتھیوں کے ساتھ رویہ درست نہیں اور ان کا ایک افیئر بھی ہے جس کا انہوں نے اعتراف بھی کیا۔

یہ بھی پڑھیں:  بھارتی خلائی مشن کی ناکامی، مشن سربراہ زارو قطار رونے لگ پڑے

لیکن اب توجہ کا مرکز مائیکل لارسن نامی شخص ہیں جو گزشتہ تین دہائی سے بل گیٹس فیملی کی دولت کا انتظام سنبھال رہے ہیں۔ مائیکل لارسن گیٹس فیملی آفس ’’کیسکیڈ انوسٹمنٹس‘‘ کے چیف انوسٹمنٹ افسر ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے کمپنی میں دھونس اور د ھمکی کا ماحول بنا رکھا تھا۔

نیو یارک ٹائمز میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق، دس سابق ملازمین نے ایسے الزامات لگائے ہیں جن سے بل گیٹس فیملی اور مائیکل لارسن ایک مرتبہ پھر نمایاں ہوگئے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ کمپنی کے چار ملازمین ایسے ہیں جنہوں نے گیٹس فیملی کو مائیکل لارسن کے رویے کے متعلق شکایت کی کہ ان پر متعصبانہ اور جنسی نوعیت کی تنقید اور فقرے کسے جاتے ہیں۔ مائیکل لارسن نے سیاہ فام ملازمین کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

کہا جاتا ہے کہ شکایات کا ازالہ کرنے کی بجائے بل گیٹس اور ان کی سابقہ اہلیہ میلنڈا نے ایسے لوگوں کو رقوم ادا کیں جو لارسن کے غلط رویے سے آگاہ تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  افغان خفیہ ایجنسی کے دفتر پر خودکش حملہ، متعدد افراد کی ہلاکت

دوسری جانب طلاق کے بعد بل گیٹس اور ان کی سابقہ اہلیہ میلنڈا فرنچ گیٹس کے درمیان دولت کی تقسیم کے حوالے سے مذاکرات جاری ہیں۔ دونوں کے نمائندوں نے طلاق کے حوالے سے کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا کہ آیا دونوں کے درمیان شادی سے پہلے کوئی معاہدہ ہوا تھا یا نہیں تاہم یہ بتایا گیا ہے کہ شادی سے قبل کیا جانے والا کوئی بھی معاہدہ بیکار ہوگا کیونکہ طلاق کے وقت کیا جانے والا حتمی سمجھا جائے گا۔ بتایا گیا ہے کہ کیسکیڈ انوسٹمنٹ سے تین ارب ڈالرز میلنڈا کو منتقل کیے جا چکے ہیں۔ تاہم، یہ واضح نہیں کہ کمپنی کے شیئرز کی تقسیم کیسے ہوگی۔

bill_gates
ڈیئر اینڈ کو نامی کمپنی سے میلنڈا کو 800؍ ملین ڈالرز ادا کیے گئے ہیں جبکہ کوکا کولا فیمسا نامی کمپنی کے تمام شیئرز میلنڈا کو منتقل ہوئے ہیں جن کی مالیت 130؍ ملین ڈالرز ہے۔

ڈیئر اینڈ کو نامی کمپنی سے میلنڈا کو 800؍ ملین ڈالرز ادا کیے گئے ہیں جبکہ کوکا کولا فیمسا نامی کمپنی کے تمام شیئرز میلنڈا کو منتقل ہوئے ہیں جن کی مالیت 130؍ ملین ڈالرز ہے۔

ایک اخبار ی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ بل گیٹس کی نجی کمپنیوں کی قسمت کا فیصلہ کیا ہوگا۔ ان کمپنیوں میں فور سیزنز برانڈ شامل ہے جو سعودی شہزادہ ولید بن طلال کے ساتھ پارٹنرشپ میں ہے۔ بل اور میلنڈا کی مشترکہ پراپرٹی میں بڑا فارم لینڈ بھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ترکی میں کینال پراجیکٹ منصوبے کیخلاف 10ریٹائرڈ ایڈمرلز نظر بند

اپنا تبصرہ بھیجیں