punjab_GOV

2600ارب سے زائد کا پنجاب کا بجٹ

EjazNews

پنجاب کا آئندہ مالی سال 2021-22 کے لئے 2600 ارب روپے سے زائد کانیاٹیکس فری بجٹ پنجاب اسمبلی کی نئی سٹیٹ آف دی آرٹ عمارت کے ایوان میں پیش ہوگا۔

تاریخ کے لحاظ سے یہ پنجاب کی 17ویں اسمبلی کے33واں سیشن ہوگا۔

بجٹ میں نیاٹیکس نہ لگانے،تنخواہ پنشن میں10فیصداضافے کی تجویز،بجٹ کامجموعی حجم 2600ارب روپے سے زائد، ترقیاتی منصوبوںکو560ارب ،جنوبی پنجاب کو196 ار ب ، ضلعی ترقیاتی پروگرام کو100ارب،بنیا دی واعلی تعلیم کو35،35ارب دینے کی تجویزہے،ہیلتھ انشورنس پر60ارب خرچ ہونگے،شعبہ صحت میں 16.2 ارب روپےاضافہ کیاگیاہے،یوتھ ڈویلپمنٹ کیلئے 139فیصد، سماجی بہبود 62 فیصد، سیا حت کے ترقیاتی بجٹ میں 231فیصد اضافہ ،ٹول ٹیکسز بڑھانےکی سفارش کی گئی ہے۔

حکومت پنجاب کے مالی سال2021-22کے ترقیاتی بجٹ کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔ آئندہ مالی سال کے لئے پنجاب کے ترقیاتی بجٹ کا مجموعی حجم 560ارب روپے ہو گا۔جس میںجاری ترقیاتی منصوبوں کے لئے 200 ارب روپے سے زائد رقم مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔مجموعی ترقیاتی بجٹ کا 35فی صدجنوبی پنجاب کے لئے مختص کیا جا رہا ہے ۔جنوبی پنجاب کے لئے مختص کئے جانے والے فنڈز کسی اور منصوبے یا مقصد کے لئے ٹرانسفر نہیں ہو سکیں گے۔ جنوبی پنجاب کے لئے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے تحت 196 ارب روپے سے زائد فنڈز ر کھنے کی تجویز ہے ۔جنوبی پنجاب کی ترقیاتی سکمیوں کے لئے الگ سے بجٹ بک بنائی گئی ہے ۔

ذرائع نے بتایا کہ مقامی سطح پر ضلعی ترقیاتی پروگرام کے لئے100ارب روپے رکھے جا رہے ہیں۔ ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پروگرام کا منصوبہ تین برس تک چلے گا۔پنجاب رورل واٹر سپلائی اینڈ سینی ٹیشن پراجیکٹ بھی آئندہ مالی سال کے دوران شروع ہو گا، جو 5سالوں میں مکمل کیا جائے گا۔ اس منصوبے کی مجموعی لاگت89ارب روپے ہے۔ضلعی ترقیاتی پروگرام کے تحت انسانی ضروریات (سڑکوں کی تعمیر، صحت، تعلیم، پینے کے صاف پانی کی ترسیل اور نکاسی آب وغیرہ ) کے منصوبے مکمل کئے جائیں گے۔آئندہ مالی سال کے دوران شہریوں کی ہیلتھ انشورنس کی مد میں تقریبا 60ارب روپے خرچ کئے جائیں گے ۔جس کے تحت آئندہ سال کے دوران صوبہ پنجاب کا ہر شہری 8سے 10لاکھ روپے کی ہیلتھ انشورنس کا حقدار ہو گا۔ ہیلتھ انشورنس منصوبہ کے لئے حکومت پنجاب کے پاس فنڈز دستیاب ہیں، اس منصوبے میں بیرونی فنڈنگ شامل نہیں کی جائے گی۔ ہیلتھ انشورنس منصوبہ نان ڈویلپمنٹ بجٹ کی بجائے ترقیاتی بجٹ کا حصہ بنا دیا گیا ہے ، تاکہ یہ بروقت مکمل کیا جا سکے، اور مختلف مراحل میں اس کی منظوری پی ڈی ڈبلیو ڈی سے ہو سکے۔

یہ بھی پڑھیں:  کوشش ہو گی آئند ہ ممکنہ بارشوں سے وہ نقصان نہ ہو جو حالیہ بارشوں سے ہوا ہے: چیئرمین این ڈی ایم اے

ذرائع نے بتایا کہ رواں مالی سال2020-21 کی نسبت آئندہ مالی سال2021-22 کے دوران زراعت اس کے ذیلی شعبوں لائیو سٹاک، ماہی گیری ، جنگلات کی ترقی و ترویج کے بجٹ میں 28ارب روپے کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔آنے والے مالی سال میں انفرسٹرکچر ڈویلپمنٹ کے تحت سڑکوں کے لئے 84ارب روپے، آبپاشی کے نظام کے لئے 30ارب روپے، پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کے منصوبوں کے لئے 22ارب روپے مختص کئے جا رہے ہیں۔شہری ترقی کی مد میں 9.9ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کا اضافہ کیا جا رہا ہے ۔پنجاب میں صنعت کاری کے فروغ اور صنعتی ترقی کے لئے ترقیاتی بجٹ میں 8.9ارب روپے کے ساتھ 300فی صد اضافہ کیا جا رہا ہے ۔خدمات کی بروقت فراہمی اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے ای گورنس کے شعبے میں2.6ارب روپے کا اجافہ بھی مجوزہ ترقیاتی بجٹ کا حصہ ہے۔بنیادی تعلیم کے بجٹ میں 23فی صد اضافہ کے ساتھ 35ارب روپے مختص کئے جا رہے ہیںاعلی تعلیم کے بجٹ میں23فی صد اضافے کے ساتھ 35ارب روپے مختص کئے جا رہے ہیں۔سکول اپ گریڈیشن پروگرام کے تحت دن میں پرائمری سکول شام میں سیکنڈری سکول میں تبدیل ہو جائے گا۔یوتھ ڈویلپمنٹ پروگرام کے لئے 139فی صد، سماجی بہبود کے ئے 62 فی صد، شعبہ سیاحت کے ترقیاتی بجٹ میں 231فی صد اضافہ کیا جا رہا ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ صحت کے شعبے میں 16.2 ارب روپے کا اضافہ کیا جا رہا ہے ۔ پنجاب میں سڑکوں کا جال بچھانے کے لئے پی ایس ڈی پی کے تحت 30 اب روپے مختص کرنے ،پنجاب میں انصاف سکول آپ گریڈیشن پروگرام کے تحت 8 ارب روپے مختص کرنے، کے علاوہ زراعت کے شعبے میں بھی ترقیاتی سکیموں کے لئے بیس ارب روپے سے زائد کی سکیمیں رکھی جائیں گی۔ورلڈ بنک کے تعاون سے 89 ارب روپے کی لاگت سے شہروں میں رولر واٹر سپلائی پروگرام شروع کرنے کی تجویز ہے ۔ایشین ڈویلمنٹ بنک کے تعاون سے 80 ارب روپے کی لاگت سے روڈ انفراسٹرکچر پروگرام شروع کیا جائے گا۔ ماحولیات ، اقلیتوں اور اوقاف اور سیاحت کے بڑے منصوبے کےلئے بھی بھاری رقم مختص کی جائے گی۔گرین انفراسٹرکچر فنڈ میں 3 ارب روپے تک رکھنے کی تجویز ہے ۔ مرغی پال اور کٹا پال سکیم کے لئے بھی خطیر رقم مختص کی جائے گی۔بجٹ اجلاس کی صدارت سپیکر چودھری پرویز الٰہی کریں گے جبکہ صوبائی وزیر خزانہ ہاشم جواں بخت موجودہ صوبائی حکومت کا مسلسل تیسرا بجٹ پیش کریں گے،وزیرخزانہ بجٹ دوپہر2بجے پیش کرینگے، ذرائع کے مطابق بجٹ میں صنعتکاروں کے لیے خصوصی پیکج کا اعلان کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  محمد بن سلمان کا دورۂ پاکستان :سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا کرنے والوں کیخلاف وزارت داخلہ کا ایکشن

صحت کے لیے مختص بجٹ دسمبر 2021تک پنجاب کے 100فیصد ابادی کو ہیلتھ انشورنس کی سہولت مہیا کرے گا۔ مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ ہسپتالوں، اور تحصیل اور ضلع کی سطح پر ہسپتالوں میں عدم موجود سہولیات کی فراہمی اور بچوں کے لیے کارڈیک ہسپتال کا اعلان کیا جائے گا۔بجٹ کے سلسلے میں حکمران جماعت نے اپنی حکمت عملی کو حتمی شکل دیدی ہے ۔ اپوزیشن لیڈر حمزہ شہبازشریف نے بھی بجٹ اجلاس میں وفاقی بجٹ جیسا ہلہ گلہ کرنے اور حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے لئے حکمت عملی تیارکرلی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں