لومڑی اور شیر

مکار کی چال

EjazNews

جنگل کا بادشاہ شیر بہت رحمدل اور جانور پرور تھا۔ جنگل کے تمام جانور اپنے بادشاہ کا ہر حکم مانتے تھے۔ جنگل میں امن قائم رہنے کی وجہ بادشاہ سلامت کی رحمدلی اور رعایا سے محبت تھی۔ شیر نے جنگل کے سمجھ دار اور قابل جانوروں کواکٹھا کر کے اپنی کابینہ بنائی ہوئی تھی۔ شیر نے لومڑی کو پہلے وزیر اطلاعات و نشریات بنایا ہوا تھا مگر لومڑی کی کارکردگی سے متاثر ہو کر شیر نے اسے اپنا مشیر خاص بنالیا۔ لومڑی اپنی چالاکی اور گفتگو سے بہت جلد شیر کے اعتماد کا مرکز بن گئی۔ شیر آرام کرتا رہتا اور لومڑی پورے جنگل میں حالات اور واقعات کا خیال رکھنے لگ گئی۔ شیر جہاں کہیں جاتا لومڑی کو اپنے ساتھ لے کر جاتا اور دوسرے جنگل کے دوروں کے دوران تو لومڑی کو ہر صورت اپنے ساتھ رکھتا تھا۔ کیوں کہ لومڑی اپنی چالاکی سے دوسرے بادشاہوں کو خوب بیوقوف بنا لیتی تھی۔ جس وجہ سے شیر کے جنگل میں دوسرے شیروں نے خوب سرمایہ کاری اور ترقی کے مناسب تعاون کا آغاز کر دیا تھا۔

شیر مسلسل آرام کرنے کی وجہ سے بہت سست اور موٹاہو گیا تھا۔ پہلے تو وہ اپنے شکار پر خوب تیزی سے حملہ کر لیتا تھا مگر اب تو وہ ساراد ن اپنی کچھاڑ میں پڑ رہتا تھا۔ لومڑی نے کئی بار کہا کہ وہ کوئی شکار کر کے لے آتی ہے مگر شیر تو پھر شیر ہوتا ہے۔ وہ کیسے کسی کا کیا ہوا شکار کھاتا؟ چند دن یوں ہی گزر گئے۔ کئی دنوں سے بھوکا رہنے کی وجہ سے شیر بالکل لاغر اور کمزور ہو چکا تھا۔ اب تو وہ بوڑھا نظر آنے لگا تھا۔ لومڑی نے شیر کی بگڑی ہوئی صحت اور کمزوری کو دیکھتے ہوئے عرض کی ’’بادشاہ سلامت! آپ کب تک یوں ہی بھوکے رہیں گے؟۔آپ جنگل کے بادشاہ ہیں۔ آپ کی تندرستی اور بہادری جنگل کی سلامتی کے لیے بہت ضروری ہے۔ اگر آپ شکار نہیں کر سکتے تومیں آپ کے لیے کھانا لاتی ہوں۔ شیر ے بہت روکا مگر بھوک کی شدت اور کمزوری سے تنگ آکر اس نے لومڑی کو شکار کرنے کی اجازت دے دی۔ شیر نے لومڑی سے کہا اے میری ہمدرد دوست! تم میرے لیے جوان، صحت مند اورخوب موٹا تازہ شکار لے کر آئو۔ مگر اس کے لیے ایک شرط ہے۔ وہ یہ کہ تم کسی جانور کو اپنی عقل مندی سے یہاں میری کچھاڑ میں لے آئو۔ جب وہ میرے پاس آئے گا تو میں خود اس پر حملہ کر ک اسے کھالوں گا۔

یہ بھی پڑھیں:  قاہرہ کا سوداگر

لومڑی نے حکم بجالانے کا وعدہ کیا اور شکار کی تلاش میں چل پڑی۔ بہت لمبا سفر کر نے کے بعد لومڑی نے ایک موٹا تازہ گدھا دیکھا۔ جو بڑے مزے سے گردن جھکائے ہری بھری گھاس چر رہا تھا۔گدھا دریا کے کنارے اگی تازہ سبز گھاس کھانے میں اتنا مصروف تھا کہ اسے لومڑی کی موجودگی کا احساس تک نہ ہوا۔ لومڑی نے بہت پیار اور محبت سے گدھے کو کہا ۔ اے محترم! کیا حال ہے؟ میں آپ کے لیے بہت بڑی خوش خبری لائی ہوں۔ اگر آپ حکم دیں تو میں وہ اچھی خبر سنائوں؟۔

گدھے نے اپناسرجھکا ہوا سر اوپر اٹھایا اور لومڑی کی طرف دیکھ کر مسکرا کر بولا ۔ لومڑی بی! تم بہت چالاک جانور ہو۔ ضرور مجھے کسی لالچ میں پھنسائو گی لومڑی نے گدھے کا جواب سن کر اپنی بدلتی رنگت کو چھپاتے ہوئے بولی اے محترم! آپ میرے لیے بہت محترم ہیں۔ میں آپ کو کبھی دھوکا نہیں دے سکتی۔ گدھے نے لومڑی کو دریا کے پل پر چلنے کا کہا اور دونوں دریا کے پل کی طرف چل پڑے۔ پل پر جا کر لومڑی نے گدھے کو کہا میرے محترم ! ہمارے جنگل کا بادشاہ بہت بوڑھا ہوگیا ہے۔ وہ بہت آرام پسند ہے۔ جس وجہ سے تمام جانور اس کو اپنے لیے محافظ نہیں سمجھتے۔ پھر خود بادشاہ سلامت کو اس بات کا یقین بھی ہے۔ وہ اپنی بادشاہت کسی عقل مند اور بہادر جانور کے سپرد کر کے خود بادشاہت چھوڑنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے میری ذمہ داری پر آپ کو جنگل کا بادشاہ بنانے کی ہامی بھرلی ہے۔ میں نے آپ کو کئی بار یہاں گھاس چرتے دیکھا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  کیکڑا

گدھے نے لومڑی کی باتیں سنیں اور دل ہی دل میں بہت خوش ہوا کہ اب تو خوب مزے کی زندگی گزرے گی۔ گدھا لومڑی کے ساتھ جنگل کی طرف چل پڑا۔ جب گدھا شیر کی کچھاڑ میں گھسا تو شیر نے موٹا تازہ شکار دیکھا تو اس پر حملہ کر دیا مگر گدھا خطرہ سمجھتے ہوئے فوراً باہر کی طرف بھاگا۔ اس دوران گدھے کا کان شیر کے پنجے میں رہ گیا۔ گدھا بھاگتا ہوا باہرنکلا تو لومڑی کو دیکھ کر غصے سے بولا ۔ تم نے مجھے مارنے کی کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی۔ اگر میں عقل مندی سے کام نہ لیتا تو تمہارا بادشاہ مجھے ہڑپ کر چکا ہوتا۔ لومڑی نے مسکراتے ہوئے چالاکی سے کہا۔ اے محترم دوست! تم غلط سمجھے ہو۔ شیر بادشاہ کو اپنی زندگی کا کوئی پتہ نہیں ہے۔ انہوں نے بادشاہت کے خاندانی گر آپ کے کان میں بتانے تھے۔ اسی لیے تو وہ آپ کا استقبال کرنے کے لیے آپ پر جھپٹے تھے۔ تاکہ وہ بادشاہت کے تمام اصول آپ کو بتا سکیں۔ مگر آپ اصل بات سمجھ نہ سکے اور دوڑ کر واپس آگئے۔ آپ میرے ساتھ چلیں۔ میں آپ کو حوصلہ دوںگی۔

یہ بھی پڑھیں:  انبیاء علیہ السلام کا بچپن

گدھا ایک بار پھر لومڑی کی چال میں پھنس گیا اور بادشاہ بننے کے لیے دوبارہ شیر کی کچھاڑ میں چلا گیا۔ اب شیر پوری تیاری اور جذبے سے بیٹھا تھا۔ اس نے گدھے کو دوبارہ آتے دیکھا تو آرام سے بیٹھا رہا۔ جب گدھا اس کے بالکل قریب آگیا تو شیر نے فوراً اس کی گردن پکڑی اور گدھے کو زمین پر لٹا کر اس کا سانس ختم کر دیا۔ شیر نے بھوک کی شدت سے گدھے کی چیر پھاڑ شروع کر دی۔ اس دوران لومڑی نے اپنی چالاکی سے گدھے کا مغز نکالا اور جھٹ سے کھا گئی۔ شیر نے گدھے کا مغز کھانے کے لیے اس کی کھوپڑی دیکھی تو حیران رہ گیا۔ کیوں کہ حکیم ریچھ نے اس کو صحت یا بی کے لیے مغز کھانے کا مشورہ دیا تھا۔ شیر نے گدھے کے مغز کا لومڑی سے پوچھا وہ ہنس کر بولی بادشاہ سلامت! اگر گدھے کی کھوپڑی میں مغز ہوتا تو دوبارہ آپ کے پاس کیوں آتا؟۔ شیر لومڑی کی بات مان گیا اور گدھے کا باقی گوشت کھانے لگ گیا۔ لومڑی نے اپنی چالاکی سے گدھے کا مغز بھی کھالیا اور شیر کو بھی خوش کر دیا۔

اچھے بچو!
برے دوست کی دوستی سے بچو۔ ہر کام کا انجام پہلے سے سوچ لو ورنہ نقصان اٹھائو گے۔

کیٹاگری میں : بچے

اپنا تبصرہ بھیجیں