Fawad_Chaudhry

سندھ کو وسائل سے بہت بڑا حصہ مل رہا ہے لیکن یہ کہاں اور کیسے خرچ ہورہا ہے:فواد چوہدری(وزیر اطلاعات)

EjazNews

کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور صوبائی اسمبلی کی حیثیت محدود ہے، صوبے کے حوالے سے فیصلہ سازی کا اختیار وزیراعلیٰ یا سندھ اسمبلی کے پاس نہیں بلکہ سارا اختیار ان کے پاس ہے جو بلاول ہاؤس میں بیٹھتے ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ گورنر راج کی آئین میں گنجائش نہیں، یہ جمہوری کام نہیں، سندھ میں آئین کی دفعہ 140 اے نافذ ہونی چاہیے جس کی ذمہ داری سپریم کورٹ کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں پورے ملک میں لوڈشیڈنگ کا سامنا رہا لیکن کراچی میں بری ریکوری والوں کے سوا شہر میں لوڈشیڈنگ نہیں ہوئی کیوں کہ وفاقی حکومت نے کے الیکٹرک کو 500 میگا واٹ اضافی بجلی فراہم کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ہر برس گرمی میں کراچی میں بجلی شدید بحران ہوتا ہے لیکن وفاقی حکومت کے خصوصی انتظامات کی بدولت کراچی کے شہریوں کو گرمی میں لوڈشیڈنگ بھگتنی نہیں پڑی اور اس کے باعث آنے والے دباؤ کے نتیجے میں پنجاب اور خیبرپختونخوا میں ٹرپنگ ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں:  بھارتی جارحیت پورے خطے کے لیے خطرہ ہے

انہوں نے کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو کی وفاق کی سیاست سے خود کو علیحدہ کرتے ہوئے قوم پرست سیاست کررہے ہیں جس کی وجہ سے یہاں تعصب پھیلایا جاتا ہے حالانکہ کراچی اور سندھ کے شہریوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے پورا پاکستان تکلیف برداشت کرتا ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ قومی مالیاتی کمیشن کے ذریعے صوبوں کو پیسہ ملتا ہے اور گزشتہ 2، 3 برسوں میں سندھ کو 16 سے 18 کھرب روپے منتقل ہوئے اور رواں برس بجٹ میں صوبائی حصے میں اضافہ کیا گیا ہے جس سے سندھ کو ساڑھے 7 کھرب روپے این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کو ملنے والا اتنا پیسہ کہا گیا، حالت یہ ہے کہ 1990 سے کراچی جیسا شہر اپنی پولیس نہیں بنا سکا، ہر سال رینجرز کو پیسے دیتے ہیں اور رینجرز کو شہر میں رکھنے کے لیے وفاق کی منت کرتے ہیں کیوں کہ کراچی پولیس کی اہلیت بنیادی امن و امان قائم کرنے کی بھی نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  جج کو کرسی مارنے کے جرم میں وکیل 18سال کیلئے پابند سلاسل

وفاقی وزیر نے کہا کہ بلوچستان کے بی ایریاز جہاں باضابطہ انتظامیہ موجود نہیں وہاں کے حالات کراچی کے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بہتر ہیں، یہاں جسکا دل چاہتا ہے گاڑی روک کر لوٹ لیتا ہے، یہ پولیس کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ گیس اور بجلی کی خصوصی مد میں بدین اور گھوٹکی کے نام پر خاصہ پیسہ لیا جاتا ہے اور وہاں کی حالت دیکھ لیں، لاڑکانہ پر 90 ارب روپے خرچ ہوئے اور وہاں سڑکیں ٹوٹی پھوٹی صحت کا نظام تباہی کا شکار ہے حتیٰ کہ سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ وفاقی ہسپتال کا انتظام صوبائی حکومت سے واپس لیا جائے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ سندھ کو وسائل سے بہت بڑا حصہ مل رہا ہے لیکن یہ کہاں اور کیسے خرچ ہورہا ہے، صوبائی مالیاتی کمیشن موجود نہیں ہے اضلاع کو پیسے نہیں مل رہے، کراچی کو پیسہ نہیں مل رہا، شہروں کی آمدن نہیں بڑھ رہی۔

یہ بھی پڑھیں:  پیپلز پارٹی کے دور میں سب سے زیادہ روزگار ملا:بلاول بھٹو زرداری

فواد چوہدری نے کہا کہ من پسند ٹھیکیداروں کو ٹھیکہ دے کر یہ صوبہ کب تک چلایا جائے گا، نیب کے کیسز میں سب سے بڑی پلی بارگین سندھ کے کیسز میں ہوئی ہے جو محض تھوڑا سا حصہ ہے نیب کو اربوں روپے یہاں سے ملا ہے لیکن اصل پیسہ دبئی اور لندن چلا گیا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ سپریم کورٹ کو چاہیئے کہ یہاں آئین کی دفعہ 140 نافذ کی جائے اور مقامی حکومتوں کے انتخابات ہوں۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے بغیر دیکھے ہر چیز کو مسترد کرنا ہے، انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو ملک کے مسئال کا ادراک نہیں، تو نواز شریف، حسن نواز اور اسحٰق ڈار آج کل کیا ہیں؟

ان کا کہنا تھا کہ سمندر پار پاکستانی اپنی محنت کا پیسہ کما کر پاکستان بھیجتے ہیں جبکہ لٹیروں کا یہ گروہ جسے ن لیگ کہتے ہیں یہ پاکستان کا پیسہ چوری کر کے باہر لے کر گئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں