Shoakat_tareen+budget

بجٹ میں وزیر خزانہ نے کن رعایتوں کا اعلان کیا اور کن چیزوں پر ٹیکس لگایا؟

EjazNews

وزیرخزانہ شوکت ترین نے 8 ہزار 487 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کردیا۔ اگلے مالی سال کیلئے معاشی ترقی کا ہدف 4.8 فیصد رکھا گیا ہے، وفاقی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد اضافہ اور کم سے کم تنخواہ 20 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی گئی ہے،بجٹ میں الیکٹرک اور چھوٹی گاڑیاں سستی،موبائل فونز ٹائرز مہنگے ہوگئے،اردلی الائونس میں ساڑھے 3ہزار روپے اضافہ کردیا،خوردنی تیل اور گھی پر ٹیکس واپس لیا گیا ہے،کیپٹل گین ٹیکس میں 2.5فیصد کمی کی گئی ہے۔مقامی حکومتوں کے انتخابات اور نئی مردم شماری کیلئے پانچ پانچ ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز (پی آئی اے)کیلئے 20 ارب اور اسٹیل ملز کے لیے 16ارب روپے امداد کی تجویز رکھی گئی ہے۔

اینٹی ریپ فنڈ کیلئے 10 کروڑ روپے، ہائر ایجوکیشن کمیشن کیلئے 66 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔بجٹ تقریر میں وزیر خزانہ نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ تنخواہیں،پنشن دس دس فیصد بڑھیں گی،ہر گھرانے کو صحت کارڈ ملے گا،موبائل فون کالز،میسجز اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے کر رہے ہیں ، 850سی سی تک کاروں کےلیے سی بی یو کی درآمد کو ودہولڈنگ ٹیکس سے استثنیٰ دے دیاگیا ،ترقی کا ہدف 4.8فیصد مقررکیا گیا ہے جبکہ کورونا وبا ء سے نمٹنے کیلئے 100ارب روپے مختص کئے جارہے ہیں۔

وزیر خزانہ نے اپنی تقریر میں کہا کہ اخراجات میں 14 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے اور 7523 ارب روپے رہنے کی توقع ہے۔ آئندہ سال کا مجموعی بجٹ خسارہ 6.3 فیصد ہوگا جبکہ موجودہ سال کا بجٹ خسارہ 7.1 فیصد ہے۔شوکت ترین نے کہا کہ آئندہ مالی سال کیلئے مجموعی ریونیو کا تخمینہ 7909 ارب روپے ہے اور ریونیو میں اضافہ کا ہدف 24 فیصد ہے، ایف بی آر کا ہدف 24 فیصد گروتھ کے ساتھ 5829 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے اور نان ٹیکس ریونیو گروتھ کا ہدف 22 فیصد رکھا گیا ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ یکم جولائی سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ کیا جارہا ہے،ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 10 فیصد اضافہ کیا جائے گا، اردلی الاؤنس کو 14000 روپے ماہانہ سے بڑھا کر ساڑھے 17 ہزار روپے ماہانہ کیا جائے گا، اسی طرح گریڈ ایک سے 5کے ملازمین کے انٹیگریٹڈ الاؤنس کو ساڑھے چار سو روپے سے بڑھا کر 900 روپے کیا جارہا ہے، کم آمدنی والے افراد پر مہنگائی کا بوجھ کم کرنے کیلئے کم سے کم اجرت بڑھا کر 20 ہزار روپے ماہانہ کی جارہی ہے۔

شوکت ترین نے کہا کہ بجٹ میں اخراجات جاریہ 14 فیصد اضافہ کے ساتھ 6561 ارب روپے سے بڑھا کر 7523 ارب روپے کیا جارہا ہے، سبسڈیز کیلئے 682 ارب روپے رکھے جارہے ہیں۔تھوک اور پرچون کاروباروں کے لیے پی او ایس مشینیں اس وقت 11 ہزار دکانوں میں نصب ہیں جنہیں 2 سال میں بڑھا کر 5 لاکھ ریٹیل دکانوں میں نصب کیا جائے گا جو ایف بی آر سے منسلک ہوں گی۔ حکومت ان مشینوں کی تنصیب مفت کرے گی۔وزیر خزانہ کے مطابق کووڈ ایمرجنسی فنڈ کیلئے 100 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔کورونا ویکسین کی درآمد پر 1.1 ارب ڈالر خرچ کیے جائیں گے،جون2022 تک دس کروڑ لوگوں کو ویکسین لگائی جائے گی۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ انسداد جنسی زیادتی فنڈ قائم کیا جارہا ہے جس کے لیے 100 ملین روپے، ہائر ایجوکیشن کمیشن کے لیے 66 ارب روپے اور ترقیاتی بجٹ کے لیے مزید 44 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جس میں بعدازاں 15 ارب روپے اضافہ ہوگا۔ پی آئی اے کے لیے 20 ارب، اسٹیل ملز کے لیے 16 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ مردم شماری کے لیے 5 ارب، مقامی حکومتوں کے الیکشن کے لیے 5 ارب مختص کیے گئے ہیں۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ 10 ملین روپے تک سالانہ ٹرن اوور والی گھریلو صنعت کو سیلز ٹیکس میں رجسٹریشن سے استثنیٰ دے دیا گیا۔آئندہ مالی سال کےلیےوفاقی ترقیاتی بجٹ کو 630 ارب روپے سے بڑھا کر 900 ارب روپے مقرر کیا گیا جو 40 فیصد اضافہ ہے۔ اس میں سےوفاقی وزارتوں کو 672 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ ملے گا، ایوی ایشن ڈویژن کیلئے 4 ارب 29 کروڑ، کابینہ ڈویژن کو56ارب2کروڑ روپے ، موسمیاتی تبدیلی 14ارب روپے، کامرس ڈویژن 30 کروڑ روپے، وزارت تعلیم و تربیت کیلئے9 ارب روپے، وزارت خزانہ 94ارب روپے ، ہائر ایجوکیشن کمیشن 37 ارب روپے ، ہاؤسنگ و تعمیرات کیلئے 14 ارب94 کروڑ، وزارت انسانی حقوق 22 کروڑ، وزارت صنعت و پیداوار 3 ارب،وزارت اطلاعات 1 ارب 84 کروڑ روپے، وزارت آئی ٹی 8 ارب روپے، بین الصوبائی رابطہ کیلئے 2 ارب 56 کروڑ، وزارت داخلہ 22 ارب روپے، امورکشمیر اورگلگت بلتستان کیلئے61ارب، وزارت قانون و انصاف 6 ارب، امور جہازرانی و میری ٹائم کیلئے 4 ارب 95 کروڑ،وزارت انسداد منشیات کیلئے 33 کروڑ، وزارت غذائی تحفظ کے لیے 12 ارب ، نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22ارب82 کروڑ، قومی ورثہ و ثقافت کیلئے 4 کروڑ 59 لاکھ، پٹرولیم ڈویژن 3 ارب 7 کروڑ روپے، وزارت منصوبہ بندی 99 ارب 25 کروڑ، سماجی تحفظ 11 کروڑ 89 لاکھ، ریلوے ڈویژن کیلئے 30 ارب روپے، سائنس و ٹیکنالوجی 8 ارب 11 کروڑ، آبی وسائل 110 ارب روپے، این ایچ اے 113 ارب 95 کروڑ روپے،پیپکو کے لیے 53 ارب روپےکا ترقیاتی بجٹ مقرر کیا گیا ہے۔ دیگر ضروریات و ایمرجنسی کیلئے 60 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  کھجوربرآمد کرنےو الے ممالک میں پاکستان 5ویں نمبر پر

بجٹ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا یہ تیسرا بجٹ پیش کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں ہم معیشت کے بیڑے کو کئی طوفانوں سے نکال کر ساحل تک لے آئے ہیں، مشکل حالات ورثے میں ملے،ن لیگ کے آخری دو سال میں بیرونی قرضے میں اضافہ ہوا،5.5 شرح نمو کا ڈھول پیٹا گیا اور بلا سوچے سمجھے قرضے لیے گئے، ادائیگیاں ہمیں کرنی پڑیں ، معیشت کے بیڑے کو طوفانوں سے نکال کر ساحل تک لے آئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان مشکل حالات کا مقابلہ کیا اور کامیابی کی طرف گامزن ہیں، یہ کامیابی وزیراعظم کی مثالی قیادت کے بغیر ممکن نہیں تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں کون سے حالات ورثے میں ملے، یہ بات سب کو معلوم ہے کہ بہت زیادہ قرضوں کی وجہ سے ہمیں دیوالیہ پن کی صورتحال کا سامنا تھا۔ ہمیں ورثے میں 20 ارب ڈالر کا کرنٹ ڈالر کا تاریخ خسارہ ملا، 25 ارب ڈالر کی درآمدات تھیں، اس عرصے کے دوران برآمدات میں منفی 0.4 فیصد جبکہ درآمدات کا اضافہ 100 فیصد اضافہ ہوا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ شرح سود کو مصنوعی طور پر کم رکھا گیا تھا اور تمام قرضے اسٹیٹ بینک سے لیے گئے جس کی وجہ سے مالیاتی حجم میں شدید عدم توازن پیدا ہوا، اسٹیٹ بینک سے قرضوں کا حجم 70 کھرب روپے کی خطرناک سطح تک پہنچ گیا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 6.6 فیصد تھا جو گزشتہ 5 سالوں میں سب سے زیادہ تھا، بیرونی زرِمبادلہ کے ذخائر بڑی حد تک قرضے لے کر بڑھائے گئے تھے جو جون 2013 میں 6 ارب ڈالر تھے اور 2016 کے آخر میں بڑھتے ہوئے 20 ارب ڈالر ہوگئے تھے لیکن مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے آخری 2 سالوں میں بڑی تیزی سے کم ہوکر صرف 10 ارب ڈالر رہ گئے تھے، اس دور میں بیرونی قرضوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوا تھا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ مسلم لیگ کے آخری دو سال میں جون 2018 تک 10 ملین ڈالر رہ گئے اس دور میں بیرونی قرضے میں اضافہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ یہ تباہی کی داستان ہے جس کے بعد معیشت کی بحالی کی ذمہ داری ہم پر عائد ہوگی۔انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود 5.5 شرح نمو کا ڈھول پیٹا گیا اور بلا سوچے سمجھے قرضے لیے گئے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ یہ ساری ادائیگیاں ہمیں کرنی پڑیں ورنہ ملک ڈیفالٹ کرجاتا۔انہوں نے کہا کہ ہم حقیقی منظر پیش کررہے ہیں، قبرستان میں کھڑے ہو کر قبروں کو کھودنے کے بجائے قوم کو روشنی کی طرف لے جایا جائے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے معیشت کی بحالی میں تھوڑا وقت لگا۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی حکومت مشکل فیصلے میں خوفزدہ نہیں ہوتی جس کی وجہ سے 20 ارب کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو اپریل 2019 کو 800 ملین ڈالر کا سرپلس میں تبدیل کردیا گیا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ اخراجات میں کمی اور کفایت شعاری کی پالیسی اپنائی گئی۔انہوں نے کہا کہ ہم استحکام سے معاشی نمو کی طرف گامزن ہوئے ہیں۔وزیر خزانہ نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے معاشی نمو میں ایک سال کی تاخیر ہوئی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو کورونا کی دو لہروں کا مقابلہ کرنا پڑا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ معاشی ترقی کی شرح ہر شعبے میں ریکارڈ کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ کپاس کے علاوہ تمام دیگر زرعی اشیا کی پیداوار میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے جبکہ صنعتی ترقی بھی غیر معمولی رہی۔وزیر خزانہ نے کہا کہ بڑے صنعت شعبے میں 9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ ماضی میں نمو منفی 10 تھی۔انہوں نے کہا ہم کورونا وبا کے پھیلاؤ کو روکنے میں کامیاب رہے اگرچہ مارچ سے مئی کے دوران تیسری لہر کا سامنا کرنا پڑا لیکن کاروبار کی بندش سے گریز کیا۔انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام کے ذریعے ایک کروڑ 20 لاکھ گھرانوں کی مدد کی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ پہلے سال میں ایک کروڑ 15 لاکھ گھرانوں کو امداد دی گئی۔وزیرخزانہ نے کہا کہ ترسیلات زر کی تاریخی سطح ریکارڈ کی گئی، بیرون سرمایہ کم آمدنی والے طبقے سے ہے، جس کی وجہ ان افراد کی اشیا کی خرید و فروخت میں اضافہ ہوا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بیرونی ترسیلات زر اس سال 29 ارب ڈالر پر پہنچے گی، یہ سب سمندر پار پاکستانیوں کا عمران خان پر اعتبار کا نتیجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ فصلوں کی پیداوار میں تاریخی اضافے سے کسانوں کو 3 ہزار 100 ارب روپے کی آمدنی ہوئی جبکہ گزشتہ برس 2 ہزار 300 ارب روپے تھی، جس سے آمدنی میں 32 فیصد اضافہ ہوا۔شوکت ترین نے کہا کہ لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں نمو سے لوگوں کے چھینے ہوئے روزگار کووڈ سے پہلے کی سطح پر بحالی کی نشان دہی ہو رہی ہے بلکہ روزگار میں مزید اضافہ ہوا ہے کیونکہ گزشتہ ایک دہائی میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔انہوں نے کہا کہ خدمات کے شعبے میں اضافہ خاص طور پر ای کامرس کے ذریعے آن لائن خریداروں کے ذریعے روزگار میں بہتری کا عکاس ہے۔انہوں نے کہا کہ کووڈ-19 کے باوجود گزشتہ ایک سال میں فی کس آمدنی میں 15 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  پوری قوم دو نفل ادا کرے کہ ملک کی صورتحال اتنی خراب نہیں ہے:وزیراعظم

ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس وصولیوں میں 18 فیصد کا زبردست اضافہ ہوا، جس کی وجہ معشیت کی غیر معمولی کارکردگی ہے، ٹیکس کی وصولی 4 ہزار ارب کی نفسیانی حد عبور کرچکی ہے۔بجٹ میں تقریر میں انہوں نے کہا کہ ریفنڈ میں پچھلے سال کے مقابلے میں 75 فیصد زائد پیسے دیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ برآمدات ماضی کے مقابلے میں اب بہت زیادہ ہیں، اس سال برآمدار میں شان دار نمو دیکھنے میں آئی، جس میں 14 فیصد اضافہ ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ ادائیگیوں کے توازن میں قابو پالیا گیا ہے اور سرپلس ہوگیا ہے، غذائی اجناس فصلیں تباہ ہونے پر برآمد کرنا پڑی۔شوکت ترین نے کہا کہ ترسیلات زر میں 25 فیصد کا اضافہ ہوا اور 29 ارب تک پہنچ گئے ہیں اور بہتری کے ساتھ اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ سرکاری خزانے میں 3 مہینے سے زیادہ درآمدات کے لیے کافی ہے، ڈالر 155 روپے پر ٹریڈ ہو رہا ہے

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان غذائی اجناس میں خسارے کا ملک بن گیا ہے، عالمی مارکیٹ میں غزائی اجناس بلند ترین سطح پر ہے۔شوکت ترین نے کہا کہ صوبوں کے تعاون سے زرعی پیداوار میں اضافہ اور فوڈ سیکیورٹی یقینی بنانے کے لیے جامع پلان ترتیب دیا گیا ہے۔وزیر خزانہ نے برآمدات میں اضافہ ادائیگیوں کے توازن میں جاری مسلسل بحران سے نکالنے اور بار بار آئی ایم ایف پروگرام کی طرف جانے سے بچنے کے لیے نہایت اہم ہے، اس لیے ہم اس سیکٹر کے لیے کافی مراعات کا اعلان کر رہے ہیں اور ایک ایسا پلیٹ فارم بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جہاں صنعتیں منتقل کی جائیں گی، روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں گے اور برآمدات میں اضافہ ممکن ہوسکے گا۔ہاؤسنگ اور تعمیرات شوکت ترین نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں کم از کم ایک کروڑ رہائشی مکانات کی کمی ہے، وزیراعظم کے ہاؤسنگ اور تعمیرات پیکج سے اس شعبے میں بہت سی معاشی سرگرمیوں اور اس شعبے سے وابستہ صنعتوں کو فروغ ملا ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت اس پروگرام کے فروغ کے لیے مندرجہ ذیل اقدامات اٹھارہی ہے، اس سلسلے میں پالیسی سازی اور اس کے نفاذ میں ربط کے لیے نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی قائم کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت اس پروگرام کے فروغ کے لیے مندرجہ ذیل اقدامات اٹھارہی ہے، اس سلسلے میں پالیسی سازی اور اس کے نفاذ میں ربط کے لیے نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی قائم کی گئی ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ اس اقدام کے تحت ہاؤسنگ اسکیموں کے لیے ٹیکسوں میں رعایت کا ایک پیکج خاص طور پر واضح کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے لیے بجٹ 630 ارب روپے سے بڑھا کر 900 ارب روپے کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ترقی بجٹ میں 40 فیصد سے زیادہ اضافہ کیا گیا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ پی ایس ڈی پی کے تحت ہمارا وژن بہت سادہ ہے ہم زیادہ منافع بخش پروگرام میں سرمایہ کاری کریں گے۔انہوں نے کہا کہ جس سے بود و باش میں بہتری آئے گی اور کرپشن کی حوصلہ شکنی ہوگی۔شوکت ترین نے فوڈ سیکیورٹی کے حوالے سے کہا کہ ہماری حکومت نے زراعت کے شعبے کو غیرمعمولی ترجیح دی ہے۔انہوں نے کہا کہ امسال گندم، چاول، گندے میں بہت زیادہ پیداوار ہوئی۔وزیر خزانہ نے کہا کہ اسی وجہ سے نیشنل ایگریکلچر ایمرجنسی پروگرام کا اعلان کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد لائیو اسٹاک اور زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ مویشوی، ماہی گیری، آپباشی کے شعبے کا اعادہ کیا جائے گا جبکہ ہم نے اگلے سال زراعت کے لیے 12 ارب روپے مختص کیے ہیں۔علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ ٹڈی دل اور فوڈ سیکیورٹی پراجیکٹ کے لیے ایک ارب روپے مختص کرنے کی تجویز شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تیزی سے پانی کی کمی کا شکار ہورہا ہے اور وزیراعظم عمران خان چھوٹے ڈیموں کی تعیمر کے لیے خواہاں ہیں۔وزیر خزانہ نے کہا کہ ایم ایل ون ایک اہم منصوبہ جس کی لاگت 9.3 ارب ڈالر ہے جسے تین مراحلے میں مکمل کیا جائے گا، پیکج ون کا آغاز مارچ 2020 شروع ہوچکا جبکہ پیکج ٹو جولائی 2021 اور پیکج تھری جولائی 2022 میں شروع ہوگا۔شوکت ترین نے کہا کہ ہم ساری کی ساری بجلی صارفین کو فراہم کرنے کی صلاحیت سے محروم ہیں اس لیے ہماری سرمایہ کاری میں ترجیحات یہ ہوگی کہ اس چیلنج پر پورا اتریں۔انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے بجٹ میں 118 ارب روپے مختص کیے ہیں۔وزیر خزانہ نے کہا کہ کراچی میں کے ون اور کے ٹو منصوبے اور تربیلا ہائیڈرو پاور پلانٹ کی پانچویں توسیع کے لیے 16 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے پسماندہ علاقوں کے لیے خصوصی ترقیاتی پیکج شروع کیے ہیں اس مقصد کے لیے 100 ارب روپے مختص کیے جارہے ہیں اور اس میں درجن منصوبے شامل ہیں۔بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیرخزانہ نے کہا کہ زرعی شعبے کی طلب کو پورا کرنے کے لیے آبی وسائل میں بہتری ہمارا نصب العین ہے، جس کے لیے ساڑھے 19 ارب روپے رکھا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کے پی ضم شدہ اضلاع کی ترقی کے لیے 54 ارب روپے رکھے گئے ہیں، جن میں 30 ارب روپے اگلے 10 سالہ ترقی منصوبے کے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پبلک پرائیویٹ پارنٹرشپ پر حکومت یقین رکھتی ہے، اتھارٹی کے پاس مختلف مراحل میں 50 منصوبے موجود ہیں جن کی مجموعی لاگت 2 ہزار ارب روپے، جس میں ریل، صحت، لاجسٹک اور دیگر منصوبے شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ 710 ارب روپے کے مزید 6 منصوبے رواں سال شروع ہوں گے، جس کے لیے حکومت وائبلیٹی فنڈز کی مد میں 61 ارب روپے ادا کرے گی۔ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے بلین ٹری سونامی منصوبہ ہے، اور مالی سال میں 14 ارب روپے مختص کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سماجی شعبے میں وزیراعظم ترجیح دیتے ہیں، اس میں صحت، تعلیم، پائیدار ترقی کے اہداف، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر شعبہ جات ہیں اور اس مد میں 118 ارب روپے کے فنڈ مختص کر رہے ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ سندھ کو 12 ارب کو خصوصی گرانٹ فراہم کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ مردم شماری 2022 کے لیے وفاق کی جانب سے 5 ارب روپے مختص کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  پرانا پیٹرولنگ سسٹم ناکام ہو گیا ہے:چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

اپنا تبصرہ بھیجیں