budget_2021-22

بجٹ میں کس کو کیا ملا ؟۔قومی اسمبلی میں بجٹ پیش

EjazNews

شوکت ترین نے حکومت کے ریلیف اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے مہنگائی میں اضافے سے سرکاری ملازمین کی مشکلات کو تسلیم کیا۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی سے چونکہ لوگوں کی قوت خرید متاثر ہوئی اس لیے یکم جولائی 2021 سے سرکاری ملازمین کو دس فیصد ایڈہاک الاؤنس دیا جائے گا۔ گریڈ ون تا 22 تک ملازمین کے الاؤنس کو 450 روپے سے بڑھا کر 900 روپے کیا جا رہا ہے۔

کم سے کم اجرت 20 ہزار روہے ماہانہ کی جا رہی ہے۔

ہم نے ایسا بجٹ دیا ہے جو امید افزا ہے، یہ معاشی پروگرام تمام طبقات کے لیے مفید ہو گا۔ ہر شعبہ ہائے زندگی کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں اور تاریخ میں پہلی مرتبہ غریب خاندانوں کو مالی امداد دی گئی ہے۔

وزیرخزانہ نے کہا کہ اس بجٹ سے نوجوان اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں گے۔

شوکت ترین نے حکومت کے ریلیف اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے مہنگائی میں اضافے سے سرکاری ملازمین کی مشکلات کو تسلیم کیا۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی سے چونکہ لوگوں کی قوت خرید متاثر ہوئی اس لیے یکم جولائی 2021 سے سرکاری ملازمین کو دس فیصد ایڈہاک الاؤنس دیا جائے گا۔ گریڈ ون تا 22 تک ملازمین کے الاؤنس کو 450 روپے سے بڑھا کر 900 روپے کیا جا رہا ہے۔

کم سے کم اجرت 20 ہزار روہے ماہانہ کی جا رہی ہے۔

ہم نے ایسا بجٹ دیا ہے جو امید افزا ہے، یہ معاشی پروگرام تمام طبقات کے لیے مفید ہو گا۔ ہر شعبہ ہائے زندگی کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں اور تاریخ میں پہلی مرتبہ غریب خاندانوں کو مالی امداد دی گئی ہے۔

وزیر خزانہ کے مطابق استعمال شدہ لیڈ بیٹریوں پر ٹیکس لگانے کی تجویز ہے۔ فرنیچر کے کاروبار سے منسلک ٹیئر ون دکان کے رقبے میں دو گنا اضافہ کیا گیا ہے۔

وزیر خزانہ کے مطابق پاکستان میں موبائل فون کی صنعت نے متاثر کن کارکردگی دکھائی ہے، وہ وقت دور نہیں جب پاکستان بھی موبائل فون برآمد کر رہا ہو گا۔

وزیر خزانہ کے مطابق فارما انڈسٹری کے لیے 300 سے زائد ایکٹو فارماسیوٹیکل اجزا کو کسٹم ٹیکس سے چھوٹ دی گئی ہے۔ سرنجز سے منسلک انڈسٹری کو بھی ٹیکسز سے چھوٹ دی گئی تا کہ اس کی مقامی پیداوار پر لاگت کو کم کیا جا سکے۔

ڈیری انڈسٹری سمیت متعدد شعبوں کو کافی مراعات دی جا رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان میں دہشت گردی افغانستان سے ہو رہی ہے:اقوام متحدہ

پاکستان کو سیروسیاحت دوست ملک بنانے کے لیے سیاحتی شعبے کو فروغ دینے کی خاطر ان میں استعمال ہونے والی اشیا کو صفر فیصد کسٹم ڈیوٹی کی سلیب میں شامل کر دیا گیا ہے۔

شوکت ترین کے مطابق قومی اقتصادی کونسل نے 2135 ارب روپے کے تاریخی ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی ہے۔

دیامر بھاشا کے لیے 23 ارب روپے، مہمند ڈیم کے لیے چھ ارب، نیلم جہلم کے لیے 14 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ سی پیک کے تحت 21 ارب ڈالر کے 21 منصوبوں پر کام جاری ہے۔ ایم ایل ون پر نو ارب روپے سے زائد کی لاگت آئے گی۔

شوکت ترین کے مطابق کمزور معیشت کے لیبل سے چھٹکارا حاصل کرنے کی خاطر کاروباری لاگت کم کرنے اور مقامی صنعتوں کو فروغ دینے کے لیے کوشاں ہیں۔

شوکت ترین کے مطابق سپیشل ٹیکالوجی زون اتھارٹی کے لیے ٹیکس میں دس سالہ چھوٹ کی تجویز ہے۔

مستقبل کی کموڈیٹی مارکیٹس، ویئرہاؤسز، لاجسٹک وغیرہ پر شرح ٹیکس 8 فیصد سے کم کر کے تین فیصد کرنے کی تجویز ہے۔

شوکت ترین کے مطابق ملک میں خصوصی ٹیکنالوجی زونز قائم کر رہے ہیں۔ آئی ٹی سروسز کو 100 فیصد ٹیکس کریڈٹ کے دائرے میں لایا گیا ہے۔ ڈیٹا سٹوریج کو شامل کر کے ان سروسز کا دائرہ کار وسیع کرنے کی تجویز ہے۔

اذان عصر مکمل ہونے کے بعد سپیکر اسد قیصر نے جونہی وزیر خزانہ کو بجٹ تقریر جاری رکھنے کا کہا تو ابتدا میں اپوزیشن ارکان نسبتا خاموش رہے تاہم پھر ڈیسک بجا کر احتجاج کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا۔

بجٹ تقریر کے دوران ایوان میں عصر کی اذان شروع ہوئی تو وزیر خزانہ نے اپنی تقریر روک دی جب کہ اپوزیشن ارکان نے بھی احتجاج کا سلسلہ منقطع کر دیا۔

شوکت ترین نے بتایا کہ پیچیدہ ٹیکس نظام کو آسان کرنے کے لیے متعدد اقدامات کر رہے ہیں۔ پانچ لاکھ پوائنٹ آف سیل مشینیں لگائیں گے۔

شوکت ترین کے مطابق سی پیک کے تحت 13 ارب ڈالر مالیت کے 17 بڑے منصوبے مکمل کر لیے گئے ہیں۔ ایم ایل ون منصوبہ تین مراحل میں مکمل ہو گا۔
بجلی کی ترسیل بہتر بنانے کے لیے 118 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  احساس پروگرام میں لڑکیوں کو زیادہ اہمیت دی گئی ہے:وزیراعظم

انہوں نے کہا کہ انکم ٹیکس اتھارٹیز کے صوابدیدی اختیار میں کمی کی تجویز ہے۔ مقامی طور پر تیار ہیوی موٹر سائیکل، ٹرک اور ٹریکٹروں پر ٹیکس کی کمی کی تجویز ہے۔ مقامی طور پر تیار ہونے والوں گاڑیوں کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس ختم کیا جا رہا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ کے مطابق مقامی طور پر بنائی جانے والی 850 سی سی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور ویلیو ایڈڈ ٹیکس کی چھوٹ اور سیلز ٹیکس 17 فیصد سے کم کر کے 12 فیصد کیا جا رہا ہے۔

شوکت ترین کے مطابق صوبوں کو وفاق کی جانب سے 3411 ارب روپے ملیں گے۔

ایف بی آر محاصل 5829 ارب روپے ہونے کی توقع ہے۔ وفاقی اخراجات کا تخمیہ 8487 ارب روپے جب کہ سبسڈیز کا تخمینہ 682 ارب روپے ہے۔
شوکت ترین نے بتایا کہ زرعی اجناس کے گوداموں کو چھوٹ دینے کی تجویز ہے۔ ایم ایل اون کا آغاز جولائی 2022 میں ہو گا۔

تین منٹ سے زائد جاری رہنے والی موبائل کالز، انٹرنیٹ ڈیٹا کے استعمال اور ایس ایم ایس پر فیڈر؛ل ایکسائز ڈیوٹی لگائی جا رہی ہے۔

خیبرپختونخوا میں ضم ہونے والے اضلاع کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی ترقی کے لیے 54 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

شوکت ترین نے بتایا کہ ہر کاشتکار گھرانے کو ہر فصل کے لیے ڈیڑھ لاکھ روپے تک کا قرض دیں گے۔

شوکت ترین نے بجٹ تقریر میں کہا کہ ایس ایم ای سپورٹ پروگرام کے لیے بہت سی سکیمیں تجویز کی گئی ہیں۔ اس مقصد کے لیے بارہ ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ کامیاب پاکستان پروگرام کے لیے دس ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

ایچ ای سی کو 66 ارب مہیا کیے جائیں گے۔ ترقیاتی بجٹ کے لیے 44 ارب مہیا کیے جائیں گے، بعد ازاں اس میں 15 ارب روپے رکھے جائیں گے۔
سٹیل ملز کو 316 ارب روپے کی مالی امداد دی جائے گی۔

کشمیر کے لیے بجٹ میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ گلگت بلتستان کے لیے بجٹ 32 ارب روپے سے بڑھانے کی تجویز ہے۔ سندھ کے لیے 12 ارب روپے کی خصوصی گرانٹ اور بلوچستان کے لے این ایف سی کے علاوہ دس ارب روپے فراہم کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  نومسلم بہنوں کو دارالامان منتقل کر دیا گیا

وزیرخزانہ کے مطابق ویکسین کے لیے ایک اعشاریہ ایک ارب ڈالر ویکسین کی درآمد پر خرچ کیے جائیں گے۔ جون 2020 تک دس کروڑ لوگوں کو ویکسینیٹ کرنا ہے۔

وزیر خزانہ شوکت ترین نے بتایا کہ سرکاری شعبے کا ترقیاتی بجٹ 630 ارب روپے سے بڑھا کر 900 ارب کیا جا رہا ہے۔

پرائمری خسارے کا ہدف اعشاریہ سات فیصد ہے۔ تین برسوں میں پرائمری خسارے میں تین فیصد سے زائد کی کمی لائی گئی ہے۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ ہاؤسنگ سکیموں کے لیے ٹیکسوں میں چھوٹ کا طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔ ٹڈی دل اور فوڈ سکیورٹی کے لیے ایک ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

بجٹ تقریر میں بتایا گیا کہ مقامی طور پر تیار ہونے والی گاڑیوں پر ٹیکس 17 فیصد سے کم کر کے 12 فیصد کیا جا رہا ہے جب کہ 850 س سی گاڑیوں کو ٹیکسوں میں چھوٹ دی جا رہی ہے۔ مقامی سطح پر تیار کی جانے والی گاڑیوں کے لیے ویلیو ایڈڈ ٹیکس ختم کیا جا رہا ہے۔

شوکت ترین نے کہا کہ زرعی شعبے کے لیے 12 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ ملک میں زیتون کی کاشت بڑھانے کے لیے ایک ارب رکھے گئے ہیں۔ ترقیاتی بجٹ میں 40 فیصد تک اضافہ کیا جا رہا ہے۔

شوکت ترین کے مطابق وفاقی سرکاری ملازمین کو دس فیصد ایڈہاک ریلیف فراہم کیا جائے گا۔ دیامر بھاشا ڈیم کے لیے 23 ارب، ہمند ڈیم کے لیے نو ارب، نیلم جہلم پراجیکٹ کے لیے 14 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

وزیرخزانہ نے بجٹ تقریر میں بتایا کہ تنخواہ دار طبقے پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا۔ طاقتور گروپس کو ملنے والی ٹیکس چھوٹ کا خاتمہ کیا جائے گا۔

شوکت ترین نے بجٹ تقریر میں بتایا کہ اس وقت ملک میں بجلی کی پیداوار اضافی ہے لیکن ہم اسے صارف تک پہنچانے کے قابل نہیں ہیں۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے 118 روپے رکھے گئے ہیں۔ اسلام آباد تا لاہور ٹرانسمیشن لائن کے لیے بجٹ مختص کیا گیا ہے۔

وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ اعلی تعلیم کے لیے ایچ ای سی کو 66 ارب روپے دینے کی تجویز ہے۔