ahsan iqbal

قومی اسمبلی میں کس نے کیا کہاہے؟

EjazNews

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہاکہ جمہوریت کی علمبردار اپوزیشن عوامی مفاد کی قانون سازی میں رکاوٹ ڈال رہی ہے،اپوزیشن تعمیری تنقید کے بجائے واک ائوٹ کر جاتی ہے‘اگر وہ اپنے ڈیلی الائونس کا حق ادا کرنا چاہتے ہیں تو واک آئوٹ نہ کریں ۔ سید نوید قمر نے کہاکہ ہم آنکھیں بند کرکے بلزپاس نہیں کرسکتے،ہم پڑھے اور سمجھے بغیر کیسے بلز کو پاس کردیں‘اتنی قانون سازی تو گزشتہ تین سالوں میں نہیں کی گئی جو حکومت آج کرنا چارہی ہے۔ رانا تنویر حسین نےکہاکہ آپ لوگوں نے تو عوام سے ووٹ نہیں لئے ہم نے لئے ہیں ،اتنی جلدی میں اتنے بل منظور کرنا چاہتے ہیں جیسے بجٹ کے بعد آپ نے الیکشن میں جانا ہو ۔قائمہ کمیٹیاں غیر موثر ہوچکی ہیں۔

مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے کہاکہ کہا گیا کہ قائمہ کمیٹیوں میں کام نہیں ہوتا ،الیکشن ایکٹ نو تک ماہ قائمہ کمیٹی میں رہا ،اپوزیشن کمیٹی میں بل کی منظوری میں روڑے اٹکاتی رہی ،ایک طرف الیکشن صاف شفاف کرانے کی بات کی جاتی ہے ،دوسری طرف الیکشن ایکٹ پر بحث سے اپوزیشن گریزاں رہی۔

احسن اقبال نے کہاکہ ایجنڈا دیکھ کر اندازہ ہوا کہ حکومت کی طرف سے کچھ دال میں کالا ہے ،ایجنڈے کے ستاون نمبر پر بھارتی جاسوس کلبوشن یادیو کے لئے قانون منظوری کرایا جارہا ہے ،ہم محبت وطن لوگوں سے ووٹ لے کر آئے ہیں ،ہم یہ اجازت نہیں دیں گے کہ اس مقدس ایوان میں جاسوس کے لیے خصوصی قانون سازی کی جائے،حکومت کس طریقے سے یہ قانون سازی کر رہی ہے۔ فروغ نسیم نے کہاکہ احسن اقبال نے ثابت کردیا کہ وہ وہ کام چاہتے ہیں جو بھارت چاہتا ہے،لگتا ہے کہ عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ آپ نے نہیں پڑھا،مجھے احسن اقبال کی بات سن کر بڑا صدمہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ہم نے بلوچستان کو 700 ارب روپے کا سب سے بڑا پیکج دیا ہے:وزیراعظم

آئی سی جے کے مطابق پاکستان کو قانون لانا پڑے گا۔اگر ہم یہ قانون نہیں لے کر آئیںگے تو عالمی عدالت انصاف میں ہمارے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ہو سکتی ہے۔وزیر قانون کی تقریر پر اپوزیشن ارکان نے شور شرابہ کیا ، اپوزیشن نے نعرے لگائے کہ مودی کا جو یار ہے غدار ہے ، اس دور ان اپوزیشن ارکان نے اسپیکر روسٹرم کو گھیر لیا۔

اجلاس کے دور ان بابر اعوان نے پاکستان الائیڈ ہیلتھ پروفیشنل کونسل پاکستان نرسنگ کونسل کے بل پیش کر دیئے ۔قومی اسمبلی اجلاس ایک بار پھر ن لیگ کے مرتضی جاوید عباسی نے کورم کی نشاندہی کر دی کورم پورا ہونے پر قومی اسمبلی اجلاس کی کارروائی دوبارہ شروع ہوئی تو اپوزیشن ایوان میں پہنچ گئی۔

اجلاس کے دور ان بلاول بھٹو زر داری نے کہاکہ ہم ٹی وی شو میں لڑائی جھگڑا کرتے ہیں،اپوزیشن کے بغیر جو قانون سازی ہوگی وہ کمزور ہوگی،اگر آپ ہمیں بولنے نہیں دیں گے، بل پڑھنے نہیں دیں اور ہمارے حقوق نہیں دیں گے تو کس طرح قانون سازی ہوگی۔ آپ ہم سے ہمارا حق چھین رہے ہیں،سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق تو سب دینا چاہتے ہیں،جو پاکستانی بیرون ممالک بیٹھے ہیں ان کے اپنے مسائل ہیں، اگر کلبھوشن یادو کو این آر او دینا تھا تو آرڈیننس کے ذریعے کیوں دیا،رات کے اندھیرے میں ایک آرڈیننس رات کو نکالا گیا،آپ کشمیر کے سفیر بنتے ہیں اور کلبھوشن کو وکیل بھی دیا۔

یہ بھی پڑھیں:  اگر ہندوستان اپنے اندرونی خلفشارسے توجہ ہٹانے کیلئے کسی بھی کارروائی کاسہارا لیتا ہے تو پاکستان کے پاس منہ توڑ جواب دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہ ہوگا:وزیراعظم عمران خان

شاہ محمود قریشی نے کہاکہ اسپیکر صاحب، آپ اپنی طاقت استعمال کریں ،اپوزیشن تارکین وطن سے ان کا حصہ چھیننا چاہتی ہے،تارکین وطن گواہ رہنا ہم آپ کو حقوق دے رہے ہیں اور یہ اپوزیشن والے آپ کے حقوق کے قاتل ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ یادیو کی کہانی ہم نے نہیں تم نے بگاڑی ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہاکہ ہائے ہائے کلبوشن یادیو ،آج یہ کلبوشن یادیو کی بات کرتے ہیں ،کلبھوشن پر ہم عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عمل کررہے ہیں ۔بابر اعوان نے اپوزیشن کے احتجاج کے دوران انتخابات ترمیمی بل 2020 ء پیش کردیا گیا،قانون سازی کے عمل کے دوران اپوزیشن نے کورم کورم کی صدا بلند کردی۔

کورم کی نشاندہی مرتضی جاوید عباسی نے کی‘ کورم پورا ہونے پر اجلاس کی کارروائی دوبارہ شروع ہو ا قومی اسمبلی نے انتخابات ایکٹ 2017 میں ترمیم کا قانون کثرت رائے سے منظور کرلیا۔

احسن اقبال نے کہاکہ خطرناک روایت ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے ،کوئی ایسی قانون سازی نہ ہونی دی جائے جس سے ملک میں انتشار پھیلے ،ہم نے پینتالیس صفحات پر مشتمل تجاویز دیں،ہمیں نظرانداز کیا گیا۔ راجہ پرویز اشرف نے کہاکہ ایوان میں قانون سازی کے لیے جو طریقہ کار اپنایا جا رہا ہے وہ مناسب نہیں ،وزیر خارجہ نے اپوزیشن پر الزام لگایا وہ ہندوستان کی بولی بولتے ہیں ،کیا آدھا پاکستان بھارت کی زبان بولتا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:  بھارتی ڈیلٹا وائرس کے پھیلنے کا خدشہ، احتیاطی تدابیر کو یقینی بنائیں

اپنا تبصرہ بھیجیں