Imran_khan_green_pakistan

اللہ نے ہمیں موقع دیا ہے کہ اپنا ماحول ٹھیک کریں :وزیراعظم

EjazNews

وزیراعظم عمران خان نے عالمی یوم ماحولیات کے موقع پر کنونشن سینٹر میں منعقدہ تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے لئے عالمی یوم ماحولیات کی تقریب کی میزبانی ایک بڑا اعزاز ہے ، انہیں خوشی ہے کہ بہت جلد پاکستان ماحولیات کے حوالے سے کاوشوں میں عالمی نقشہ میں آگیا ، دنیا اب اس کا ادراک کرتی ہے کہ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے کہ وہ اپنی آنے والی نسلوں کے لئے اقدامات اٹھا رہاہے ۔
انہوں نے کہاکہ یہ اللہ کا حکم ہے کہ اس کی زمین پر قدم رکھیں تو اس کی فکر کریں کہ جو کام ہم کر رہے ہیں اس کے آنے والی نسلوں پر کیا اثرات مرتب ہوں گے، وزیراعظم نے کہاکہ بدقسمتی سے دنیا کے اکثر ممالک نے اس جانب توجہ نہیں دی، پاکستان بھی ان ممالک میں شامل تھا تاہم کچھ ممالک نے اس کا احساس کیا اور انہوں نے ماحولیات کا خیال رکھا ۔۔

وزیراعظم نے کہاکہ ہم نے خیبر پختونخوا میں ایک ارب درخت لگانے کا فیصلہ کیا تب ہمیں معلوم ہوا کہ پاکستان کی ساری تاریخ میں اب تک 64کروڑ درخت لگائے گئے ہم نے خیبر پختونخوا میں یہ ہدف پورا کیا ، انہوں نے کہا کہ ہمارے لئے یہ تکلیف دہ امر تھا کہ پاکستان میں چھانگا مانگا ، دیپالپور، تاندلیانوالہ اور چیچہ وطنی میں جو جنگلات تھے وہ بھی کاٹ دیئے گئے، کسی کو ہماری آنے والی نسلوں کا خیال نہیں تھا، ہم نے اپنے دریائوں کو بے دردی سے آلودہ کیا ، ماضی میں زمان پارک کے باہر نہر سے لوگ پانی پیتے تھے ، باغوں کے شہر لاہور میں آلودگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ،ایکو سسٹم کی بحالی کا عشرہ دنیا کے لئے ایک موقع ہے کہ وہ ماحولیات کی بہتری کے لئے اقدامات کریں، اللہ نے ہمیں موقع دیا ہے کہ اپنا ماحول ٹھیک کریں ، یہ 10سال ہمارے لئے اپنی سمت درست کرنے کے لئے اہم ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں:  صحت کے شعبہ کیلئے بجٹ میں کتنا اضافہ کیا گیا ہے

وزیراعظم نے کہاکہ کاربن اخراج میں پاکستان جیسے ممالک کا کردار ایک فیصد بھی نہیں اس کے باوجود ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ عالمی حدت سے نمٹنے کے لئے اقدامات اٹھائیں گے ۔

وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بہت اہم بات کی ہے کہ دنیا میں پانی کا بحران آنے والا ہے، پاکستان میں ابھی سے صوبوں میں پانی کی تقسیم پر اختلافات پیدا ہو چکے ہیں ،پاکستان کے دریائوں میں 80فیصد پانی گلیشیئر سے آتا ہے اور یہ عالمی حدت سے متاثر ہو رہے ہیںجن ممالک کا پانی کا انحصار گلیشیئر پر ہے ان کیلئے بڑے مسائل ہیں، انہوں نے اساتذہ پر زور دیا کہ وہ اس سلسلے میں اہم ذمہ داری نبھاتے ہوئے اپنے طالبعلموں کو اس حوالے سے آگاہی دیں کہ درخت لگائیں اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو اس کے معاشی اثرات بھی مرتب ہوں گے ، ماحولیات وپانی کے مسائل کے حل میں مدد ملے گی ، موسم میں غیر یقینی تبدیلیاں ختم ہوں گی ، آکسیجن کی سپلائی بہتر ہوگی ، آلودگی میں کمی ہوگی ، برڈ اور وائلڈ لائف کو تحفظ ملے گا ، حکومت اکیلی یہ جنگ نہیں جیت سکتی بلکہ اس کے لئے پوری قوم کو ساتھ دینا ہوگا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ریچارج پاکستان ایک اہم قدم ہے اس سے سیلابی پانی کو وٹ لینڈ کی طرف موڑ کر اس سے جھیلیں بنا کر بنجر زمینوں کو ریچارج کر سکتے ہیں ،پاکستان میں بہت بڑی ساحلی پٹی ہے جہاں مینگروز لگائے جارہے ہیں ، ان درختوں میں یہ خاصیت ہے کہ کاربن جذب کرتے ہیں ، دنیا میں یہ درخت کم جبکہ پاکستان میں زیادہ ہو رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  کیا خاتون کے ساتھ زیادتی کرنے والے ہی مجرم ہیں؟

وزیراعظم نے کہاکہ امیر ممالک کا کاربن اخراج میں نمایاں کردار ہے ،یہ بڑے ممالک کاربن کا اخراج کم کریں، ان کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ ماحولیات کے منصوبوں کے لئے فنڈ فراہم کریں تاکہ پاکستان جیسے ممالک اپنے ماحول کو بہتر کر سکیں ۔

وزیراعظم نے کہا ہم نے فیصلہ کیا کہ 2030تک بجلی کا ساٹھ فیصد قابل تجدید توانائی پر منتقل کریں گے ،20فیصد گاڑیاں بجلی سے چلیں گی، اس کے لئے ہمارے نوجوانوں نےسکوٹر اور رکشے بنا لئے اس سے آلودگی میں کمی آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب نے ایک سال میں لاہور میں موجود اینٹوں کے بھٹوں کو زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل کیا ہے ، اس پر انہیں مبارک باد پیش کرتے ہیں،اب اس ملک میں درخت لگانے ، دریائوں کو صاف کرنے اور ملک کی صفائی کی ضرورت ہے ، اقوام متحدہ کے عشرہ برائے بحالی ایکو سسٹم کے لئے پوری قوم ملکر آگے بڑھے اور اس کے لئے جدوجہد کرے۔

تقریب میں چینی سفیر نے صدر شی جن پنگ کا پیغام پڑھ کر سنایا جس میں صدر نے عالمی یوم ماحولیات 2021 کی کامیاب میزبانی کرنے پر پاکستان کی حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ماحولیات کے شعبہ کی ترقی کے لئے مل کر کام کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے، اان کا کہنا ہے کہ عالمی برادری کوذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا،انہوں نے وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پاکستان میں صاف و سرسبز تحریک کی تعریف کی، ماحولیات کے شعبہ کی ترقی کے لئے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ چینی صدر نے کہا کہ انسانیت اور قدرتی ماحول کے لئے اقوام متحدہ کے فریم ورک کے تحت کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں:  50فیصد مسافروں کے ساتھ16مئی سے ٹرانسپورٹ بحال ہو جائے گی

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا کہ آئندہ 10 سال انتہائی اہم ہیں جبکہ ماحولیاتی نظام کے لیے اقوام متحدہ اقدامات کررہی ہے۔مرکزی تقریب سے ورچوئل خطاب کے دوران انہوں نےکہا کہ بہتر مستقبل کے لیے ایسے فیصلوں کی ضرورت ہے جو دوست ماحول کا باعث بننے،ماحولیاتی تبدیلی کو روکنا فرد واحد کا کام نہیں بلکہ مجموعی کوششوں کے ذریعے ممکن ہے جس میں کاروباری برداری سمیت شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے تمام لوگ شامل ہوں۔

برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن نے عالمی یوم ماحولیات 2021 کی میزبانی کرنے پر پاکستان کو مبارکباد دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں ٹین بلین ٹری سونامی جیسے بڑے منصوبوں کو قدرتی ماحول کے تحفظ و بحالی کی جانب اہم پیشرفت قرار دیا ہے،تقریب سے اپنے وڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ قدرتی ماحول کا تحفظ سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، آج پوری دنیا موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کی زد میں ہے۔

برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں قدرتی ماحول کے تحفظ و بحالی کی کوششوں میں نمایاں پیشرفت کی ہے، اس حوالے سے ٹین بلین ٹری سونامی پروگرام جیسے اقدامات قابل ستائش ہیں۔

انہوں نے اقوام متحدہ کی دہائی برائے بحالی ایکو سسٹم کے آغاز کو قدرتی ماحول کے تحفظ اور فطرت کے ساتھ انسان کے پائیدار تعلق کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں