Suprem_Court

بھارت میں پاکستانی ہندو خاندان کے قتل کا کیس سماعت کیلئے مقرر

EjazNews

جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ 10 جون کو سماعت کرے گا۔ جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس منیب اختر تین رکنی بینچ میں شامل ہیں۔

سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔ شرمتی مکھنی نے اہل خانہ کے قتل کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر رکھی ہے۔

بھارت میں ایک ہی خاندان کے 11 پاکستانی ہندوؤں کو زہر کا ٹیکا لگا کر قتل کیا گیا تھا۔ مقتول ہندوؤں کے خاندان کی بیٹی شریمتی مکھنی بھیل نے سپریم کورٹ میں درخواست دائرکر رکھی ہے۔

دفترخارجہ نے بھی 11 ہندوؤں کے قتل پر بھارت سے پوسٹ مارٹم رپورٹ طلب کی تھی۔

شہداد پور تھانے میں شریمتی مکھنی بھیل کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا تھا جس میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ مقتولین میں ان کے ماں باپ، بہن بھائی اور خاندان کے دیگر لوگ شامل ہیں۔ پورے خاندان کو راجستھان کے گاؤں لونا میں اگست 2020 میں قتل کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:  عوام الناس کی حفاظت کیلئے ویکسین کی فراہمی کو تیز کریں:شہباز شریف

مکھنی بھیل نے موقف اختیار کیا کہ آر ایس ایس کے دہشت گرد اور بی جے پی کے غنڈے رات 3 بجے گھر میں داخل ہوئے 80 سالہ والد، 75 سالہ والدہ سمیت پورے خاندان کو زہریلے انجکشن لگا کر قتل کیا گیا۔

مکھنی بھیل نے مطالبہ کیا تھا کہ بھارت میں قتل کیے گئے ہندو پاکستانی تھے اور ریاست پاکستان انہیں انصاف دلائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں