The benefits of banana peels-1

کیلے کے چھلکوں کے فوائد

EjazNews

دنیا بھر میں کیلا سب سے زیادہ استعمال کیے جانے والے پھلوں میں شامل ہے۔ اسی لیے دوسرے پھلوں کی طرح کیلے پر تحقیق بھی سائنس دانوں کا خاص موضوع ہے۔ انہوں نے اپنی تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ کیلے کے چھلکے کے درجنوں فائدے ہیں۔

بعض ماہرین نے کم از کم 23فائدے گنوائے ہیں جن میں جلد کی حفاظت سے لے کر بالوں کو صحت مند رکھنے ، ابتدائی طبی امداد میں استعمال کرنے اور حتیٰ کہ کھاد کی صورت میں بھی کیلے کے چھلکوں کو سبزیوں کی پیداوار کو بہتر بنانے کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

کیلا حیاتین سی جیسے اینٹی آکسیڈنٹ اور پوٹاشیم سے بھرپور غذا ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ لوگ کیلے کا چھلکا اتارنے کے بعد بڑی (بے دردی) سے پھینک دیتے ہیں۔ حالانکہ کیلے کو عمومی طور پر سکن کیئر ، فرسٹ ایڈ، گھر کی صفائی، باغبانی، دانتوں کی صفائی اور بالوں کی صحت کیلئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ کیلے کے چھلکوں کو کچھ دیر چہرے کی جلد پر مسلنے سے جلد میں چمک پیدا ہو تی ہے اور یہ جھریاں کم کرنے میں بھی معاون بنتی ہے۔ اگر آپ آنکھوں کی تھکن اور بوجھل پن کو دور کرنا چاہتے ہیں تو کچھ دیر کیلئے کیلے کے چھلکوں کو بند آنکھوں پر رکھ لیجئے۔ یہ چھلکے جلد کو موسچرائز کرنے کیلئے بھی استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ اس سے ہائیڈریشن پیدا ہو سکتی ہے۔ کچھ ماہرین نے بعض پھوڑے پھنسیوں کے د اغوں کو دور کرنے میں بھی ان چھلکوں کو مفید قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ٹماٹر گھر میں اگاتے ہیں

The benefits of banana peels

کچھ دیر کیلئے ان داغوں پر ملئے چند دن یہ عمل دہرانے سے داغ ہلکے پڑ جائیں گے۔ اگر کسی کی جلد میں (Poriasis) کی تکلیف کا شکار ہے تو یہ بہن ان چھلکوں کو متاثر ہ حصے پر ضرور رکھیں اس سے تکلیف میں آرام ملے گا۔ ہاں اگر کسی کو (wart) کی شکایت ہے تو اس صورت میں کیلے کے تازہ چھلکے رات بھر متاثرہ حصے پر لگا کر رکھئے ۔اس سے آرام ملے گا۔

محققین نے ثابت کیا ہے کہ کیلے میں ایک اہم کیمیکل (Phenolics) بھی پایا جاتا ہے۔ کئی دوسری خوبیوں کے ساتھ یہ کیمیکل اینٹی آکسیڈنٹ اور اینٹی مائیکرو بالٹ یعنی جراثیم کش خاصیتوں کی بھی حامل ہے۔ یعنی ان کے لگانے سے بعض جراثیم کا بھی صفایا ہو سکتا ہے۔ جبکہ ایک پرانی تحقیق کے مطابق ان چھلکوں میں کئی اقسام کے بائیو ایکٹو مرکبات بھی پائے جاتے ہیں ۔خاص طور پر (carotenoids and polyphenols) بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  دار چینی کے فوائد

کیلا بالوں کی صحت کیلئے مفید ہے:

اگر کوئی کہے تو یہ آپ کے بالوں کو مکمل طور پر بچا سکتا ہے تو درست نہیں۔ تاہم کیلے کے چھلکے ایک حد تک بالوں کو صحت مند بنا سکتے ہیں۔ بالوں کی نرمی اور چمک کیلئے بعض کاسمیٹکس کمپنیاں بھی اس کا استعمال کر رہی ہیں۔ بلکہ ہیئر ماسک میں بھی اس کا استعمال کئی برسوں سے ہو رہا ہے۔ اس کی اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات کے پیش نظر یہ فری ریڈیکل خلیوں کو غیر موثر کر کے بالوں کو مضبوط اور صحت مند بناتے ہیں۔

2015ءمیں ایک تحقیق ہوئی جس سے ثابت ہوا کہ یہ مسوڑوں میں پائے جانے والے بعض بیکٹریاز کیخلاف مزاحمت رکھتے ہیں۔ بالخصوص پیریو ڈینٹل بیماریوں جیسا کہ (gingivitis اور periodontis) میں مفید ہیں۔ تاہم اس کے بعد اس حوالے سے کیلوںکے چھلکوں پر کوئی قابل ذکر تحقیق نہیں ہو سکی۔ تاہم نیچرل ہیلنگ پر یقین رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ دن میں دو تین دفعہ ان چھلکوں پر دانتوں پر ضرور رگڑئیے اگر فائدہ نہ ہوا تو نقصان تو نہیں ہے۔ تاہم ان ماہرین نے یہ بھی کہا ہے کہ ایک ہفتے تک روزانہ رگڑ کر دیکھ لیجئے دانت میں کچھ سفیدی آجائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:  ناریل پانی کے فوائد

زمانہ قدیم میں دوسری جڑی بوٹیوں کے علاوہ کیلے کے چھلکوں کو بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے بلکہ اسے دہی ، دوا کانام بھی دیا گیا ہے۔سن برن ، بگ بائٹ یا (Poison ivy rash) سے آرام میں یہ استعمال کیا جاتا ہے۔ جریدہ ہیلتھ نائن کے مطابق کیلے کے فریزر میں جمائے ہوئے چھلکے کو گردن کے پچھلے حصے اور ماتھے پر رکھنے سے سر درد میں کمی ہو سکتی ہے۔

کیلے کے چھلکوں کو بر اہ راست ضائع کرنے کی بجائے بعض ماہرین اسے بطور باغبانی کھاد استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ مٹی میں پھینکنے سے یہ اچھی کھاد میں بدل سکتا ہے۔ تھوڑا سا پانی ملا نا ضروری ہے۔ کہتے ہیں کیلے کے چھلکوں پر تتلیاں بھی آتی ہیں۔ آپ تجربہ کر کے دیکھ سکتے ہیں۔ کیلے کے چھلکوں کی چائے بھی بنائی جا سکتی ہے بعض خطوں میں اسے ابال کر چائے کی صورت میں پیا جاتا ہے کچھ جگہوں پر یہ چٹنی میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں