Bhutto

ہم گھاس کھائیں گے لیکن ایٹم بم بنائیں گے:ذوالفقار علی بھٹو

EjazNews

یورینیم افزودگی سے متعلق ایٹمی ری ایکٹر کے معاہدے پر امریکہ سے شدید اختلافات ہو گئے تھے ۔ امریکی دستاویزات کے مطابق این پی ٹی پر دستخط کیے جانے کے بعد ہر صورت اس معاہدے کی تنسیخ چاہتی تھی۔امریکہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کے ساتھیوں کی کوششوں کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہا تھا۔

امریکی دستاویزات کے مطابق انتظامیہ نے اس سلسلے میں وزیراعظم ذوالفقار علی سے کئی مرتبہ رابطہ کیا۔ یہ رابطے اس وقت ہوئے جب بھٹو صدر مملکت کے عہدے پر فائض تھے اور ان کی حکومت الٹنے سے چند ہفتے قبل بھی ہوئے۔ صدر نے ایک فرانسیسی کمپنی کے ساتھ ایٹمی ری پراسیسنگ پلانٹ کے حصول کے لیے رابطہ کیا۔امریکی انتظامیہ اس بارے میں کافی فکر مند تھے۔لیکن مئی 1974ءمیں بھارتی ایٹمی دھماکے کے بعد امریکہ کو اس وقت تشویش ہو گی۔ اگست 1974ءمیں امریکہ کے خفیہ اداروں نے نے امریکہ کو بتایا کہ پاکستان 1980ءکے قریب ایٹمی ہتھیار بنانے کے قابل ہو جائے گا۔ یورنیم کی تیاری 1978ءتک ممکن ہو گی۔ 1974سے 1978ءتک کے عرصے میں امریکہ کے خیال میں پاکستان ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں پیش رفت کرسکتا تھا۔لہٰذا اس نے وارنٹ کرسٹو فر اور ہنری کسنجر کے ذریعے پاکستان اور فرانسیسی کمپنیوں پر مسلسل دباﺅ ڈالنا شروع کیا۔1976اور1975ءمیں وارنٹ کرسٹو فر اور ہنری کسنجر نے سابق وزیراعظم بھٹو سے متعدد مرتبہ رابطے کیے۔اس وقت ہنری کسنجر سیکرٹری خارجہ بن چکے تھے۔ سی آئی نے امریکہ انتظامیہ کو خفیہ رپورٹ دی کہ اگر بھٹو کو پرکشش مالی اور فوجی امداد مل جائے تو وہ ایٹمی ری پراسیسنگ پلانٹ کا معاہدہ منسوخ کر دیں اور شاید ایٹمی ری پراسینسنگ پلانٹ کی خریداری سے بھی دستبردار ہوجائیں۔ اس قسم کے فیصلے امریکہ پہلے بھی ایک دو ممالک کے ساتھ کر چکا تھا۔ چنانچہ سی آئی اے نے کچھ نقد اور کچھ اسلحہ کی شکل میں امداد دینے کی پیشکش کی۔ بھٹو کو ایف ای لڑاکا طیاروں اور نیوی کے لیے اے فائیو لڑاکا جیٹ طیاروں کی پیشکش کی گئی۔ تاہم بعد میںامریکہ نے نیوی کے لیے اے فائیو فائٹر جیٹ طیاروں کی فراہمی پر خود ہی پس و پیش ظاہر کر دی اسی دوران بھٹو نے کہا کہ ہم گھاس کھائیں گے لیکن ایٹم بم بنائیں گے۔ اس نقطے کا امریکہ میں شدید رد عمل ہوا۔ اور وہ ایٹمی ری پراسیسنگ پلانٹ کی معاہدہ کی ہر صورت تنسیخ کے خواہشمند تھے۔ امریکی حکام کو ایک طرف تو اپنی کانگریس میں کچھ مشکلات کا سامنا تھا اور دوسری طرف وہ بھٹو انتظامیہ کے اقدامات کو بہت شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  دنیا کا سب سے امیر شخص کتابیں کیوں پڑھتا ہے؟
Memorable Bhutto
جنرل ضیاءالحق ،وزیراعظم پاکستان کا استقبال کرتے ہوئے
دیکھئے اسی جنرل نے وزیراعظم پاکستان پر مقدمہ بھی چلوایا اور ان کو پھانسی بھی ہوئی اور اقتدار پر ایک لمبے عرصے تک قابض بھی رہا

سی آئی اے نے یہ بھی رپورٹ دی تھی کہ اگر فرانس نے تعاون نہ کیا تو پاکستان چین سے بھی رجوع کر سکتا ہے۔ چنانچہ پاکستان کے لیے ایک بڑا پیکج تیار کیا گیا اور یہ بھٹو حکومت کو پیش کر دیا گیا۔ پیکج کے مطابق امریکی حکام نے پاکستان کو ایف فائیو ای لڑاکا طیاروں کے علاوہ اے ایف فور لڑاکا طیاروںکی فراہمی پر آمادگی ظاہر کر دی یہ دونوں طیارے انیس اور ایف ایٹ کا نیم البدل تھے۔ اس سے پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ ہو سکتا تھا امریکی انتظامیہ نے پاکستان کو 76ملین ڈالر کی فوری نقد امداد دینے کی بھی پیشکش کی جبکہ98ملین ڈالر اگلے مالی سال یعنی 1978ءمیں ملنا تھے۔ ری پراسیسنگ پلانٹ کے معاہدہ کی تنسیخ کی صورت میں ایک 3سالہ پروگرام کے تحت امریکہ نے بھٹو انتظامیہ کو 1سو سے 125ملین ڈالر کے ایک پیکج کی پیشکش کی تاہم یہ پیکج 2سال میں بھی پورا کیا جاسکتا تھا۔ اسی طرح امریکی انتظامیہ نے اپنے ایک اور قانون PL400کے ذریعے غذائی اور دوسری اجناس کی فراہمی پر آمادگی ظاہر کر دی، اسی قانون کے تحت امریکہ کے برازیل کو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری سے روکنے کے لیے ایندھن کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی تھی۔ لیکن بھٹو حکومت نے یہ ساری پیشکشیں مسترد کر دیں۔ اور وہ ایٹمی پالیسیوں پر کاربند رہے۔

یہ بھی پڑھیں:  نوابزادہ لیاقت علی خان کے قتل کے بعد قیادت سرکاری اہلکاروں اور ان کے کاسہ لیس سیاست دانوں کے پاس چلی گئی

ایٹمی پروگرام کو جاری کرنے کے لیے بیرون ملک مقیم منیر احمد خان سے رابطہ کیا۔ وہ ایک معروف سائنسدان تھے جبکہ نوبل انعام یافتہ سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام کو انہوں نے اپنا مشیر مقرر کیا۔ ڈاکٹر عبدالسلام بھٹو سے براہ راست رابطہ کر سکتے تھے۔

انہوں نے منیر احمد خان کی سربراہی میں ایٹمی پراجیکٹ کو آگے بڑھانا شروع کیا۔ میجر جنرل زاہد علی اکبر اور ڈاکٹر مبشر حسن بھی ان کے ساتھ تھے۔ ڈاکٹر حسن ان دنوں سائنسی امور کے لیے مشیر تھے۔ تاہم ان کی دلچسپی ایٹمی پراجیکٹ میں بہت کم تھی۔ میجر جنرل زاہد علی اکبر کی دلچسپی بھی اس میں ذرا کم تھی۔ لیکن ڈاکٹر مبشر حسن ایٹمی تجربات کے لیے تجربہ گاہوں اور سہولتوں کی تعمیرات کے انچارج تھے۔ بھٹو حکومت نے ڈائریکٹور یٹ آف سائنس بھی قائم کیا تھا۔ اس کی سربراہی بھی ڈاکٹر مبشر کے پاس تھی۔ تاہم جنرل ضیاءالحق نے اس انتظام میں کچھ تبدیلیاں کیں۔

1979سے 1983ءتک پاکستان پر ایٹمی عدم پھیلاﺅ کے معاہدے این پی ٹی پر دستخط کرنے کا دباﺅ رہا یہ دباﺅ ان کی حکومت نے برداشت کیا اور اس سلسلے میں اقوام عالم کو آغا شاہی کو ایک پانچ نکاتی ایجنڈا پیش کیا۔ جن کا لب لباب یہ تھا کہ اگر بھارت سائن کر دے گا تو ہم بھی کر دیں گے اور اس کے مطابق پاکستان ایٹمی صلاحیت حاصل نہیں کرنا چاہتا ۔ اس کا ایٹمی منصوبہ پر امن مقاصد کے لیے ہے۔ اسی عرصے میں پاکستانی سائنسدان منیر احمد خان نے بھارت کے سائنسدانوں سے بھی رابطے کیے۔

یہ بھی پڑھیں:  اسلامی کیلنڈر
zulfikar Ali Bhutto
یہ معاہدہ امریکہ اور بعض دوسری یورپی طاقتوں کی نظروں میں کانٹوں کی طرح چبتا رہا بعد میں یہی معاہدہ بھٹو حکومت کے خاتمے کا سبب بن گیا

1981ءمیں اسرائیلی فوج نے عراق پر حملہ کیا تھا اور اس کا ایٹمی پلانٹ تباہ کر دیا تھا اور ایسا ہی آپریشن بھارت بھی پاکستان میں کرنا چاہتا ہے اور چنانچہ منیر احمد خان کو لیانہ بھیجا گیا جہاں انہوں نے راجہ نامنا پر واضح کیا کہ ایسا کوئی بھی حملہ ایٹمی جنگ کی بنیاد بن سکتا ہے۔ چنانچہ پاکستان نے ایف 16فالکن طیارے اور اے فائیف سینٹم طیاروں کے حصول پر بھی کام شروع کر دیا یہ دونوں طیارے ایٹمی ہتھیاروں کی نقل و حمل میں معاون ثابت ہو سکتے تھے۔

1976ءسے فرانس پاکستان کا ایک اہم ساتھی تھا، دفاعی آلات کی فراہمی میں پاکستان اور فرانس کے تعلقات انتہائی خوشگوار تھے۔ بھارت اور اسرائیل نے این پی ٹی پر دستخط کر نے سے انکار کر دیا لہٰذا پاکستان بھی اس پر آمادہ نہ ہوا۔ مارچ 1976ءمیں فرانس نے پاکستان کے ساتھ ایک ایٹمی ری پراسیسنگ پلانٹ کی فراہمی کا معاہدہ کر لیا یہ معاہدہ امریکہ اور بعض دوسری یورپی طاقتوں کی نظروں میں کانٹوں کی طرح چبتا رہا بعد میں یہی معاہدہ بھٹو حکومت کے خاتمے کا سبب بن گیا۔

الف سلیم

اپنا تبصرہ بھیجیں