women_after_covid19

ہم سب خوشی سے پکار اٹھیں گےکہ’’ہماری دُنیا پہلے جیسی ہوگئی‘‘

EjazNews

’’مما!کورونا وائرس کا عالمی دورہ(ورلڈ ٹور)کب ختم ہوگا؟ کیا ہم کبھی سکول نہیں جاسکیں گے؟‘‘

اس وائرس کے ہول ناکیوں سے لرزاں یہ معصوم ذہن جنہوں نے ابھی دُنیا صحیح سے دیکھی بھی نہیں تھی، اُن کا خوف سے آنکھیں بند کرنا، ان کے سکولز کو بند کرکے انہیں گھروں میں مقید کرنا، ان کے کھیل کود اور اگلی منزلوں کی طرف بڑھتے قدموں کو ڈانواں ڈول کرنا مستقبل کی بنیادوں کو ہلا رہے تھے۔ وہ ہمت، لگن، حصولِ علم کا شوق، ستاروں کو چھونے کی باتیں، اپنے دوستوں سے مقابلے کا رحجان، جو ان کی کامیابی کا سب سے بڑا زینہ تھا، یکدم ہی جیسے کھینچ لیا گیا۔ سکولز پر پڑے تالے جیسےنوحہ خواں تھے اور صدائے درد بن کر فضا میں بکھر رہے تھے۔خالی کلاس رومز دہائیاں دےرہے تھے، کرسیوں پر پڑی گرد،سُونے پن کا احساس دلارہی تھی، لائبریریوں کی کتابیں، وہ ہاتھ تلاش کررہی تھیں، جو ان میں گوہر نایاب تلاش کرکے زندگی کو آگے بڑھانے کی کوشش کرتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  تبدیلی کیسے آئے گی

وہ بسوں، گاڑیوں کی قطاریں، وہ ماؤں کا صُبح سویرے اُٹھنا اور وقت دیکھ کر جلدی جلدی بچّوں کو اُٹھانا، ناشتا کروا کر تیار کرنا، سب گویا عالمی وبا کے ستم کی نذر ہوگئے ۔ کالجز، یونیورسٹیز کے سناٹے، علم کی بنیادوں کو ہلتا دیکھ کر خوف زدہ تھے کہ کہیں یہ سناٹے ان عمارتوں میں دراڑیں ہی نہ ڈال دیں۔ آن لائن پڑھائی، کبھی تدریسی اداروں کا متبادل نہیں ہوسکتی۔ وہ تو بس اک کوشش ناتمام تھی، ان پھولوں کو جگانے کی، جو سکول کھلنے کی آس میں مرجھا رہے تھے۔صد شُکر کہ اب زندگی نے نئی کروٹ لے کر گلشن اُمید کے پھول پھر سے کِھلا دئیے ہیں۔

تعلیمی ادارے کسی بھی معاشرے میں شہہ رگ کی سی حیثیت رکھتے ہیں، تازہ ہوا کا وہ جھونکا ہوتے ہیں، جو نوخیز کلیوں، پھولوں کی اخلاقی ذہنی، جسمانی و تخلیقی صلاحیتوں کی آب یاری کرکے قوم کے بہتر مستقبل کے ضامن بنتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  ازدواجی پریشانیاں کیوں جنم لیتی ہیں؟

کورونا کی چھٹیاں توان کے لیے کسی اذیت سے کم نہ تھیں۔

پہلی دفعہ نئی کلاس کا پہلا دِن آنے میں، چند ہفتے نہیں، بلکہ چھ سے سات ماہ لگ گئے۔اور پھر نئی کلاس کے بعد بچوں کے سکولز کے ساتھ کیا ہوا یہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔پھر بھی ہم مالک حقیقی کا جتنا بھی شُکر ادا کریں کم ہے کہ باقی دُنیا کے مقابلے میں ہم پھر بھی کم متاثر ہوئے۔ا گرچہ تعلیمی ادارے کافی حد تک بحال کردئیے گئے ہیں، لیکن بندشوں کی زنجیر ابھی پوری طرح نہیں ٹوٹی ہے کہ کورونا وائرس کے سبب احتیاط اب بھی لازم ہے۔ خاص طور پر ماؤں کے لیے لمحہ فکر یہ ہے کہ انہیں بچّوں کی تعلیم پر کہیں زیادہ توجّہ دینے کے ساتھ اُن کی صحت و سلامتی کو بھی یقینی بنانا ہے۔

احتیاطی تدابیر پر عمل کروانا، ان کی اہم ذمہ داری ہے کہ بچّے تو پھر بچّے ہیں، انہیں ہر لمحے ’’احتیاط‘‘ کا اصول والدین ہی کو ذہن نشین کروانا ہوگا۔ بہرحال، بچو! آپ کو سکول آنا مبارک ہو۔ ان شااللہ اب وہ دِن بھی دُور نہیں، جب اللہ کے فضل وکرم سے کورونا وائرس کی پرچھائیں تک غائب ہوجائے گی اور ہم سب خوشی سے پکار اٹھیں گےکہ’’ہماری دُنیا پہلے جیسی ہوگئی‘‘۔

یہ بھی پڑھیں:  مشکلات کو حل کرنے کی تجاویز

اپنا تبصرہ بھیجیں