bahto

28اپریل 1977ءمیں بھٹو کا پارلیمنٹ سے خطاب

EjazNews

موجودہ بحران بین الاقوامی سازش کا نتیجہ ہے۔ آج پاکستان اہم جغرافیائی حیثیت کا حامل ہے، اگر اسے نقصان پہنچا تو بہت سے عرب ملکوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ جن میں متحدہ عرب امارات، اومان اور سعودی عرب وغیرہ شامل ہیں۔ سازشی عناصر مجھے ہٹانا چاہتے ہیں، وہ پاکستان کی معیشت کو تباہ کرنا چاہتے ہیں ایک ملک موجودہ تحریک کے لئے بھاری رقم خرچ کررہا ہے۔ ”ہاتھی“ نے ویت نام اور مشرق وسطی پر ہمارے موقف کو تسلیم نہیں کیا۔ یہ ہاتھی مجھ سے ناراض ہے۔ لیکن اس کا واسطہ بندہ صحر ا سے آن پڑا ہے کہ ہم نے عربوں کو ہتھیار فراہم کئے، ہمارا سپاہی اسلام کا سپاہی ہے، ہم نے ایٹمی پلانٹ پر قومی مفاد کے مطابق موقف اختیار کیا ہے۔ ملک میں غیر ملکی کرنسی پانی کی طرح بہائی جارہی ہے۔ بعض بیرونی اخبارات نے لکھا ہے کہ اب مزدور بھی جو اس حکومت کے حامی تھے اس کے خلاف ہو رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایسے غریب ملک میں اگر اس طرح رقم پھیلائی جائے جس طرح یہاں پھیلائی تھی تو مزدور کیوں کر اس سے متاثر نہ ہوگا۔ یہ راز نہیں ہے کہ کس طرح پاکستان میں رقم پانی کی طرح بہائی گئی ہے اور کس طرح غیر ملکی کرنسی سیلاب کی طرح یہاں پھیلی ہے کہ کراچی میں ڈالر چھ سات روپے کا ہو گیا ہے۔ اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ کس طرح لوگوں کو اذان دینے کے لئے رقم دی گئی، کس طرح لوگوں کو جیل جانے کے لئے رشوتیں دی گئیں، حتیٰ کہ دودھ والوں کو اور ڈاکیوں کو رشوت دی یقینا صنعت کاروں نے قومی اتحاد کی حمایت کی لیکن اتنا پیسہ تو وہ بھی خرچ نہیں کر سکتے۔ لیکن جو رقم پاکستان میں پانی کی طرح بہائی جارہی ہے یہ رقم کس پر اسرار طریقے سے پاکستان آئی یہ ایک بین الاقوامی سازش ہے۔ عزیز احمد نے اس کا ذکر ڈپلو میٹک انداز میں کیا ہے۔ لیکن مجھے بتانے دیجئے۔ کیونکہ چندافراد کا مستقبل کوئی اہمیت نہیں رکھتا اور میرا فرض ہے کہ میں لوگوں کو واضح طور پر بتا دوں کہ یہ قومی اتحاد کی سازش نہیں بلکہ بین الاقوامی سازش ہے۔ میں کسی ملک کا نام نہیں لینا چاہتا اور کسی ملک سے بگاڑنا نہیں چاہتا لیکن عوام کو میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میرا قصور کیا ہے، میرا جرم کیا ہے،جس کی وجہ سے یہ میرے خون کی پیاسے ہیں۔ عوام کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہاتھی کا حافظہ بہت تیز ہوتا ہے اوردنیا میں ہاتھی موجودہیں، دنیا میں کتنے ہاتھی ہیں یہ آپ جانتے ہیں۔ یہ ہاتھی زیادہ نہیں ہیں ان ہاتھیوں کا حافظہ بہت اچھا ہوتا ہے وہ ماضی کو فراموش نہیں کرتے۔یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ جنگ ویت نام کے موقع پر جب میں وزیر خارجہ تھا، پاکستان نے کیا موقف اختیار کیا تھا، پاکستان سے اس وقت کہاگیا تھا کہ وہ غلط فریق کی حمایت کرے اور اگر جو کچھ طلب کر رہے ہیں وہ نہ دے تو کم از کم پنگ پانگ کی گیندیں اور ٹیبل ٹینس کے ریکٹ ہی روانہ کر دے۔ لیکن ہم نے کہہ دیا کہ ہم ایسا نہیں کر سکتے۔ یہ بات ایک ملاقات میں کہی گئی جو ایک اعلیٰ شخصیت سے کراچی میں ہوئی اور یہ شخصیت ہاتھی پر سوار تھی۔ اس نے کہا کہ کیا آپ پنگ پانگ کی گیندیں اور ٹیبل ٹینس کی گیندیں بھی بھیجنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ایوب خان بھی اس ملاقات میں موجود تھے وہ میری طرف دیکھنے لگے۔ میں نے کہا کہ ہم کچھ نہیں بھجیں گے کیونکہ اس کا تعلق اصولوں سے ہے، ہم کسی طور پر بھی غلط فریق کی حمایت نہیں کر سکتے۔ انہوں نے ہاتھی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چین کے ایک ہاتھی سے بڑے اختلافات تھے۔ یہ وقت تھا جب چین کا نام لینا بھی جرم تھا اور اس سے بعض افراد کا بلڈ پریشر تیز ہو جاتا تھا۔ چین سے تعلقات کو بہتر بنانے کے عمل کو بھی نقصان پہنچایا گیا پھر ہم نے مشرق وسطی میں عربوں کی حمایت کی۔ اس پر میں پاکستان کی ماضی کی ہر حکومت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ قائداعظم سے لے کر اب تک ہر حکومت نے عربوں کی حمایت کی۔ لیکن بعض وجوہ کی بنا پر یہ حمایت صرف زبانی تھی جو اعلامیوں اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں تک محدود تھی اور ہمارے عرب بھائی اس کی قدر کرتے تھے لیکن جب میں برسر اقتدار آیا تو میں نے کہا کہ اصل حمایت فوجی حمایت ہوتی ہے۔ میری حمایت صرف زبانی نہیں بلکہ یہ ہے کہ آپ کی (عربوں کی) جنگ ہماری جنگ ہے اور پاکستان کا سپاہی اسلام کا سپاہی ہے۔ یہ بات ان لوگوں کوپسند نہ آئی جو جارحیت کا ارتکاب کرنے والے اور جارحیت کاش کار ہونے والے میں فرق کرنے کے لئے تیار نہ تھے جبکہ میں نے کھل کر کہا کوئی جارح اور کوئی جارحیت کا شکار ہے، یہ کہ عرب جارح ہیں یا صیہونی جارح ہیں اور جارحیت کا شکار کون ہے عرب یا یہودی اوریہی فرق ہے ذوالفقار علی بھٹو میں اور دوسروں میں۔ قومی اتحاد کا کوئی دماغ تیار کر سکتا ہے؟ قومی اتحاد کے پاس ایسا کوئی ذہن ہے جو لوگوں کو بازار سے کم قیمت پر سبزیاں فراہم کر دے اور بیج تقسیم کر دے۔ کیا قومی اتحاد کے پاس ایسی تنظیم ہے ؟ میں صرف ایک مثال دوں گا، ہمارے ملک میں ایسی باتیں کون سوچتا کہ پہیہ جام کریں گے۔ یہ بیرونی خیالات ہیں ایوب خان سے بھی کہا گیا تھا کہ اگر تمہارے خلاف انقلاب آیا تو جوابی اقدام کے طورپر ہم پہیہ جام آپریشن شروع کر ادیں گے۔ اس مقصد کے لئے دو ہزار افراد بھرتی کئے گئے۔ غیر ملکی ماہرین نے ان کو ریلوے اورطیارے روکنے اور پہیہ جام کرنے کے اقدامات کی تربیت دی۔

ہم نے پاکستان کی تعمیر نوکی ہے اس حد تک کہ 1971ءمیں مجھے نیو یارک میں ایک بہت ذمہ دار شخص نے کہا تھاکہ اب پاکستان کا شمار نیپال، بھوٹان، بنگلہ دیش، سکم وغیرہ کے ساتھ ہوگا اوران کے ستقبل سے اس کا تعلق ہوگا ۔ پاکستان تو بھارت کے صوبے یوپی کے برابر نہیں ہے لیکن اب چھ سال بعد 1977ءمیں صورت حال یہ ہو گئی ہے کہ بھارت کے وزیراعظم مرا جی ڈیسائی کہتے ہیں کہ پاکستان اس کا اہم اور بڑا پڑوسی ہے۔ نہ صرف یہ کہ مرار جی ڈیسائی نے یہ بھی کہا کہ بھارت پاکستان سے برابر کے تعلقات چاہتا ہے جبکہ پہلے بھارت علاقے پر بالادستی کا دعویدار تھا اور ڈاکٹر کسنجر کے دورہ کے موقع پر امریکہ نے تسلیم کیا تھا کہ بھارت علاقے کا بالادست ملک ہے۔ لیکن میں نے اس وقت بھی اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تھا اور کہا تھا کہ ہم اس سے صرف برابری کی بنیاد پر تعلقات رکھ سکتے ہیں۔ لیکن اب پاکستان اتنا مضبوط اور مستحکم ہو گیا ہے کہ بھارت نے بالادستی والا موقف ترک کر دیا ہے۔ وزیراعظم بھٹو نے کہا کہ جغرافیائی طور پر پاکستان کی پوزیشن بڑی اہمیت کی حامل ہے ہمیں جو بھی فوائد یا نقصانات مل سکتے ہیں ان کا تعلق اسی فوجی اہمیت کی پوزیشن سے ہے۔ پاکستان کے جنوب میں بھارت ہے جو بہت بڑا ملک ہے، مشرق میں بعض دوسرے ممالک ہیں جن میں برما، بنگلہ دیش، بھوٹان، ملائیشیا اور انڈونیشیا شامل ہیں ۔ پھر مغرب میں افغانستان ہے جو اہم ملک ہے۔ پھر ایران ہے وہ بھی اہم ملک ہے، چین کے ساتھ ہماری 350میل طویل سرحد ملتی ہے جو فوجی اہمیت کی سرحد ہے۔ جہاں سنکیانگ کا حساس صوبہ ہے جو ہمارے شمالی علاقوں سے ملتا ہے، روس اور پاکستان میں صرف 9میل کا فاصلہ ہے یہ کاریڈرواہا کہلاتا ہے۔ پھر ہماری مشرق میں متحدہ عرب امارات اور اومان اور دوسری ریاستیں ہیں۔ اسی جانب سعوی عرب ہے پھر جنوبی مشرق میں بحریہ ررو، یونان وغیرہ ہے۔ اس لحاظ سے پاکستان کی پوزیشن بڑی اہم ہے۔ خدانخواستہ ،

یہ بھی پڑھیں:  غصہ، زندگی کا دشمن

ایٹمی پلانٹ پر میرے قومی مفاد کے مطابق موقف کی وجہ سے یہ بلڈ ہاﺅنڈ میرے خون کے پیاسے ہیں

خدانخواستہ اگر پاکستان کو نقصان پہنچا تو مشرقی محاذ، مغربی محاذ اور عرب محاذ کی طرف بڑی خرابی صورت حال پیدا ہو جائے گی اور اگر پاکستان مستحکم اور مضبوط ہوا تو صورت حال مختلف ہوگی۔ پاکستان کمزور ہوا تو متحدہ عرب امارات، اومان اور سعودی عرب کی پیٹھ میں چھرا گھونپا جاسکتا ہے۔ یہ ہے پاکستا ن کی اہمیت میں بتانا چاہتا ہوں کہ پاکستان میں بڑے پیمانے پر بیرونی مداخلت ہوئی ہے۔ یہ کھیل انتخابی دھاندلی کے نام پر شروع کیا گیا اگر دھاندلی کے خلاف لوگ ریل کی پٹریوں پر لیٹ جاتے ہیںاورس ینے کھول کر کہتے ہیں کہ گولیاں مارو تو ہم نے اس کے لئے طریقہ کار مقرر کر دیا ہے، جس کے ذریعے دھاندلیوں کا ازالہ ہو سکتا ہے۔ پھر جہاں تک شریعت کا مسئلہ تھا ہم نے اس کے لئے اقدامات کئے ہیں۔ لیکن اب مولانا مودودی اور بیگم نسیم ولی خان کہتے ہیں کہ یہ اصل مسئلہ ہے بھی نہیں۔ حالانکہ انہیں باجوہ نے جب وہ قومی اتحاد کے سیکرٹری جنرل تھے، کہا تھا کہ اگر حکومت نظام مصطفیﷺ لے آئے تو ہم دستبردار ہو جائیں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اصل مسئلہ دھاندلی یا شریعت کا نہیں اس رقم کا ہے جو ملک میں بڑے پیمانے پر بکھیری جارہی ہے۔ اب وہ میرا استعفیٰ مانگتے ہیں۔ اس وزیراعظم کا استعفیٰ جسے دوبارہ عوام نے منتخب کیا ہے۔ یہ اعزاز لیاقت علی خان، غلام محمد، ناظم الدین کسی کو حاصل نہ رہا، پھر میری پارٹی میں گھسنے کی بھی کوشش کی۔ وزیروں کو، ارکان اسمبلی کو ورغلانے کی کوشش کی، ہر بیرونی اخبار نویس سوال کرتا ہے کہ آپ کب مستعفی ہوں گے ، میں نے تو ان سے نہیں پوچھا کہ لہان کب مستعفی ہوں گے، جو صرف ایک رکن کی اکثریت سے اور لبرل کی حمایت سے حکومت برقرار رکھے ہوئے ہیں اور جنہوں نے نادردن آئی لینڈ میں مارشل لاءلگا رکھا ہے وہ کیلہان سے اسمتھ سے مستعفی ہونے کے لئے کیوں نہیں پوچھتے؟آخر سارا نزلہ ذوالفقار علی بھٹو پر ہی کیوں گر رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہاتھی کا حافظ بہت تیز ہوتا ہے۔ اس کو معلوم ہے کہ میں پاکستان کے استحکام کا ستون ہوں، پاکستان کے استحکام کی علامت ہوں، اس لئے وہ مجھے ہٹانا چاہتے ہیں۔ یہ مسئلہ فرد کا نہیں بلکہ اس کا ہے کہ وہ فرد یعنی ذوالفقار علی بھٹو چاہتا کیا ہے۔ میں نے جب اسلامی کانفرنس بلائی تو اسے ایک ماہ ملتوی کرنے کے لئے کہا گیا، میں نے اسے ملتوی کر دیا۔ پھر ایک ماہ کے لئے ملتوی کرنے کو کہا جو میں نے کردی، جب تیسری بار اسے ملتوی کرنے کے لئے کہاگیا تو میں نے شاہ فیصل کو خط لکھا۔ انہوں نے مجھ سے مکمل اتفاق کیا اور لکھا کہ کانفرنس فروری میں پاکستان میں ہوگی اور مزید التوا نہ ہوگا۔پھر جب اکتوبر میں کسنجر پاکستان آئے اور مجھ سے بات ہوئی انہوں نے کیا کہا اور میں نے کیا جواب دیا، یہ میں نہیں بتاﺅں گا وہ کتاب لکھ رہے ہیں شاید اس میں ذکر کریں یا نہ کریں۔ وزیراعظم نے کہا یہ اسلامی کانفرنس تھی، جس کے بعد یاسر عرفات نے اقوام متحدہ سے خطاب کیا اورتنظیم آزادی فلسطین کو تسلیم کیا گیا۔ پھر ہم نے یونان اور ترکی کا تنازعہ طے کرانے کی کوشش کی۔ اس طرح کوریا نے بھی باہمی تنازعہ طے کرانے کے لئے پاکستان سے رجوع کیا۔ ہاتھی نے ان سب باتوں کو پسند نہ کیا کہ پاکستان کہ یہ مقام حاصل ہو،اپوزیشن نے پانی انتخابی مہم میں ہر بات کا ذکر کیا اور گالیاں تک دیں لیکن ایک نہایت اہم بات چھوڑ دی اس پر کھ نہ بولے اور وہ اہم مسئلہ پاکستان اور فرانس کے درمیانی ایٹمی پلانٹ کی خریداری کے معاہدے کا تھا جبکہ ان کو معلوم تھا کہ اس مسئلہ پر زبردست عالمی دباﺅ ہے۔ ہر سوال پوچھاگیا لیکن یہ نہ پوچھا گیا کہ اس معاہدے پر کیا کیا جانے والا ہے، انہیں مجھ سے پوچھنا چاہئے تھا کہ آپ اس معاہدے کو ختم کریں گے یا اسے مکمل کریں گے۔

آخر میں ذاتی منفعت کے لئے تو یہ معاہدہ نہیں کیا تھا، یہ لوگ میرے خون کے پیاسے کیوں ہیں۔ صرف اس لئے کہ میں نے اس مسئلے پر قومی مفاد میں موقف اختیار کیا۔

اسی طرح تیسری دنیا کی کانفرنس سے بھی وہ پریشان ہیں کہ اس شخص نے آزادانہ فیصلے کئے ہیں۔ ہمارے لئے مصیبت کا سبب بن گیا ہے۔ میری حکومت کی یہ پالیسی نہیں ہے کہ ہم ایٹم بم بنائیں ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم کو ایٹمی ٹیکنالوجی میں آگے بڑھنے سے کیوں روکا جائے۔ اگر ہم جنگ کے لئے نہیں بلکہ پر امن مقاصد کے لئے تمام ضمانتیں دیتے ہوئے ایٹمی ٹیکنالوجی میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اسےس روکنے کا کیا جواز ہے۔ صرف اس لئے کہ پاکستان کو اس کی صلاحیت ہی حاصل نہیں ہونی چاہئے۔ جب کسنجر آئے تو انہوں نے ایٹمی پلانٹ کے بارے میں سخت موقف اختیار کیا۔ پھر وہ فرانس گئے اور وہاں کے اخبارات میں خاصی ہنگامہ آرائی رہی۔ پھر مجھ سے کہا گیا کہ میں اس پر مذاکرات کروں ، میں نے کہا کہ آپ انتخاب ہو جانے دیں اس کے بعد پھرمذاکرات کے لئے کہا گیا تو میں نے کہا کہ اب میرا انتخاب ہو رہا ہے۔ ایٹمی پلانٹ پر میرے قومی مفاد کے مطابق موقف کی وجہ سے یہ بلڈ ہاﺅنڈ میرے خون کے پیاسے ہیں۔ عوام کو اصل کہاین سے ضرورواقف ہونا چاہئے۔ کل تک میں خاموش رہا۔ اب عوام کو معلوم ہونا چاہئے کہ بہت بڑی سازش ہے۔ میں نے اب تک بڑے صبر وتحمل سے کام لیا ہے۔ یہ کوئی دیسی سازش نہیں یہ بین الاقوامی سازش ہے۔ لیکن میں نے ماضی میں بھی سازشوں کا مقابلہ کیا اور اس کا بھی کروں گا۔

میں اقتدار سے چمٹا نہیں رہنا چاہتا۔ لیکن میں اپنا مشن مکمل کر کے رہوں گا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ صلاحیت دی ہے کہ میں ملک کی خدمت کروں ، میں نے عورتوں، مزدوروں اور کسانوں کوآزادی دلائی اور اجارہ داری ختم کی، اس طرح مشن کا پہلا حصہ تو مکمل ہوگیا۔ میں چاہتا ہوں کہ افغانستان سے باعزت اور باوقار سمجھوتہ ہو جائے، اس معاملے کو کافی حد تک آگے بڑھایا جا چکا ہے۔ صدر داﺅد سے گزشتہ جون کے مذاکرات میں بڑی حد تک اجمالی مفاہمت ہو چکی ہے۔ دوسرے یہ کہ میں مسلح افواج کی صلاحیت کو بھی مزید بڑھانا چاہتا ہوں۔ جس کے لئے میں 1963ءسے کوشاں ہوں ۔ تیسرے یہ کہ کشمیر کے مسئلے کو ہم باوقار اور باعزت طور پر حل کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔ تاہم اس میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔ اس طرح میں کہہ سکتا ہوں کہ پہلے دو کام یقینا مکمل کر لوں گا اور تیسرے کے مکمل کرنے کی بھی پوری توقع کرتا ہوں اور پھر ضروری نہیں کہ آدمی اپنے عظیم مشن ضرور مکمل کرے۔ ماﺅزے تنگ بھی اپنے تمام مشن مکمل نہ کر سکے۔

نفاذ شریعت کا مطالبہ کرنے والے اب اسے اصل مسئلہ تسلیم نہیں کرتے، نظام مصطفیﷺ کے نام پر اپوزیشن نے ملک میں جنون پھیلا دیا تھا لیکن اب مولانا مودودی جیسی شخصیت یہ کہہ رہی ہے کہ یہ اصل مسئلہ نہیں ہے۔ اس سے اپوزیشن کے عزائم بے نقاب ہو گئے ہیں۔ کراچی، حیدر آباد اور لاہور میں مارشل لاءآئین کے تحت لگایا گیا ہے۔ جب کہ 1958ءاور 1969ءکے مارشل لاءنے آئین کو توڑ دیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں