imran_khan_tajk_President-1

افغانستان میں انتشار پھیلنے کی صورت میں ہماری تجارت بھی متاثر ہوگی اور دہشت گردی بڑھنے کا بھی خدشہ ہے:وزیراعظم

EjazNews

تاجکستان کے صدر امام علی رحمن اور وزیر اعظم عمران خان نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ اس پریس بریفنگ میں وزیراعظم عمران خان کا کہناتھا تاجکستان کے صدر کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتا ہوں۔پاکستان اور تاجکستان کے درمیان تجارت بہت اہمیت رکھتی ہے اور تجارت کے شعبے میں دونوں ممالک کے روابط مضبوط ہوں گے جس میں گوادر کنیکٹیوٹی بہت اہمیت رکھتی ہے، جبکہ تاجکستان کے ساتھ تعلیم اور دفاع کے شعبے میں بھی معاہدے کیے ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اور تاجکستان کو مستقبل کے حوالے سے کئی مشترکہ چیلنجز کا سامنا ہے، تاجکستان سے تجارت اور کنیکٹیوٹی بڑھانے کے لیے افغانستان میں امن بہت ضروری ہے، دونوں ممالک کو یہ خدشہ ہے کہ امریکا کے انخلا تک افغانستان میں سیاسی تصفیہ نہ ہوا تو کہیں سوویت یونین کے چھوڑ کر جانے کے بعد والی صورتحال نہ پیدا ہوجائے جو دونوں ممالک کے لیے بہت نقصان دہ ہوگی۔افغانستان میں انتشار پھیلنے کی صورت میں ہماری تجارت بھی متاثر ہوگی اور دہشت گردی بڑھنے کا بھی خدشہ ہے، ابھی بھی پاکستان کو افغانستان سے دہشت گردی کا سامنا ہے اور استحکام نہ ہونے کی وجہ سے بڑھ جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:  افغانستان کے ساتھ ملتی سرحدوں پر حالات کنٹرول میں ہیں:میجر جنرل افتخار بابر

ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے لیے یہ بہت اہم ہے کہ افغانستان میں سیاسی تصفیہ ہو تاکہ جب امریکا وہاں سے جائے تو استحکام ہو اور ایسی متفقہ حکومت ہو جو اس انتشار کو روک سکے، اس لیے دونوں ممالک نے اتفاق کیا ہے کہ دیگر ممالک کو ساتھ ملا کر افغانستان میں سیاسی تصفیے کی کوشش کی جائے گی۔

پاکستان اور تاجکستان نے مختلف شعبوں میں تعاون کے لیے معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کر دئیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور تاجکستان کو جو دوسرا مشترکہ چیلنج درپیش ہے وہ موسمیاتی تبدیلی کا ہے، گلوبل وارمنگ کی وجہ سے درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، تاجکستان کا بھی پورا پانی گلیشیئرز سے آتا ہے جبکہ پاکستانی دریاوں میں بھی 80 فیصد پانی گلیشیئرز سے آتا ہے، اس لیے ہم نے عالمی سطح پر اس حوالے سے زیادہ آواز بلند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان علاقائی فوائد اس وقت حاصل کر سکتا ہے جب خطے میں امن ہو، بھارت کی طرف سے 2019 میں مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے یکطرفہ اقدام اٹھائے جانے کے بعد ہمارے لیے ان کے ساتھ تجارت معمول پر لانا بہت مشکل ہے، کیونکہ یہ کشمیریوں کی قربانیوں کے ساتھ غداری ہوگی، لہٰذا بھارت جب تک یہ اقدامات واپس نہیں لیتا ہمارے تعلقات بہتر نہیں ہو سکتے جس کا نقصان ان دونوں ممالک کے علاوہ پورے وسطی ایشیا کو ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:  وزیراطلاعات کی کابینہ اجلاس کے بعد پریس بریفنگ

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے درمیان اسلاموفوبیا کے حوالے سے بھی بات ہوئی، مغرب میں آزادی اظہار کے نام پر نبیﷺ کی شان میں گستاخی کی جاتی ہے جبکہ اسلام کو دہشت گردی اور انتہا پسندی سے جوڑ دیا جاتا ہے اور کسی دوسرے مذہب کو نہیں جوڑا جاتا، ان دو وجوہات کی وجہ سے اسلاموفوبیا پھیل رہا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ نیب کی تاجک کرپشن بیورو سے جو ایم او یو پر دستخط ہوئے ہیں یہ بھی بہت اہم ہے کیونکہ اقوام متحدہ کے پینل کے مطابق ترقی پذیر ممالک سے ہر سال ایک ہزار ارب روپے بیرون ممالک آف شور اکاونٹس میں جاتے ہیں اس لیے اس حوالے سے بھی باہمی تعاون ضروری ہے۔

جبکہ تاجکستان کے صدر امام علی رحمن کا کہنا تھا پاکستان کو دوست ملک اور قابل بھروسہ پارٹنر سمجھتے ہیں۔وزیر اعظم عمران خان سے آج کی ملاقات روایتی دوستانہ ماحول میں ہوئی جس میں مختلف امور پر تبادلہ خیال ہوا، جبکہ تاجکستان دونوں ممالک کے اعلیٰ وفود کے درمیان ملاقات سے مطمئن ہے۔وفود کی سطح پر تعمیری بات چیت کے دوران دونوں ممالک کے بین الجہتی تعلقات پر گفتگو ہوئی اور کئی دوطرفہ معاملات پر نکتہ نظر میں مماثلت پائی گئی۔تاجکستان، پاکستان کو دوست ملک اور قابل بھروسہ پارٹنر سمجھتا ہے، ہم دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح پر مسلسل روابط سے مطمئن ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  میرے قبر میں جانے کے بعد بھی میرے خلاف پبلک فنڈ میں کرپشن کا ایک دھیلا بھی نکل آئے تو میری لاش کو نکال کر پول پر لٹکا دیا جائے:میاں شہبازشریف

تاجک صدر نے کہا کہ آج دوطرفہ تعاون کے فروغ کے لیے مختلف شعبوں میں معاہدوں اور ایم او یوز پر دستخط سے دونوں ممالک کے درمیان کثیرالجہتی تعلقات کو مزید تقویت ملے گی اور وہ وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوں گے۔تجارتی تعلقات کا فروغ دونوں ممالک کا مشترکہ مقصد ہے، ہم نے تجارت اور تکنیکی تعاون کے لیے مشترکہ بین الحکومتی کمیشن کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔
امام علی رحمن نے وزیر اعظم عمران خان کو تاجکستان کے دورے کی بھی دعوت دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں