KP_Government_deleep home

دلیپ کمار اور راج کپور کے آبائی گھر صوبائی حکومت نے قبضہ کیسے لیا ہے؟

EjazNews

بھارتی فلم نگری کے لیجنڈ اداکاردلیپ کمار اورراج کپور کے آبائی گھروں کے مالکان نے ڈپٹی کمشنرپشاور کو تحریری اعتراضات جمع کراتے ہوئے مکانات فروخت کرنے سے انکار کردیا تھا۔

صوبائی حکومت نے دلیپ کمار اورراج کپورکے آبائی گھروںکو میوزیم میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے لئے سیکشن چار،چھ اور 17نافذ کررکھے ہیں مالکان کو حتمی نوٹس جاری کئے گئے تھے۔

راج کپور کی حویلی کے مالک نے کہا ہے کہ مذکورہ گھر نہایت خستہ حالت میں ہے اور کسی بھی وقت منہدم ہوسکتا ہے علاوہ ازیں راج کپور حویلی میوزیم کے لئے مناسب نہیں اور اس کی قیمت ایک ارب روپے سے زائد ہے جو حکومتی خزانے پر بوجھ کے مترادف تھے ۔

دلیپ کمار کے مکان کے مالک نے بھی گھر فروخت کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس مقام پر کمرشل پلازہ تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اگر حکومت اس گھر کو خریدنا چاہتی ہے تو کم ازکم 35کروڑ روپے 15فیصد ایکوزیشن چارجز اور مارکیٹ کے مطابق شرح منافع ادا کرے کیونکہ پچھلے دس سالوں سے گھر کی خریداری کے مسئلہ کے باعث اسے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔

ڈپٹی کمشنر نے مالکان کو 18مئی 2021 تک اعتراضا ت جمع کرانے کے احکامات جاری کئے تھے اب ضلعی انتظامیہ دونوں اعتراضات پر فیصلہ سنائے گی ۔

اعتراضات کی دستاویزات کے مطابق راج کپور حویلی کے مالک برکت علی نے تحریری اعتراضات پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس جائیداد کو وقف املاک قرار دیا گیا تھا اور اسے سال 1968 میں کھلی نیلامی کے ذریعے فروخت کیا گیا جس کو حاجی خوشحال رسول (مرحوم) نے خریدا تھا۔ تاہم بعدازاں حاجی خوشحال رسول نے مذکورہ جائیداد درخواست گزاروں کو فروخت کردی تھی جس کا مکمل ریکارڈ موجود ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:  میاں شہباز شریف کی تقریر تیسرے روز بھی مکمل نہ ہو سکی
Rajkapoor_home_peshawar
راج کپور کی حویلی کا منظر

درخواست گزاروں نے مکان کا قبضہ 1971میں حاصل کرلیا تھااور گھر درخواست گزاروں کے استعمال میں ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کسی کو جائیداد فروخت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں کیونکہ درخواست گزار پرانی عمارت کو مسمار کرکے قواعد و ضوابط کے مطابق نئی عمارت تعمیر کرنا چاہتے ہیں جس کے لئے تمام شرائط کو پورا کیا گیا تھا۔

مالک کے مطابق مذکورہ جائیداد انتہائی قیمتی ہے اور جب بھی پرانی عمارت کو مسمار کرکے نئی عمارت تعمیر کرنے کی کوشش کی گئی تو آرکائیوز ڈیپارٹمنٹ نے رکاوٹیں پیدا کیں جس کی وجہ سے نئی عمارت تعمیر نہ ہوسکی حالانکہ اسسٹنٹ میونسپل آفیسر نے عمارت مسمار کرکے نئی عمارت تعمیر کرنے کا نوٹس بھی دیا تھا کیونکہ عمارت کے گرنے کا خدشہ بھی ہے ۔ درخواست کے مطابق حویلی گنجان آباد علاقے میں واقع ہے جس میں میوزیم کا قیام موزروں نہیں ۔

علاوہ ازیں مذکورہ جائیداد کی قیمت ایک ارب سےزائد ہے تاہم بھاری رقم کی ادائیگی سے حکومت پر بوجھ پڑے گا۔حکومت موجودہ جائیداد کے حصول کے لئے نوٹس واپس لے اور عجائب گھر کے لئے کوئی موزوں جگہ کا انتخاب کرے ۔

اعتراضات کی دستاویزات کے مطابق دلیپ کمارکے مکان کے مالکان ، گل رحمن مہمند ، کاشف نسیم اور عبد الجلیل فقیر نے ڈی سی پشاور کو تحریری جواب جمع کرایا ہے اور کہا ہے کہ آج تک انھیں کوئی نوٹس نہیں ملا۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ مذکورہ مکان کوئی قدیم عمارت نہیںکیونکہ اس نے اپنی قدر کھو دی ہے اور یہ انتہائی خستہ حالت میں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہے جس میں داخل ہونا بھی ممکن نہیں رہا لہٰذا اس کو محفوظ نہیں بنایا جاسکتا ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اس سے قبل بھی ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا جس کے باعث طویل عرصے سےانہوں نے مذکورہ مکان کی دیکھ بھال نہیں کی اور بارشوں کی وجہ سے یہ اپنی اصل حالت سے محروم ہوکرکےاب صرف ملبے کا ڈھیر ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:  فاشسٹ مودی حکومت نہ صرف بھارتی اقلیتوں بلکہ خطے کے لیے بھی خطرہ ہے:وزیراعظم

جب پرانا اعلامیہ واپس لیا گیاتو درخواست گزار نے گھر کے راستہ اور ایک ایک دکان خریدی جس کے لئے 60لاکھ روپے اداء کئے جس کے باعث اب اس مقام پر فی مرلہ قیمت کم ازکم سات کروڑ روپے ہے ۔درخواست گزار کا ارادہ تھا کہ دو تہہ خانے اور گراؤنڈ فلور کے ساتھ 7 منزلہ کمرشل مارکیٹ تعمیر کرے اور اگر یہ مارکیٹ تعمیر ہوتی ہے تو مارکیٹ سے ماہانہ آمدنی پانچ لاکھ روپے ہوگی جس میں روز بروز اضافہ ہوگا ۔چونکہ گھر ہی آمدن کا واحد ذریعہ ہے لہٰذا حکومتی اعلامیہ واپس لیا جائے ۔

Dilip Kumar
دلیپ کمار کا آبائی گھر

درخواست دہندہ گذشتہ 10 سالوں سے شدید مشکلات کا شکار ہے کیونکہ سرکاری نوٹیفکیشن کی وجہ سے تعمیر کا کام شروع نہیں ہوا جس کے باعث تعمیراتی لاگت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔تاہم اگر اس کے باوجود صوبائی حکومت مذکورہ گھر خریدنا چاہتی ہے تو اسے کم از 35کروڑ روپے ، 15فیصد لازمی حصول اراضی چارجز اور مارکیٹ کے مطابق منافع ادا کرے کیونکہ اس نے پچھلے دس سالوں میں بہت نقصان اٹھایاہے ۔

ڈپٹی کمشنر پشاور نے بھارتی فلم نگری کے لیجنڈ اداکاروں دلیپ کمار اورراج کپور کے آبائی گھروں کو حکومتی ملکیت میں لینے کے لئے ایوارڈ کا اعلان کردیا ہے جس کے بعدصوبائی حکومت نے رات گئے مذکورہ گھروں کاقبضہ لے لیا۔

یہ بھی پڑھیں:  افغانستان کی شکست کے بعد سیمی فائنل پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہوگا

دونوں گھروں کی ملکیت ڈائریکٹرآرکیالوجی اینڈ میوزیم کے نام منتقل کردی گئی ہے۔محکمہ آرکیالوجی اینڈ میوزیم نے ضلعی انتظامیہ کی مدد سے دونوں گھروں کا قبضہ حاصل کرلیا ہے ۔

تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے 2020میں دونوں گھروں کو خرید کران کو عجائب گھروں میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ڈپٹی کمشنر پشاور کے دفتر سے جاری کردہ دو خطوط کے مطابق محکمہ آرکیالوجی اینڈ میوزیم پشاو رنے دونوں گھروں کو خریدنے کافیصلہ کیا تھا جس کے لئے لینڈ ایکوزیشن ایکٹ 1894کے تحت سیکشن چار ،چھ اور 17نافذ کوکیا گیا مالکان کو اعتراضات جمع کرانے کے لئے حتمی نوٹس جاری گئے گئے۔

دونوں مکانات کے مالکان کو18مئی 2021 تک اعتراضات جمع کرانے کی ہدایت کی گئی تھی۔دونوں گھروں کے مالکان نے مکانات فروخت کرنے سے انکار کرتے ہوئے اعتراضات جمع کرائےتھے تاہم ڈپٹی کمشنر نے مالکان کے تمام اعتراضات مسترد کرتے ہوئے ایوارڈ کا اعلان کردیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر پشاور خالد محمود نے دلیپ کمار کے گھر کی قیمت 80لاکھ 56ہزار روپے مقر رکی ہے ۔دلیپ کمار کا گھر چارمرلے پر مشتمل ہے جو قصہ خوانی کی پشت پر محلہ خداداد میں واقع ہے اسی طرح راج کپورکے گھر کی قیمت ایک کروڑ پچاس لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے جو چھ مرلے پر مشتمل ہے اور ڈھکی دالگراں میں واقع ہے ۔دونوں گھروں کے مالکان اعتراضات کی صورت میں عدالت سے رجو ع کرسکیں گے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں