Budget

بجٹ 2021-22کیلئے کیا تجاویز ہیں؟

EjazNews

وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس سات جون کو بلانے کی تجویز ہے۔ اجلاس میں آ ئندہ مالی سال کے ترقیاتی بجٹ اور شرح نمو کے ہدف کی منظوری دی جا ئے گی ۔

آئندہ مالی سال کے وفاقی ترقیاتی بجٹ کا حجم 9 سو ارب روپے اور شرح نمو کا ہدف 4.8 فیصد مقرر کرنے کی تجویز ہے-

اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزراء اعلی سمیت کونسل ارکان اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام شرکت کریں گے۔

یکم جولائی سے شروع ہونے آئندہ مالی سال 2021-22کے لئے شرح نمو کا ہدف چار اعشاریہ آٹھ فیصد مقرر کرنے کی تجویز ہے جبکہ رواں مالی سال شرح نمو کا تخمینہ دو اعشاریہ ایک فیصد کے مقررہ ہدف کے مقابلے میں تین اعشاریہ نو چار فیصد لگایا گیا ہے۔ آئندہ مالی سال کیلئے زرعی شعبے کا ہدف تین اعشاریہ چار فیصد ۔مینوفکچرنگ چھ اعشاریہ دو فیصد اور خدمات شعبے کا ہدف چار اعشاریہ سات فیصد مقرر کرنے کی تجویز ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:  جمعیت علمائے اسلام کو مارچ کی اجازت مل گئی پر شرائط کے ساتھ

نئے مالی سال کے وفاقی ترقیاتی بجٹ کا حجم رواں مالی سال کے مختص ساڑھے چھ سو ارب روپے کے مقابلے میں ڈھائی سو ارب روپے اضافے کے ساتھ نو سو ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔آئندہ مالی سال کے وفاقی ترقیاتی بجٹ کے تحت بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کیلئے 509 ارب 23 کروڑ 90 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے-توانائی کے منصوبوں کیلئے 103 ارب 55 کروڑ 50 لاکھ روپے۔آبی منصوبوں کیلئے 99 ارب 40 کروڑ روپے۔

ٹرانسپورٹ اینڈ کمیونیکیشن کے لئے 265 ارب 34 کروڑ 50 لاکھ روپے اور فیزیکل پلاننگ اینڈ ہاوسنگ کیلئے 40 ارب 93 کروڑ 90 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

اسی طرح آئندہ مالی سال سماجی اور علاقائی مساوات پروگرام کیلئے 302 ارب 71 کروڑ روپے اور سماجی شعبے کیلئے 169 ارب 71 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویزہے۔صحت کے منصبوں کیلئے 28 ارب روپے- تعلیم و تربیت کے منصوبوں کیلئے 5 ارب 12 کروڑ 80 لاکھ روپے۔

یہ بھی پڑھیں:  نواز شریف کو علاج کی تمام سہولیات دی جائیں: وزیراعظم عمران خان

ہائر ایجوکیشن کمیشن کیلئے37 ارب روپے۔ماحولیات کے منصبوں کیلئے 15 ارب 26 کروڑ 10 لاکھ روپے۔افرادی قوت اور روزگار کے منصوبوں کیلئے 5 ارب 13 کروڑ 90 لاکھ روپے-ایس ڈی جیز کیلئے 74 ارب روپے-ضم شدہ اضلاع کیلئے 54 ارب روپے۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے خصوصی علاقوں کیلئے 45 ارب روپے جبکہ شمال و جنوبی بلوچستان پیکجز-سندھ ڈویلپمنٹ پلان اور گلگت بلتستان پلان کیلئے 34 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

آئندہ مالی سال وفاقی ترقیاتی بجٹ کے تحت گورننس کے منصوبوں کیلئے 5 ارب 74 کروڑ 60 لاکھ روپے۔سائنس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کیلئے 29 ارب 39 کروڑ 60 لاکھ روہے-صنعتوں3 ارب 47 کروڑ 30 لاکھ اور خوراک و ذراعت کے منصوبوں کیلئے 12 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں